Book Name:Tazkirah-e-Sadr-ul-Afazil

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل کی شاعری

        اللّٰہ  تَعَالٰی نے حضرتِ صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل کو شعر گوئی کا بڑا پاکیزہ ذَوق بخشا تھا۔ عَرَبی، فارسی اور اردو میں بڑی رَوانی سے شِعر کہتے تھے، بُلند و بالاتَخَیُّلات کو اِس عمدَگی اور خوبی سے ادا کرتے کہ سننے والا جھوم جھوم جائے، لیکن اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی طرح آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا سرمایۂ شاعری حمد ونعت ، مَنْقَبت اور نصیحت آموز اشعار تک محدود ہے ۔ صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل کی شاعِری کے مجموعے کا نام ’’ریاضُ النَّعیم‘‘ ہے۔ فکرِ آخرت سے معمور چند اشعار ملاحظہ ہو ں ۔    ؎

فَصاحت سے کہتے ہیں مُوئے سفید      کہ ہُشیار ہو، اب سَحَر ہوگئی

خُودی سے گزر، چل خدا کی طرف       کہ عمرِ گِرامی، بسر ہوگئی

غم و خونِ دل کھاتے پیتے رہے        غریبوں کی اچھّی گزر ہوگئی

   نعیمِؔ خطا کار مغفور ہو               جو شاہِ جہاں کی نظر ہوگئی

ایک نعت شریف کے چند اشعار ملاحَظہ ہوں  ۔    ؎

دیکھئے سیمائے انور، دیکھئے رُخ کی بہار          مہرِ تاباں دیکھئے، ماہِ دَرَخشاں دیکھئے

دیکھئے وہ عارِض اور وہ زُلْفِ مُشکیں دیکھئے        صبحِ روشن دیکھئے ، شامِ غریباں دیکھئے

جلوہ فرما ہیں جبینِ پاک میں آیاتِ حق          مُصحَف رُخ دیکھئے تفسیرِ قرآں دیکھئے

یہ نعیمِ ؔزار کیسا ہِجْر میں بے تاب ہے            دیکھئے اِس کی طرف، اے شاہِ شاہاں دیکھئے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

تصنیف وتالیف

          حضرتِ سیِّدُنا صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل نے بے پناہ دینی و ملّی مصروفیات کے باوُجود تصنیف و تالیف کا بڑا ذخیرہ یادگار چھوڑا ۔آپ نے ۱۳۴۳ھ بمطابق 1924ء  میں مرادآبادسے ماہنامہ ’’اَلسَّوَادُ الْاَعْظَم ‘‘جاری فرمایاجس میں مسلمانوں کی خوب تربیت فرمائی ، آپ کی یادگارکتب یہ ہیں :  (۱) تفسیر خزائن العرفان (۲)نعیم البیان فی تفسیر القرآن (۳)الکلمۃ العلیا لاعلاء علم المصطفیٰ (۴)اطیب البیان در رد تقویۃ الایمان (۵)اسواط العذاب علی قوامع القباب (۶)آداب الاخیار (۷)سوانح کربلا (۸)سیرت صحابہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم (۹)التحقیقات لدفع التلبیسات (۱۰)ارشاد الانام فی محفل لمولود والقیام (۱۱)کتاب العقائد (۱۲)زاد الحرمین (۱۳)الموالات (۱۴)گلبن غریب نواز (۱۵)شرح شرح مائۃ عامل (۱۶)پراچین کال (۱۷)شرح بخاری (نامکمل غیر مطبوع) (۱۸)شرح قطبی (نامکمل غیر مطبوع) (۱۹)ریاض نعیم (مجموعہ کلام) (۲۰)کشف الحجاب عن مسائل ایصال ثواب (۲۱)فرائد النور فی جرائد القبور۔

