Book Name:Nisab-ul-Mantiq

قیاس استثنائی کی اقسام

اس کی دو قسمیں ہیں  :          ۱ ۔ اتصالی                       ۲ ۔  انفصالی

۱ ۔ قیاس اتصالی :

            وہ قیاس استثنائی جس کا پہلا مقدمہ شرطیہ متصلہ ہو  ۔ جیسے کُلَّمَا کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَالنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ لٰکِنَّ الشَّمْسَ طَالِعَۃ نتیجہ اَلنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ ۔

۲ ۔  قیاس انفصالی :

            وہ قیاس استثنائی جس کا پہلا مقدمہ شرطیہ منفصلہ ہو ۔ جیسے  ھٰذَالْعَدَدُ اِمَّازَوْجٌ أَوْفَرْدٌ لٰکِنَّہٗ زَوْجٌ  ۔ نتیجہ ھٰذَالْعَدَدُ لَیْسَ بِفَرْدٍ ۔

 

قیا س اتصالی میں نتیجہ نکالنے کاطریقہ :

            جب قیاس میں پہلا قضیہ متصلہ ہوتو اس کی دوصورتیں ہونگی ۔  

            ۱ ۔  اگر عین مقدم کااستثناء کیاگیا ہوتو نتیجہ عین تالی ہو گا ۔  جیسے  اِنْ کَانِتَ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَالنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ لکِنَّ الشَّمْسَ طَالِعَۃٌ   اس کا نتیجہ ہو  گا أَلنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ ۔

            ۲ ۔  اگر نقیض تالی کا استثناء کیا گیا ہوتو نتیجہ نقیض مقدم ہوگا ۔  جیسے  اِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَالنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ لکِنَّ النَّھَارَ لَیْسَ بِمَوْجُوْدٍ لہذا نتیجہ أَلشَّمْسُ لَیْسَ بِطَالِعَۃٍ  ہو گا ۔

قیاس انفصالی میں نتیجہ نکالنے کاطریقہ :

            جب قیاس کاپہلا قضیہ شرطیہ منفصلہ حقیقیہ ہو تواس کے نتیجہ کی مندرجہ ذیل چار صورتیں ہونگی ۔

            ۱ ۔  اگر عینِ مقدم کا استثناء کیا گیاہو تونتیجہ نقیض تالی ہو گا ۔  جیسے   ھٰذَالْعَدَدُ اِمَّا زَوْجٌ أَوْ فَرْدٌ لکِنَّہٗ زَوْجٌ  لہذا نتیجہ فَھُوَ لَیْسَ بِفَرْدٍ  ہوگا ۔  

            ۲ ۔  اگر عینِ تالی کا استثناء کیاگیاہو تونتیجہ نقیض مقدم ہو گا ۔ جیسے  ھٰذَا الْعَدَدُ اِمَّا زَوْجٌ أَوْفَرْدٌ لکِنَّہٗ فَرْدٌ لہذا اس کا نتیجہ فَھُوَ لَیْسَ بِزَوْجٍ  ہو گا ۔  

            ۳ ۔  اگر نقیض مقدم کا استثناء کیاگیا ہوتونتیجہ عین تالی ہوگا ۔ جیسے  ھٰذَا الْعَدَدُ اِمَّا زَوْجٌ أَوْفَرْدٌ لکِنَّہ لَیْسَ بِزَوْجٍ  لہذا اس کانتیجہ ھُوَ فَرْدٌ  ہوگا ۔

            ۴ ۔  اگرنقیض تالی کا استثناء کیاگیاہوتو نتیجہ عین مقدم ہوگا ۔ جیسے ھٰذَا الْعَدَدُ اِمَّا زَوْجٌ أَوْفَرْدٌ لکِنَّہ لَیْسَ بِفَرْدٍ  لہذا اس کانتیجہ ھُوَزَوْجٌ  ہوگا ۔

اگر قیاس انفصالی کا پہلا مقدمہ شرطیہ منفصلہ مانعۃ الخلو ہو :

            تو اس کا نتیجہ دوطرح سے ہوگا :

            ۱ ۔  اگر نقیض مقدم کااستثناء کیا گیا ہوتو نتیجہ عین تالی ہوگا ۔ جیسے  ھٰذَالشَّیُٔ اِمَّالاَشَجَرٌ أَوْلاَحَجَرٌ  لکِنَّہٗ لَیْسَ بِلاَ شَجَرٍ     لہذا نتیجہ ھُوَ لاَحَجَرٌ ہوگا  ۔

            ۲ ۔  اوراگر نقیض تالی کا استثناء کیاگیاہو تونتیجہ عین مقدم ہوگا ۔ جیسیھٰذَالشَّیُٔ اِمَّالاَشَجَرٌ أَوْلاَحَجَرٌ  لکِنَّہٗ لَیْسَ بِلاَحَجَرٍ   لہذا نتیجہ  ھُوَ لاَشَجَرٌہوگا ۔

اگر قیاس انفصالی کا پہلا مقدمہ مانعۃ الجمع ہو :

            تو اس کا بھی دوطرح سے نتیجہ ہوگا :

            ۱ ۔  اگر عین مقدم کااستثناء کیاگیا ہوتو نتیجہ نقیض تالی ہوگا ۔  جیسے ھٰذَالشَّیُٔ اِمَّا شَجَرٌأَوْحَجَرٌ لکِنَّہٗ شَجَرٌ لہذا اس کا نتیجہ ھُوَ لَیْسَ بِحَجَرٍ ہوگا ۔

            ۲ ۔  اگر عین تالی کا استثناء کیاگیاہوتو نتیجہ نقیض مقدم ہوگا ۔ جیسے ھٰذَالشَّیُٔ اِمَّا شَجَرٌ أَوْحَجَرٌ لکِنَّہٗ  حَجَرٌ   لہذا نتیجہ  ھُوَ لَیْسَ بِشَجَرٍ ہوگا ۔

٭٭٭٭٭

مشق

سوال نمبر1 :  ۔ قیاس کی تعریف و اقسام تحریر کریں  ۔

سوال نمبر2 :  ۔ قیاسِ اتصالی میں نتیجہ نکالنے کا طریقہ تحریر کریں  ۔

سوال نمبر3 :  ۔ قیاسِ انفصالی میں نتیجہ نکالنے کا طریقہ بیان کریں  ۔

٭…٭…٭…٭

سبق نمبر :  45

{…استقراء وتمثیل…}

استقراء کی تعریف :

            استقراء کالغوی معنی تلاش کرنا، اصطلاحی معنی :  وہ حجت جس میں جزئی سے کلی پراستدلال کیاجائے ۔  

وضاحت :

            اصطلاح منطق میں کسی کلی کی اکثر جزئیات کی تفتیش کر کے کسی خاص وصف کا حکم پوری کلی پر لگانا استقراء کہلاتا ہے ۔  جیسے ہم نے دیکھا کہ انسان، فرس ، غنم، وغیرہ چباتے وقت نیچے والاجبڑا ہلاتے ہیں توہم نے تمام حیوانوں پر حکم لگا دیا کہ ہرحیوان چباتے وقت نیچے والا جبڑا ہلاتاہے ۔  

 



Total Pages: 54

Go To