Book Name:Tazkirah-e-Sadr-ul-Afazil

رِضائے احمد اِسی میں سمجھوں کہ مجھ سے احمد رضا ہوں راضی

        آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ 80سال کی عمر میں چار دن بخار میں مبتلا رہ ہو کرکلمۂ پاک کا وِرد کرتے ہوئے اس دُنیا سے رُخصت ہوئیْ۔ حضرت کے انتقالِ پُر مَلال کی خبر جب اعلیٰ حضرت امام اہل سنت علیہ رحمۃُ ربِّ العِزَّۃ کو ’’کوہِ بھوالی ‘‘میں پہنچی تو آپ نے  جومکتوبِ گرامی تعزیت میں ارسال فرمایااُس کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے :  

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمْ ، مَوْلٰنَا الْمُبَجَّلُ الْمُکَرَّمُ ذِی الْمَجْدِ وَالْکَرَمِ حَامِیُ السُنَنْ مَاحِیُ الْفِتَنْ جُعِلَ کَاِسْمِہٖ نَعِیْمُ الدِّینْ    اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ ، اِنَّ لِلّٰہِ مَا اَخَذَ وَمَا اَعْطٰی وَکُلُّ شَیْئٍ عِنْدَہٗ بِاَجَلٍ مُّسَمّٰی اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَھُمْ بِغَیْرِ حِسَابْ وَاِنَّمَا الْمَحْرُوْمُ مَنْ حُرِمَ الثَّوَابْ، غَفَرَلَہٗ اللّٰہُ الْمَوْلٰنَا مُعِیْنَ الدِّینْ وَرَفَعَ کِتَابَہٗ فِیْ عِلِّیِّیْنْ، وَبَیَّضَ وَجْھَہٗ یَوْمَ الدِّینْ، وَاَلْحَقَہٗ بِنَبِیِّہٖ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ عَلَیْہِ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَاَزْوَاجِہٖ اَجْمَعِینْ وَاَجْمَلَ صَبْرَکُمْ وَاَجْزَلَ اَجْرَکُمْ وَجَبَرَ کَسْرَکُمْ وَرَفَعَ قَدْرَ کُمْ۔ اٰمِین  (یعنی :  السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! بے شک اللہ تَعَالٰی ہی کا ہے جو وہ عطا کرتا ہے اورجوواپس لے لیتا ہے، بے شک اس کے یہاں وقت ہرشے کامقرر ہے ، صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر ملتا ہے ، اللہ تَعَالٰی مولانا معین الدین کی مغفرت فرمائے ، ان کے نامہ اعمال کو علیین میں رکھے ، بروز محشر ان کا چہرہ روشن فرمائے اور انہیں سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ سے ملاقات کا شرف بخشے ، اللہ تَعَالٰی آپ کو صبر جمیل اوراجر جزیل بخشے اور آپ کے ادھورے کاموں کو مکمل فرمائے اور آپ کو مزید عزت بخشے ۔آمین )

        ( اعلیٰ حضرت  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مزید لکھتے ہیں :  )یہ پُر ملال کارڈ روزِ عید آیا، میں نمازِ عید پڑھنے ’’نینی تال‘‘ گیا ہوا تھا، شب کو بے خواب رہا تھا اور دن کو بے خورو خواب (یعنی کھائے اور سوئے بغیر)اور آتے جاتے ڈانڈی  [1]؎ میں چودہ میل کا سفر! دوسرے دن بعد نمازِ صبح سورہا ، سو کر اٹھا تو یہ کارڈ پایا۔ اسی روز سے مولانا مرحوم کا نام تابقائے حیات، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تعالٰیروز ایصالِ ثواب کے لیے داخلِ وظیفہ کرلیا۔ وہ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ    تعالٰی بہت اچھے گئے، مگر دنیا میں ان سے ملنے کی حسرت رہ گئی۔مولیٰ  تَعَالٰی آخر ت میں زیرِ لِوائے سرکارِ غوثیت (یعنی غوثِ پاک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے جھنڈے تلے) ملائے، اٰمین اَللّٰھُمَّ اٰمین۔

