Book Name:Nisab-ul-Mantiq

قضایائے بدیہیہ کی اقسام

ان کی چھ قسمیں ہیں  :

۱ ۔ أَوَّلِیَات                      ۲ ۔ مُشَاہَدَات                 ۳ ۔  مُتَوَاتِرَات

۴ ۔  تَجْرِبَات         ۵ ۔  حَدْسِیَّات ۔                  ۶ ۔ فِطْرِیَّات

۱ ۔ اولیات :

            وہ قضایا بدیہیہ جن میں یقین محض تصور طرفین اورتصور نسبت سے حاصل ہو اور کسی واسطے یا دلیل کی ضرورت نہ ہو ۔  جیسے اَلْکُلُّ أَعْظَمُ مِنَ الْجُزْء (کل جز سے بڑا ہے ) ۔

۲ ۔  مشاہدات :

            وہ قضایا بدیہیہ جن کے متیقن ہونے کیلئے ’’حس ظاہر‘‘ یا’’ حس باطن‘‘ کا واسطہ بھی ضروری ہو ۔ جیسے أَلشَّمْسُ طَالِعَۃٌ ، أَنَا جَائِعٌ میں بھوکاہو ۔  

وضاحت :

             أَلشَّمْسُ طَالِعَۃٌ   اس مثال میں آنکھ کے ذریعے ہمیں معلوم ہواکہ سورج چمکنے والا ہے یہ ظاہری حس کی مثال ہے اور انا جائع  میں بھوک کا حکم لگانا حس باطنی کی مثال ہے ۔   

فائدہ :

            جن قضایا میں ’’حسِ ظاہر‘‘ کی ضرورت ہوتوان قضایا کو’’ حسیات ‘‘اور جن میں ’’ حسِ باطن‘‘ کی ضرورت ہو ا نہیں ’’وجدانیات‘‘ کہتے ہیں  ۔

۳ ۔ متواترات :

            وہ قضایا بد یہیہ جن کایقین ایسی جماعت کے خبر دینے سے حاصل ہوجن کا جھوٹ پر جمع ہونا عقلا محال ہو ۔ جیسے سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کاروضہ اقدس مدینہ منورہ  میں ہے ۔  

۴ ۔  تجربیات :

            وہ قضایا بدیہیہ جن پر یقین باربار تجربہ کی بنا پر حاصل ہو اہو ۔  جیسے ڈسپرین سردرد کیلئے مفید ہے ۔  

۵ ۔  حدسیات :

            وہ قضایا ئے بدیہیہ جن پر یقین کیلئے حدس بھی درکارہوحدس کا مطلب مبادی مرتبہ کا ذہن پر دفعتہ منکشف ہونا ۔ مثلا :   ادراک الاصوات بالسامعۃ، ادراک الالوان والاشکال بالباصرۃ ۔ آوازوں کا ادراک قوت سماعت سے اور رنگوں اور شکلوں کا ادراک قوت بصارت سے حاصل ہوتاہے  ۔

۶ ۔  فطریات :

            وہ قضایا بدیہیہ کہ جب وہ ذہن میں آئیں تو ساتھ ہی دلیل بھی ذہن میں آجائے ۔ جیسے اَلأَرْبَعَۃُ زَوْجٌ  ۔ اس قضیہ کے ذہن میں آتے ہی فورا دلیل بھی ذہن میں آجاتی ہے کہ چار دوحصوں میں برابر تقسیم ہوجاتاہے اورجو دوبرابرحصوں میں تقسیم ہوجائے وہ جفت ہوتاہے لہذا چار جفت ہے ۔

قضایا غیر یقینہ کی اقسام

ان کی سات قسمیں ہیں  :

۱ ۔ مُسَلَّمَات  ۲ ۔  مَشْہُوْرَات  ۳ ۔  مَقْبُوْلات       ۴ ۔  مَظْنُوْنَات

۵ ۔  مُخَیَّلات  ۶ ۔  مُشَبَّہَات  ۷ ۔  وَہْمِیَات

۱ ۔  مسلمات :

            وہ قضایا جو بحث کرنے والے دونوں فریقوں کے درمیان تسلیم شدہ ہوں ۔ جیسے :  اَلظُّلْمُ قَبِیْحٌ  ۔

۲ ۔ مشہورات :

            وہ قضایا جن میں کسی قوم کی را ئیں متفق ہوں  ۔ جیسے :  أَلاِحْسَانُ حَسَنٌ ۔  

۳ ۔  مقبولات :

            بلند مرتبہ ہستیوں کے وہ اقوال جن کو لوگ’’ حسن ِظن‘‘ کی بناء پر قبول کرتے ہیں ۔ جیسے امیر اہلسنت شیخ طریقت رہبر شریعت بانی دعوتِ اسلامی  حضرت علامہ ومولانا

ابو بلال محمد الیا س عطّار

قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ کا یہ فرمان ہے  :

’’جسے یہ گر آگیا کہ کونسی بات کہاں کرنی ہے تو وہ معاشرے کابے تاج بادشاہ بن گیا ۔ ‘‘

۴ ۔  مظنونات :

            وہ قضایا جن میں حکم ، ظنِ غالب کی بناپر لگادیا جاتاہو  ۔           جیسے : زیدرات کو چھپ چھپ  کرگلیوں میں گھومتاہے اورہروہ شخص جو چھپ چھپ کر گلیوں میں رات کو گھومے چور ہوتاہے لہذازید چورہے ۔  

وضاحت :

 



Total Pages: 54

Go To