Book Name:Tazkirah-e-Sadr-ul-Afazil

تعلیم وتربیت

        صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل نے اُردُو اور فارسی کی تعلیم والدِ گرامی حضرت مولانا سیّد محمد معین الدین نُزْہَتؔ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے حاصل کی پھر حضرت مولانا ابوالفضل فضل احمد علیہ رحمۃ اللّٰہ الاحد  سے عربی کی چند کتب پڑھیں ۔ حضرت مولانا ابوالفَضْل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو نعتِ سرکار صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم سے عشق تھا۔ چنانچِہ ہر جمعہ کو بعد نمازِ جمعہ مسجد چوکی حَسَن خان مُراد آباد میں نعت شریف کی محفل کرواتے جس میں شہر بھر سے کثیر لوگ شریک ہوا کرتے ۔

دَرْسِ نِظَامِی کی تَکْمِیل

        صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل کے اُستاذِ محترم حضرت مولانا ابوالفضل علیہ رحمۃ اللّٰہ العدل آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کوساتھ لے کرشیخ الحدیث ، امامُ العلماء جامِعُ المَعقولِ وَالْمَنْقول حضرتِ علّامہ مولاناسیّد محمد گُل قادِرِی علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی کی خدمت میں لے کر حاضِر ہوئے اور عرض کی :   ’’یہ صاحبزادے نہایت ذکی و فہیم(یعنی نہایت ذِہین و سمجھدار) ہیں ، میری خواہش ہے کہ بقیہ درسِ نظامی کی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے تکمیل کریں ۔‘‘ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے قبول فرمایا۔ چنانچِہ صَدرُ الافاضِلعلیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل نے اُستاذُ الاساتِذہ حضرت علّامہ مولاناسیّد محمد گل قادِرِی علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی سے مَنْطِق، فَلْسَفَہ، ریاضی، اُقْلِیْدَس، تَوْقِیْت وہَیْئَت، عَرَبی بَحروفِ غیرمَنْقُوْطَہ( بغیر نقطوں کے حرفوں والی عربی)، تفسیر، حدیثاور فِقْہوغیرہ بہت سے مُروَّجہ دَرْسِ نظامی اور غیردَرْسِ نظامی عُلُوم وفُنُون کی اَسناد حاصل فرمائیں اور بَہُت سے سَلاسِلِ احادیث وعُلومِ اسلامیہ کی سَنَدیں بھی تَفویض ہوئیں (یعنی دی گئیں )۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا سلسلۂ سندِحدیث قُدْوَۃُ الْفُضَلَاء، عُمْدَۃُ المُحَقِّقِین حضرتِ مولانا سیدمحمدمکّی علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی  خطیب و مدرِّسِ مسجدُالحرام کے ذریعے مُحَشِّیٔ دُرِّمختار خاتَمُ المُحَقِّقِیْن سیداحمدطَحْطَاوِی علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی سے ملتاہے جن کی سندعرب وعجم میں مشہورہے۔پھر ایک سال تک فتویٰ نَویسی کی مَشْق فرمائی ۔ ۱۳۲۰ ھ بمطابق 1902ء میں 20 سال کی عمرمیں عظیم الشّان جلسے میں عُلَمائے کرام رَحِمَھُمُ اللّٰہ السّلام نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی دستار بندی فرمائی، اِس موقع پر آپ کے والدِ گرامیقُدِّس سِرّہٗ السّامی  نے تاریخ کہی        ؎

ہے میرے پِسَر کو طَلَبَہ پر وہ تَفَضُّل          سیّاروں میں رکھتا ہے جو مِرِّیخ فضیلت

نُزْہَت ؔ! نعیم الدین کو یہ کہہ کے سنادے       دستارِ فضیلت کی ہے تاریخ ’’فضیلت‘‘

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب !           صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی مُحَمَّد   