یک شہادت وفات دررمضان          مرگِ جمعہ شہادتِ دگرست

مرضِ تپ شہادتِ سو میں          بہرِ ہر سہ شہادتِ خبرست

درمزارست چشمِ وا  یعنی         پئے دیدارِ یار منتظر ست

مردہ ہرگز نہ معین الدین           کہ تراچوں نعیم دیں پسر ست

 (یعنی :  رمضان میں مرنا شہادت کی ایک قسم ہے ، جمعہ کے دن مرنا شہادت کی دوسری قسم ہے۔بخار میں مرنا شہادت کی تیسری قسم ہے ، ان تینوں شہادتوں کا ذکر حدیث میں موجود ہے۔مزار میں بھی آنکھ کھلی ہے ، اس لئے کہ دیدارِ یار کے منتظر ہیں ۔معین الدین( آپ )ہر گز مردہ نہیں ، اس لیے کہ آپ کا بیٹا نعیم الدین جیسا ہے۔)   

فسادیوں کی توبہ

        صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل کا اندازِ بیان ایسا مسحور کُن تھا کہ اپنے تو داد دیتے ہی تھے مخالفین بھی دم بخود رہ جاتے تھے۔ ایک مرتبہ’’ رانا دھول پور‘‘ کے علاقے میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا بیان تھا ، لوگوں کو معلوم ہوا تو انہوں نے جُوق درجُوق شرکت کی۔ جب بیان شروع ہوا تو شرپسندوں کا ایک ٹولا آیا اور بیٹھ گیا۔ جب انہوں نے حضرتِ صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل کا خطاب سنا تو وہ مسحور ہو کر رہ گئے ، ان کی تُرکی تمام ہوگئی اور انہیں اپنے تہی دامن ہونے کا اِحساس ہوگیا۔ صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل نے بیان کے بعد عام اِعلان فرمایا :  ’’ اگر کسی کو میری تقریر پر کوئی اِشکال (و اعتراض)ہو تو بیان کرے، اس کو مطمئن کیا جائے گا۔‘‘ تو یہ پوری جماعت کھڑی ہوگئی اور کہا :  حضور !اِشکال تو کوئی نہیں پر اتنی عرض ہے کہ ہم فساد کے لیے آئے تھے، لیکن آپ کی تقریر نے ہماری آنکھیں کھول دی ہیں ، اب اتنا کرم فرمائیے کہ ہمیں توبہ کرائیں اور آج شام اسی موضوع پر ہمارے مَحَلے میں بھی بیان فرمائیں ۔

اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

داڑھی رکھنے کے لئے خاموش انفرادی کوشش

        صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل کے ایک خدمت گزار کا بیان ہے :   شروع میں میری داڑھی خَشْخَشِی ہوتی تھی اور صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل اس بات کو پسند نہیں فرماتے تھے ۔ ایک دن بڑے پیار بھرے انداز میں میرے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر بڑے معنی خیز انداز میں مُسکراتے ہوئے فرمانے لگے :  ’’مولانا! کیا حال ہے ؟‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے اس اندازِ نصیحت سے میں اتنا متأثر ہوا کہ آج 60برس سے زائد ہونے کو آئے ہیں کبھی داڑھی حدِ شرع (یعنی ایک مٹھّی ) سے کم نہیں ہوئی ۔

اِمام بنانے سے پہلے قِرَاءَ ت دُرُست کروائی

        خلیفۂ صَدرُ الافاضِل حضرت مولانا مفتی سیدغلام معین الدین نعیمی علیہ رحمۃ اللّٰہ الغنی کا بیان ہے کہ جب سے صَدرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل کو مرضِ ذیا بَیطُس (شوگر)نے جماعت کرانے سے روکا ہوا تھا، اس وقت سے مسجد میں نماز باجماعت کے لئے مجھے ہی فرماتے تھے۔ اگرچِہ میری قِراء تِ قراٰن کی تصحیح میرے والد صاحب نے شروع ہی میں کرا دی تھی، پھر قواعد تجوید بھی سیکھے تھے لیکن حضرتِ صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل نے اس کے باوُجود راتوں کومشق کروا کر میری قراء ت کی تصحیح کرائی ۔جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی نظر میں میری قراء ت دُرُست ہوئی تو مجھے آگے بڑھا دیا۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

 



       ایک پہاڑی سواری جس کے دونوں طرف لکڑی اور درمیان میں دری لگی ہوتی ہے۔[1]



Total Pages: 7

Go To