Book Name:Nisab-ul-Mantiq

۱ ۔  دلیل لمی :

            جس قیاس میں حدِ اوسط نتیجے کے جاننے کیلئے علت بننے کے ساتھ حقیقت میں بھی نتیجے کیلئے علت ہواسے دلیل لمی کہتے ہیں  ۔ جیسے گھر میں آگ جل رہی ہے ۔  جہاں آگ جلتی ہے وہاں دھواں اٹھتاہے  ۔ پس گھر سے دھواں اٹھ رہاہے ۔  اس مثال میں آگ (جو حداوسط ہے ) سے ہمیں دھواں کے اٹھنے کا علم ہوا اسی طرح حقیقت میں بھی آگ دھواں کیلئے علت ہے لہذا یہ قیاس دلیلِ لمی ہے ۔  

۲ ۔  دلیل انی :

            جس قیاس میں حد اوسط نتیجے کے جاننے کیلئے توعلت بن رہی ہو لیکن حقیقت میں وہ نتیجے کیلئے علت نہ ہو اسے دلیل انی کہتے ہیں  ۔ جیسے گھر سے دھواں اٹھ رہاہے جہاں دھواں اٹھتاہے وہاں آگ جلتی ہے ۔  پس گھر میں آگ جل رہی ہے ۔  اس مثال میں دھواں (جوحد اوسط ہے ) سے ہمیں آگ کے جلنے کا علم ہوا لیکن حقیقت میں دھواں آگ کے جلنے کی علت نہیں بلکہ معاملہ برعکس ہے یعنی آگ کا جلنا دھواں کیلئے علت ہے ۔  لہذا یہ قیاس دلیلِ انی ہے ۔  

            اعلی حضرت ، امام اہلسنت، مجدددین وملت، پروانہ شمع رسالت، عاشق ماہ نبوت ، حضرت علامہ ومولاناالشاہ  امام احمد رضاخان بریلوی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں  :

تم سے خد اکا ظہور اس سے تمہاراظہور

لِمْ ہے یہ، وہ اِنْ ہوا، تم پہ کروڑوں درود

فائدہ :

            دلیل لمی وانی کی تعریف یوں بھی کی جاتی ہے  ۔ علت سے معلول کو سمجھنا دلیل لمی جبکہ معلول سے علت کو سمجھنا دلیل انی کہلاتاہے ۔  جیسے آگ سے دھواں کو سمجھنا دلیل لمی جبکہ دھواں سے آگ کو سمجھنا دلیل انی ہے ۔  

٭٭٭٭٭

 

مشق

سوال نمبر1 :  ۔ استقراء کی تعریف مثال سے واضح کریں  ۔

سوال نمبر2 :  ۔ تمثیل کی تعریف مثال دے کر بیان کریں  ۔

سوال نمبر3 :  ۔ صناعات خمسہ تفصیلاتحریر کریں  ۔

سوال نمبر4 :  ۔ دلیل لمی، اور دلیل انی کی وضاحت کریں  ۔

٭…٭…٭…٭

٭…بہترین علم…٭

          حجۃ الاسلام حضرت امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالی اپنی مایہ نازتصنیف’’لباب الاحیاء‘‘میں ارشاد فرماتے ہیں :  

            ’’جاننا چاہیے کہ بہترین علم وہ ہے جس کا مقصد اللہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت حاصل کرنا ہو اور یہ ایک ایسا سمندر ہے جس کی گہرائی معلوم نہیں اور اس میں سب سے اعلی درجہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ہے پھر اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالی اور اس کے بعد وہ لوگ ہیں جو ان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں ۔

            منقول ہے کہ پہلے کے دو دانا شخصوں کے پاس دوایسی تحریریں پائی گئیں جن میں سے ایک یہ تھی : ’’اگر تم مکمل طور پر نیکی کرلوتو یہ گمان نہ کرو کہ تم نے کچھ نیکی کی ہے جب تک اللہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت حاصل نہ ہواور تمہیں معلوم نہ ہوجائے کہ وہی مسبب الاسباب اور تمام اشیاء کا پیدا کرنے والا ہے ۔ ‘‘اور دوسری میں یہ لکھا ہواتھا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت حاصل ہونے سے پہلے میں پانی پیتاتھا مگر پھر بھی پیاسا رہتاتھا لیکن جب مجھے اس کی معرفت حاصل ہوگئی تو میں کوئی چیز پئے بغیربھی سیراب رہتاہوں ۔  ‘‘

(لباب الاحیاء، ص۳۵، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)

 

سبق نمبر :  47

{…قیاس کے قضایا کی اقسام…}

وہ قضایا جن سے مل کر قیاس بنتاہے ان کی دوقسمیں ہیں  :

۱ ۔  یقینیہ              ۲ ۔  غیر یقینیہ

قضایا یقینیہ کی اقسام

ان کی دوقسمیں ہیں  :

۱ ۔  بدیہیات        ۲ ۔  نظریات جوبدیہی طورپر یقین تک پہنچانے والے ہوں  ۔

 



Total Pages: 54

Go To