Book Name:Nisab-ul-Mantiq

            لادوام سے ایسے مطلقہ عامہ کی طرف اشارہ ہوتاہے جو کیف میں پہلے قضیہ کے مخالف اور کم میں پہلے قضیہ کے موافق ہواور لاضرورۃ سے اشارہ ایسے ممکنہ عامہ کی طرف ہوتاہے جوکیف میں پہلے قضیہ کے مخالف اور کم میں موافق ہوتاہے ۔  

فائدہ :

            قضیہ موجہہ مرکبہ کی مذکورہ اقسام کو مرکبات سبعہ کہاجاتاہے ۔   

نوٹ :  کیف سے مراد ایجاب وسلب اور کم سے مراد کلیت وجزئیت ہے ۔

٭٭٭٭٭

مشق

سوال نمبر1 : ۔ جہت مذکور ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے قضیہ حملیہ کی اقسام بیان کریں  ۔

سوال نمبر2 :  ۔ بسائط ثمانیہ تفصیلا تحریر کریں  ۔

سوال نمبر3 : ۔ مرکبات سبعہ تفصیلا ذکر کریں  ۔

 ٭…٭…٭…٭

ابتداء حقیقی، ابتداء اضافی اور ابتداء عرفی کا فرق

          تینوں میں فرق یہ ہے :

          1   ابتداء حقیقی وہ ہے جو سب پر مقدم ہو، اس طور پر کہ اس سے پہلے کوئی شی نہ ہو ۔

            2  اور ابتداء عرفی وہ ہے جو مقصود سے پہلے ہو، خواہ اس شی سے پہلے کوئی شی ہویا نہ ہو ۔

            3  اور ابتداء اضافی کی دوتعریفیں ہیں :  ایک یہ ہے کہ ابتداء اضافی وہ ہے جو کسی شی پر مقدم ہوخواہ اس سے پہلے کچھ ہویانہ ہو، دوسری تعریف یہ ہے کہ بعض پر مقدم ہواور بعض پر مؤخر ۔

 

سبق نمبر :  35

{…قضیہ شرطیہ کی تقسیم…}

             قضیہ شرطیہ کی تین طرح سے تقسیم کی جاتی ہے ۔

            ۱… حکم کے اتصال وانفصال کے اعتبار سے ۔

            ۲…حکم کے تقدیرِ معین پر ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے ۔

            ۳…  طرفین کی اصل کے اعتبار سے ۔

۱ ۔  حکم کے اتصال وانفصال کے اعتبار سے قضیہ شرطیہ کی تقسیم

اس اعتبار سے قضیہ شرطیہ کی دوقسمیں ہیں :        ۱ ۔  متصلہ             ۲ ۔ منفصلہ

۱ ۔ قضیہ شرطیہ متصلہ :

            وہ قضیہ جس میں ایک قضیہ کے تسلیم کرلینے پر دوسرے قضیہ کے ثبوت یا نفی کا حکم لگایا جائے ۔  اگر ثبوت کا حکم ہوتواسے متصلہ موجبہ کہیں گے ۔ جیسے :  اِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَالنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ (اگرسورج نکلے گا تو دن موجود ہوگا)اور اگر نفی کا حکم ہوتواسے متصلہ سالبہ کہیں گے جیسے لَیْسَ أَلْبَتَّۃَ کُلَّمَا کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً کَانَ اللَّیْلُ مَوْجُوْدًا (ایسا نہیں ہے کہ جب سورج طلوع ہوتو رات موجودہو)  ۔

وضاحت :

            اگرپہلی مثال میں کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً کو مان لیاجائے تودن کی موجودگی کا حکم لگایا جائے گا ۔ اسی طرح دوسری مثال میں پہلے قضیے ( کُلَّمَاکَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃ) کومان لیا جائے تو رات کی نفی کا حکم لگایا جائے گا  ۔

۲ ۔  قضیہ شرطیہ منفصلہ :

            وہ قضیہ شرطیہ ہے جس میں دو چیزوں (مقدم اور تالی) کے درمیان منافات (جدائی) ہونے کا حکم لگایا گیا ہو ۔ یا دو چیزوں (مقدم اور تالی)کے درمیان سے منافات اور ضدیت(جدائی) کی نفی کردی گئی ہو ۔  اول کو ’’منفصلہ موجبہ‘‘ اور ثانی کو’’ منفصلہ سالبہ‘‘ کہتے ہیں  ۔

             موجبہ کی مثال :   ھٰذَاالشَّیْئُ اِمَّا شَجَرٌ أَوْحَجَرٌ  ۔ یہاں اس بات کا حکم ہے کہ شجراورحجر ایک دوسرے کے منافی ہیں یعنی دونوں کے درمیان جدائی ثابت کی گئی ہے ۔ لہذا یہ شئی یا شجر ہوگی یا حجر ۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک شے شجر بھی ہو اور حجر بھی ۔

 



Total Pages: 54

Go To