Book Name:Tazkirah-e-Sadr-ul-Afazil

وضاحتی مضمون تحریرفرمایا اورکسی ترکیب سے اُسی اخبار میں شائع کروادیا ۔ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العِزَّۃ کو پتا چلا تومُراد آباد میں اپنے ایک عقیدت مند حاجی محمد اشرف شاذلی علیہ رحمۃ اللّٰہ الولی کو تحریر فرمایا کہ مولانا سید محمد نعیم الدینعلیہ رحمۃ اللّٰہ المبین کو ساتھ لے کر بریلی آئیں ۔ پہلی ہی ملاقات میں حضرتِ صَدْرُ الافاضِلعلیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل، اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العِزَّۃ کی شفقت و محبت سے اِس قدر متاثر ہوئے کہ پھر کوئی مہینہ بریلی شریف کی حاضِری سے خالی نہ جاتا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ خود فرماتے ہیں :   ’’اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العِزَّۃ کے آستانہ کے سفر کے لئے کبھی میرا بستر کھلا ہی نہیں ، میں لازمی ہر پیر اور جمعرات کو اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العِزَّۃ کی خدمت میں جاتا تھا ۔‘‘مشہور ہے کہ’’ صَدْرُ الافاضِل ‘‘کا لقب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العِزَّۃ ہی نے دیا ۔ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العِزَّۃ نے بھی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو خلافت عطا فرمائی۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

بیس سال کی عمر میں پہلی تصنیف

        دورانِ طالب علمی صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل نے صَحافتی طریقے سے تبلیغِ دین کے لیے مختَلِف رسائل و جَرائد میں مَضامین لکھنے کا سلسلہ شروع کیا۔ یہ مضامین کلکتہ(الھند) کے ’’اَلْہِلال‘‘ اور’’ اَلْبَلاغ‘‘میں شائع ہوتے رہے۔ اِسی دوران آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے یہ خیال فرمایا کہ مَدَنی آقا صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم کے ’’علمِ غیب‘‘ پر ایک ایسی جامِع کتاب ہونی چاہیے، جس سے مُعْتَرِضِین کے تمام اَوہام وشُکوک اور باطل نظریات کا شافی و وافی مُہَذَّب پیرائے میں جواب ہو ۔ چُنانچِہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ایک مستقِل کتاب لکھنی شروع کی ۔ اُس وقت چُونکہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے پاس ایسا جامِع کُتُب خانہ نہ تھا کہ جس میں ہر قسم کی کتابیں موجود ہوتیں ، لہٰذا آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے مصطَفٰے آباد (رامپور ، ہند) کے کُتُب خانے کی طرف رُجوع کیا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سفر کر کے ’’ مصطَفٰے آباد‘‘ جاتے، وہاں کے کُتُب خانے سے حوالہ جات دیکھ کر آتے اور مُراد آباد میں کتاب لکھتے۔جب بیس سال کی عمر میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی دستار بندی ہوئی تو وہ کتاب بھی مکمَّل ہوگئی جس کانام ’’ اَلْکَلِمَۃُ الْعُلْیَا لِاِعْلَائِ عِلْمِ الْمُصْطَفٰی‘‘ ہے۔

اعلٰی حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العِزَّۃ کا خِراجِ تحسین

         جب یہ کتاب شائع ہوئی توحاجی محمد اشرف شاذلیعلیہ رحمۃ اللّٰہ الولی اس کتاب کو  لے کر اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العِزَّۃ کی خدمت میں حاضِر ہوئے۔ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العِزَّۃ نے اس کومُلاحَظہ کرکے فرمایا :  ’’ مَا شَآءَ  اللّٰہ بڑی عمدہ نفیس کتاب ہے، یہ نو عمری اور اتنے اَحسن دلائل کے ساتھ اتنی بلند کتاب مُصَنِّف کے ہونہار ہونے پر دال(یعنی دلالت کرتی) ہے۔‘‘

اعلٰی حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العِزَّۃ کی خاص عنایت