علمِ طِبّ کی تَحصیل

        صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل نے علمِ طِبّ حکیمِ حاذِق حضرت مولانا حکیم فیض احمد صاحِب امروہوی سے حاصل کیا ۔جس طرح سے آپ کو عُلُوم مَنْقُولیہ وعُلُوم مَعَقُولیہ میں ہم عَصرعُلَماء میں نُمایاں حیثیت حاصل تھی اسی طرح میدانِ طِبّ میں بھی آپ کمال مَہارت رکھتے تھے کہ عُموماً مریض کا چہرہ دیکھ کر ہی مرض پکڑ لیا کرتے تھے، نَبَّاضی(یعنی نبض دیکھ کر مرض شَناخْتْ کرنے ) میں بھی یکتائے زمانہ تھے۔مُفَرّداتِ اَدوِیہ کے خواص اَزْبَر(یعنی زبانی) تھے، مُرَکَّبات میں بھی خاصی صلاحیتوں کے مالک تھے ۔جامِعہ نعیمیہ سے فارِغ ہونے والے بَہُت سے عُلَماء نے آپ سے علمِ طِبّ بھی حاصل کیا۔ آپ کا جووقت تبلیغ و تدریس سے بچتا تھا اُس میں طبّ و حکمت کے ذریعے خدمتِ خَلْق فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہ فرمایا کرتے تھے۔ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

مُرشِد کی تلا ش

        صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل پیر کی جُستُجو میں ’’ پیلی بھیت ‘‘حضرت شاہ جی محمد شیر میاں صاحب علیہ رحمۃ اللّٰہ الواھِب کی خدمت میں حاضِر ہوئے۔حضرت شاہ صاحِب علیہ رحمۃ اللّٰہ الواھِب بڑی مَحبَّت و کرم سے پیش آئے اور اس سے پہلے کہ صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل کچھ کہیں ، فرمایا :  ’’ میاں ! مُراد آباد میں مولانا سیّدمحمد گل قادِرِی علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی  بڑی اچّھی صورت ہیں ، میں مُراد آباد جاتا ہوں تو اُن کی خدمت میں حاضر ہوتا ہوں ، آپ جس اِرادے سے آئے ہیں آپ کا حصہ وہیں ہے۔ ‘‘ چنانچِہ صَدرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل مُراد آباد واپس آئے تو حضرتِ مولاناسیّد محمد گل قادری علیہ رحمۃ اللّٰہ الھادی نے دیکھتے ہی ارشادفرمایا :  ’’شاہ جی !میاں صاحب علیہ رحمۃ اللّٰہ الواھِب کے ہاں ہو آئے، اچھا !پرسوں جمعہ ہے، نمازِ فجر کے بعد آئیے تو آپ کا جو حصّہ ہے، عطا کیا جائے گا۔ ‘‘ تیسرے روز جمعہ کو بعد نمازِ فجر حصرت مولانا شاہ محمد گل علیہ رحمۃ اللّٰہ العدل نے قادِری سلسلے میں بیعت فرمایااور جو حصّہ تھا عطا کیا۔

دو شہزادوں کی ولادت

        حضرت شاہ جی محمد شیر میاں صاحبعلیہ رحمۃ اللّٰہ الواھِب نے چلتے وقت دعا دی تھی کہ اللّٰہ  تَعَالٰی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو دشمنانِ دین پر فتح مند رکھے اور بچے عطا فرمائے، مُراد آباد آنے کے بعد ایک ہفتہ گزرا تھا کہ ایک ساتھ دو فرزندپیدا ہوئے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب !           صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اعلیٰ حضرت  علیہ رحمۃُ ربِّ العِزَّۃ سے پہلی ملاقات

        میرے آقا اعلٰیحضرت، اِمامِ اَہلسنّت، ولیٔ نِعمت، عَظِیمُ البَرَکت، عَظِیمُ المَرْتَبت، پروانۂِ شمعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دِین ومِلَّت، حامیِٔ سُنّت، ماحِیٔ  بِدْعَت، عَالِمِ شَرِیْعَت، پیرِطریقت، اِمامِ عشق ومحبَّت، باعثِ خَیْروبَرَکت، حضرتِ علَّامہ مولانا الحاج الحافظ القاری شاہ امام اَحمد رَضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن کی مُحَقِّقانہ تصانیف کے مُطالَعے سے حضرتِ صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل کے دل میں غائبانہ طور پر آپ علیہ رحمۃُ ربِّ العِزَّۃ کی گہری محبت و عقیدت پیدا ہوگئی تھی۔ ایک دفعہ کسی بدمذہب نے ایک اخبار میں اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العِزَّۃ کے خلاف مضمون لکھا جس میں دل کھول کر دُشْنام طَرازِی کا مظاہرہ کیا۔ حضرتِ صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل نے جب اُس مضمون کو دیکھا تو سخت صدمہ پہنچا ، ہاتھوں ہاتھ اُس کے جواب میں ایک



Total Pages: 7

Go To