Book Name:Nisab-ul-Mantiq

تمثیل کی تعریف :

            لغوی معنی :  تشبیہ دینا، اصطلاحی معنی :  وہ حجت ہے جس میں ایک جزئی کاحکم دوسری جزئی میں کسی  ’’علتِ مشترکہ‘‘ کی وجہ سے ثابت کیاجائے ۔

وضاحت :

            ایک جزئی میں کسی خاص علت کی وجہ سے ایک حکم پایاگیا ۔ وہی علت کسی دوسری جزئی میں نظر آئی تو اس ’’علت مشترکہ‘‘ کی وجہ سے پہلی جزئی کاحکم دوسری جزئی میں ثابت کردینے کا نام تمثیل ہے ۔  جیسے خمرایک جزئی ہے ’’علتِ نشہ‘‘کی وجہ سے اسکا حکم حرام ہوناہے یہی نشہ کی علت ایک دوسری جزئی ’’بھنگ‘‘ میں نظرآئی تواس ’’علت ِمشترکہ‘‘ کی وجہ سے حرام ہونے کا حکم بھنگ پر بھی لگادیا گیا ۔  

            تمثیل میں چار چیزوں کا ہونا ضروری ہے  :

            ۱ ۔  مقیس علیہ (  جس پر قیاس کیا گیاہو)

            ۲ ۔  مقیس ( جس کو قیاس کیا گیا ہو)

             ۳ ۔  علت

            ۴ ۔ حکم ، مذکورہ مثال میں ’’ خمر‘‘ مقیس علیہ ۔  ’’بھنگ‘‘ مقیس ۔  ’’نشہ‘‘ علت ۔  اور’’حرام‘‘ ہونا حکم ہے ۔  

نوٹ :

            استقراء وتمثیل سے حاصل ہونے والا علم ظنی ہوتاہے ۔  استقراء سے اس لئے کہ  ممکن ہے اس کلی کی کوئی ایسی جزئی بھی ہو جس میں وہ خاص وصف نہ پایا جاتاہواوروہ ہماری تلاش میں نہ آئی ہو اور تمثیل سے اس لیے کہ ہوسکتاہے جس چیز کوحکم کیلئے علت قراردیاگیا ہے وہ علت نہ ہوبلکہ علت کوئی اور ہو ۔  

٭٭٭٭٭

٭فرامین امیر اہلسنت دَامَتْ برَکَاتُہُمُ الْعَالیَہ٭

1…عاشقانِ رسول کی صحبت گناہوں کی دَوا ہے ۔

2…اَصْل مالدار قانِع(یعنی قناعت کرنے والااور)، شاکر( شکرکرنے والا) ہے ۔

سبق نمبر :  46

{…مادہ کے اعتبار سے قیاس کی تقسیم …}

اس اعتبارسے قیاس کی پانچ قسمیں ہیں انہیں صناعاتِ خمسہ اور موادِاَقْیِسَہْ بھی کہاجاتاہے :

۱ ۔  برھانی            ۲ ۔  جدلی ۳ ۔  خطابی            ۴ ۔  شعری           ۵ ۔  سفسطی

۱ ۔  قیاس برھانی :

            وہ قیاس ہے جو مقدمات یقینیہ سے مرکب ہویعنی جویقین کا فائدہ دیتے ہوں ۔         جیسے :  أَلْعَالَمُ مُتَغَیَّرٌ وَکُلُّ مُتَغَیَّرٍحَادِثٌ فَالْعَالَمُ حَادِثٌ ۔

۲ ۔  قیاس جدلی :

            وہ قیاس ہے جو مقدمات مشہورہ یا مسلمہ سے مرکب ہویعنی جومشہور ہوں یا کسی ایک فریق کے نزدیک مسلّم ہوں  ۔ جیسے کسی کو بے گناہ قتل کرنا ظلم ہے اورہر ظلم واجب الترک ہے لہذا بے گناہ کو قتل کرنا واجب الترک ہے  ۔ شراب پینے سے اچھے برے کی تمییز نہیں رہتی ہروہ چیز جس سے اچھے برے میں تمییز نہ رہے اسے ترک کرنا واجب ہے لہذا شراب پینے کو ترک کرنا واجب ہے ۔

۳ ۔  قیاس خطابی :

            وہ قیاس جو مقدمات مقبولہ یا مظنونہ سے مرکب ہویعنی جن کے صحیح ہونے کا غالب گمان ہواور واعظین اپنے وعظوں میں استعمال کرتے ہوں  ۔ جیسے تجارت نفع بخش ہے اور ہر نفع بخش چیز کو اختیار کرنا چاہیے لہذا تجارت کو اختیار کرنا چاہیے ۔

۴ ۔  قیاس شعری :

            وہ قیاس جو قضایامخیلہ سے مرکب ہویعنی جو محض خیالی ہوں خواہ واقعتا سچے ہوں یا جھوٹے ۔ جیسے :  میرا محبوب چاند ہے اور ہر چاند عالم کو روشن کرتاہے لہذا میرامحبوب عالم کوروشن کرتاہے ۔  

۵ ۔  قیاس سفسطی :

            وہ قیاس جو مقدمات وہمیہ کاذبہ سے مرکب ہویعنی جو محض وہمی اور جھوٹے ہوں لیکن سچے قضایا کے مشابہ ہوں  ۔ جیسے العقلُ موجودٌ  ۔ وکلُّ موجودٍ مشارٌالیہ ۔  فالعقلُ مشارٌالیہ ۔  اسی طرح انسان کی تصویر دیکھ کرکہنا ،  یہ انسان ہے  ۔ اور ہرانسان ناطق ہے ۔  لہذا یہ ناطق ہے ۔

قیاس برھانی کی اقسام

            قیاس برھانی کی دوقسمیں ہیں  :           

۱ ۔  دلیل لِمِّی                    ۲ ۔  دلیل اِنِّی

 



Total Pages: 54

Go To