        خلیفہ مفتی ٔ اعظم ہندحضرتِ مولانا مفتی محمد اعجازولی رضوی قادِری علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی لکھتے ہیں :   فِرَق باطِلہ (یعنی باطِل فِرقوں ) اور مُعانِدین (یعنی مخالفین) سے گفتگو ومُناظِرات میں اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العِزَّۃ نے بارہا حضرت صَدْرُ الا فا ضِل  علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِلکو اپنا وکیلِ خاص بنایا ، چنانچِہ اسی خُصوصیَّت کی بنا پر اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العِزَّۃ نے ’’ذکرِ اَحباب‘‘ میں ارشاد فرمایا :       ؎

میرے نعیمُ  الدّیں کو نعمت دے

اس سے بَلا میں سماتے یہ ہیں

مشوروں کی قدر فرماتے

        صَدْرُ الافاضِلعلیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل  اعلیٰ حضرتعلیہ رحمۃُ ربِّ العِزَّۃ کے اُن ممتاز خلفا میں سے ہیں جنہیں امام اہلسنّت علیہ رحمۃُ ربِّ العِزَّۃ کے مزاجِ عالی میں بڑا دخل تھا۔ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العِزَّۃ صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل کے مشوروں کو قبول بھی فرماتے اور اِظہارِ مُسرَّت وشادمانی فرماتے ۔’’اَلطّارِیُّ الدَّاری‘‘ کی تصنیف پر مُسَوَّدہ (مُ۔سَوْ۔وَدہ)  حضرتِ صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل کو دکھایا گیا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس میں سے کثیر مضمون کے بارے میں اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العِزَّۃ سے درخواست کی کہ یہ نکال دیا جائے۔ اعلیٰ حضرتعلیہ رحمۃُ ربِّ العِزَّۃ نے بِلاتَأ مُّل اسے کاٹ دیا اور صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل سے یہ بھی نہ فرمایاکہ کیوں یہ ترمیم پیش کی ! صَدْرُ الافاضِل  علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل کی اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العِزَّۃ سے محبت وعقیدت کا یہ عالَم تھا کہ اُن کی اِجازت کے بِغیر کوئی سفر نہ فرماتے ۔اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

صَدْرُالافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل کی تدریسی مَہارت

          صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل نے ۱۳۲۸ ھ میں مُراد آباد(ہند) میں مدرسہ انجمن اہلِ سنّت و جماعت کی بنیاد رکھی جس میں معقولات و منقولات کی تعلیم کا اعلیٰ پیمانے پر انتظام کیا گیا۔ ۱۳۵۲ ھ میں حضرت صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل کے اسمِ گرامی ’’نعیم الدین‘‘ کی نسبت سے اس کا نام جامعہ نعیمیہ رکھا گیا۔ صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل کو اللّٰہ  تَعَالٰی نے بے شُمار خُوبیوں سے نوازا تھا ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ بہترین مقرِّر، باعمل مبلّغ، مَنجھے ہوئے مفتی اور پُر اثر مُصنِّف ہونے کے ساتھ ساتھ قابل ترین مُدَرِّس بھی تھے ۔ علمِ حدیث میں تو آپ مشہورِ خاص و عام تھے ۔بڑے بڑے علماء کرام اس بات کا اِعتراف کیا کرتے تھے کہ جس طرح حدیث کی تعلیم آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دیتے ہیں ا ن کے کانوں نے کبھی اور کہیں اس کی سماعت نہیں کی۔اس جامِعِیَّت سے مختصر الفاظ بیان فرماتے تھے کہ مفہوم ذِہن کی گہرائیوں میں اتر جاتا تھا۔فُنُونِ عَقْلِیہ کی کتابوں کی پُر َمغْز مُدَلَّل تقاریر زَبانی کیا کرتے تھے ۔دَرْس کے وقت اپنے سامنے فُنُونِ عقلیہ کی کتاب



Total Pages: 7

Go To