Book Name:Tazkirah-e-Sadr-ul-Afazil

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط 

تَذْکِرَۂ  صَدْرُ الافاضل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل

شیطان لاکھ سستی دلائے یہ تذکرہ (25صفحات) مکمَّل پڑھ لیجئے، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کا دل علمائے اہلسنّت کی مَحَبَّت سے لبریز ہوجائے گا۔

دُرُود شریف کی فضیلت

         سرکارِمدینۂ منوّرہ، سردارِمکّۂ مکرّمہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ بَرَکت نشان ہے :  اے لوگو ! بے شک بروزِ قِیامت اسکی دَہشتوں اور حساب کتاب سے جلد نَجات پانے والا شخص وہ ہوگاجس نے تم میں سے مجھ پر دنیا کے اندر بکثرت دُرُود شریف پڑھے ہوں گے ۔(فردوس الاخبار ج۲ص۳۷۵ حدیث۸۲۱۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب !       صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ہونہار مَدَنی مُنّا

        ایک عِلمی گھرانے سے تعلُّق رکھنے والے چار سالہ مَدَنی مُنّے کی ’’تقریبِ بِسمِ اللّٰہ ‘‘ بڑی دُھوم دھام سے ادا کی گئی اور اِس کے بعد اُس مدنی مُنّے نے حفظِ قرآن شروع کر دیا۔پڑھانے والے حافِظ صا حِب ایک روزسخت انداز میں تعلیم دے رہے تھے کہ ایک روشن ضمیر بُزُرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا وہاں سے گزر ہوا، اُنہوں نے فرمایا :   حافِظ صاحِب!  آپ کو دِکھتا نہیں کہ یہ مُنّا بڑا ہونہار (یعنی ذہین و قابل) ہے، اِس پر اتنی سختی نہ کیجئے، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ  یہ منزِل پر بہت جلد پہنچے گا۔‘‘اس کے بعد حافِظ صاحِب نے اپنی رَوِش میں تبدیلی فرمائی اور نَرمی وشَفْقَت سے سبق پڑھانا شروع کردیا ۔اُن بُزُرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے فرمانِ بِشارت نشان کے مطابق ایک وقت آیا کہ یہ مَدَنی مُنّا آسمانِ عِلم وعمل کا ستارہ بن کر چمکا اور ایک عالَم اِس سے رہنمائی حاصل کرنے لگا ۔

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آپ جانتے ہیں کہ وہ ہونہار مَدَنی مُنّاکون تھا ؟وہ خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، صَدْرُ الافاضِل، بَدْرُ الْاَمَاثِل، حضرتِ علّامہ مولانا الحاج الحافظ سیِّد محمد نعیم الدین مُراد آبادی علیہ رحمۃ اللّٰہ الہادی تھے ۔

اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

صَدْرُالافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل  کے اِبتِدائی حالات

        صَدْرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولیٰنا سیّد محمد نعیم الدین مُراد آبادی علیہ رحمۃ اللّٰہ الہادی کی وِلادت مُبارک ۲۱ صَفَرُ المُظَفَّر ۱۳۰۰ھ بمطابق یکم جنوری 1883ء بروز پیر شریف’’ہند‘‘ کے شہر’’ مُراد آباد ‘‘ہوئی۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا نام ’’محمد نعیم الدین ‘‘  رکھا گیا جبکہ علمِ اَبْجَد کے اِعتبار سے تاریخِی نام ’’غلام مُصْطَفیٰ ‘‘(۱۳۰۰ ھ) تجویز ہوا۔ آپ کے والدِ ماجِد حضرت مولیٰنا سیّد محمد معین الدین نُزْہَتؔ  اور جَدِّ امجد(یعنی دادا جان) حضرت مولیٰنا سید امین الدّین راسخؔ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِما  اپنے اپنے دور میں اُردو اور فارسی کے استاذ مانے گئے ہیں ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے والد حضرت مولانا سیِّد محمد معینُ الدّین علیہ رحمۃ اللّٰہ المُبین کے کئی فرزند قراٰن کے حافظ ہو نے کے بعد وفات پاچکے تھے ۔ صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل کی پیدائش پر آپ کے والدِ محترم علیہ رحمۃ اللّٰہ الاکرم نے نَذْر مانی کہ مولیٰ  تَعَالٰی نے اسے زندگی بخشی تو خدمتِ دین کے لئے اس فرزند کو وَقْف کردوں گا ۔

 



Total Pages: 7

Go To