Book Name:Nisab-ul-Mantiq

سبق نمبر :  32

وجود موضوع کے اعتبار سے قضیہ حملیہ کی تقسیم

اس اعتبار سے قضیہ حملیہ کی تین قسمیں ہیں  ۔

۱ ۔  قضیہ حملیہ خارجیہ       ۲ ۔  قضیہ حملیہ ذہنیہ                         ۳ ۔  قضیہ حملیہ حقیقیہ

۱ ۔ قضیہ حملیہ خارجیہ :

            وہ قضیہ حملیہ ہے جس میں موضوع پر خارج میں موجودہونے کے اعتبارسے حکم لگایا گیاہو ۔ جیسے زَیْدٌ کَاتِبٌ ۔

وضاحت :

            اس مثال میں زید (موضوع) پر کاتب کاحکم زید کے خارج میں ہونے کے اعتبار سے لگایا گیا ہے ۔

۲ ۔  قضیہ حملیہ ذہنیہ :

            وہ قضیہ حملیہ جس میں موضوع پر ذہن میں ہونے کے اعتبار سے حکم لگایا گیا ہو ۔  جیسے أَلاِنْسَانُ کُلِّیٌّ ۔

وضاحت :

            اس مثال میں الانسان (موضوع) پر کلی کاحکم ذہن میں موجود ہونے کے اعتبار سے لگایا گیاہے ۔

۳ ۔ قضیہ حملیہ حقیقیہ :

            وہ قضیہ حملیہ جس میں موضوع پر خارج وذہن سے قطع نظر فقط نفس الامر([1]) میں واقع ہونے کے اعتبار سے حکم لگایا گیاہو ۔ جیسے أَلاَرْبَعَۃُ زَوْجٌ (چارجفت ہے ) اس مثال میں أَلاَرْبَعَۃُ (موضوع) پر فقط اس اعتبار سے زوجیت کا حکم لگایا گیا ہے کہ وہ نفس الامر میں واقع ہے ۔

فائدہ :

            اہل منطق کے نزدیک جہان کی تین قسمیں ہیں  :

۱ ۔  جہان خارجی                 ۲ ۔  جہان ذہنی      ۳ ۔  جہان نفس الامری

۱ ۔ جہان خارجی :

            جس جہان میں ہم سب یعنی چاند ، تارے اور سورج وغیرہ موجود ہیں یہ جہان خارجی ہے ۔  

۲ ۔  جہان ذہنی :

            وہ جہان جو فقط ہمارے ذہنوں میں موجود ہو جیسے کلی ، جنس، نوع ، وغیرہ ہونا یہ تمام چیزیں ہمارے ذہنوں میں ہیں خارج میں نہیں  ۔

۳ ۔   جھان نفس الامری :

            وہ جہان جس میں کسی چیزکے وجود پر اس کے ذہنی اورخارجی ہونے سے قطع نظر کرکے حکم لگایاگیا ہو، جیسے چار جفت ہے تین چھ کا آدھا ہے وغیرہ ۔

٭٭٭٭٭

 

مشق

سوال نمبر1 :  ۔ حمل کی تعریف و اقسام تفصیلا تحریر کریں  ۔

سوال نمبر2 : ۔ حرف سلب کے موضوع یامحمول کا جز بننے یا نہ بننے کے اعتبار سے قضیہ حملیہ کی اقسام بیان کریں  ۔

سوال نمبر3 : ۔ وجود موضوع کے اعتبار سے قضیہ حملیہ کے اقسام تحریر کریں  ۔

سوال نمبر4 :  ۔ اہل منطق کے نزدیک جہان کی کتنی قسمیں ہیں ؟            

 

 

٭…٭…٭…٭

٭فرمان مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ٭

            ٭…سید المبلغین، رحمۃ اللعالمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان عالیشان ہے : ’’زمین میں سب سے پہلے بیت اللہ شریف کا ٹکڑا رکھا گیا، پھر اس سے دوسری زمین پھیلادی گئی اور سطح زمین پر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے سب سے پہلے جو پہاڑ رکھا وہ جبل ابی قبیس ہے پھر اس سے پہاڑوں کا سلسلہ پھیلا ۔ ‘‘

 



[1]   نفس الامر :  امر بمعنی شے ہے لہذا نفس الامر کا معنی نفسِ شے ہوا ۔ نفسِ شے کہتے ہیں شے کا بالذات بلا فرضِ فارض ، بلا اعتبارِ معتبر اور بلا حکایتِ حاکی پایا جانا ۔  مثلا قمر با لذات پایا جاتا ہے خواہ اس کا کوئی اعتبار کرے یا نہ کرے ، خواہ کوئی اس کو فرض کرے یا نہ کرے اورخواہ کوئی اس کی حکایت کرے یا نہ کرے ۔



Total Pages: 54

Go To