خیرخواہی

        خلیفۂ صَدْرُ الافاضِل حضرت مولانا مفتی سیدغلام معین الدین نعیمی علیہ رحمۃ اللّٰہ الغنی کا بیان ہے کہ صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل کے وصال سے تین روز قبل کا واقعہ ہے کہ میرے کان میں شدید درد تھا اور بے ساختہ سوتے جاگتے کان پر ہاتھ جاتا تھا۔ آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے صبح کے وقت اِشارے سے قلم دوات طلب فرمائی ۔حکم کی تعمیل کردی گئی، آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے بیماری کی حالت میں لکھا :   ’’میں رات کو دیکھتا ہوں کہ بے اختیار بار بار تمہارا ہاتھ کان پر جاتا ہے جاؤ! ڈاکٹر مشتاق کو دکھاؤ۔‘‘

 ذکر اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی عادت

        انہی کا بیان ہے :  صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل کا معمول تھا کہ اٹھتے بیٹھتے حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْل نِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِیْر پڑھتے تھے۔ علالت کے زمانے میں یہ شوق مزید بڑھ گیا تھا ۔اپنی وفات سے کچھ ایّام قبل کلمۂ شہادت اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِٰلہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ پڑھتے رہتے تھے۔ ایک روز مجھ سے فرمایا :  ’’ شاہ جی ! گواہ رہنا جب مجھے افاقہ ہوتا ہے، تو میں کلمۂ شہادت پڑھتا ہوں ۔ ‘‘ غالباً یہ ’’اَنْتُمْ شُھَدَائُ اللّٰہِ فِی الْاَرْض (یعنی تم زمین پر اللّٰہ  تَعَالٰی کے گواہ ہو)‘‘ ارشادِ نبوی کے ماتحت عمل فرمایا گیا، ورنہ کہاں میں اور کہاں اس بُقْعَۂ نور کے لیے شہادت(یعنی گواہی)!

وقتِ رُخْصَت  کے حالات

        انہی کا بیان ہے :  گیارہ بجے کا وقت تھا، صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل  نے اپنی سہ دری کے تینوں دروازے بند کرادیئے۔کمرے میں میرے اور حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے سوا کوئی نہ تھا۔ تھوڑی دیر مجھ سے گفتگو فرمائی ، اس کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ خاموش ہوگئے۔تقریباً ساڑھے گیارہ بجے فرمایا ، پنکھا کھول دو، میں نے کھول دیا، پھر فرمایا :   کم کردو، میں نے اس کی رفتار نمبر2 پر کردی، پھر فرمایا اور کم کردو، میں نے نمبر 3 پر رفتار کردی، کچھ وقفے کے بعد فرمایا اور کم کردو، اب میں نے پنکھے کا رُخ دیوار کی طرف کردیا، تاکہ دیوارسے ٹکرا کر ہوا پہنچے کچھ وقفے کے بعد فرمایا :   بند کردو۔ اس کے بعد فرمانے لگے :   میرا بازو دباؤ۔ چُنانچِہ میں چار پائی کی داہنی جانب بیٹھ کر بازو اور کمر دبانے لگا، دیکھا کہ زَبانِ اقدس سے کچھ فرمارہے ہیں اور چہرئہ اقدس پر بے حد پسینہ ہے۔میں نے رومال سے  چہرے کا پسینہ خشک کیا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے نظرِ مبارَک اٹھا کر میری طرف ملاحَظہ فرمایا، پھر آواز سے کلمۂ پاک  لَا اِٰلہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ پڑھنا شروع کیا۔ لیکن دَم بدم آواز پست سے پست ہوتی چلی گئی، ٹھیک بارہ بج کر 25 مِنَٹ پر مجھے پھیپھڑوں کی حَرَکت بند ہوتی معلوم ہوئی، خود ہی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے رُو بقبلہ ہو کر اپنے ہاتھ پیر سیدھے کرلئے تھے۔یوں ۱۹ذوالحجۃ الحرام ۱۳۶۷ھ کوکلمہ شریف پڑھتے ہوئے جانِ پاک، جانِ آفریں کے سِپرد ہوئی۔

 



Total Pages: 7

Go To