Book Name:Nisab-ul-Mantiq

متصف کرکے اس علم سے دامن کو سمیٹا جارہا ہے حتی کہ طلباء اس سے بیزار دکھائی دیتے ہیں ، جس کی ایک وجہ اس علم کی اہمیت سے نابلد ہونا ہے ۔ چنانچہ اس علم کی اہمیت پر کچھ روشنی ڈالی جاتی ہے :

            امام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی نے اس علم کو دیگر علوم کی پختگی کیلئے معیار قرار دیا ۔  چنانچہ حجۃ الاسلام حضرت امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں  : ’’مَنْ لَمْ یَعْرِفِ الْمَنْطِقَ فَلا ثِقَۃَ لَہٗ فِی الْعُلُوْمِ اَصْلاً ‘‘یعنی جو منطق نہیں جانتا اسے علوم میں بالکل پختگی حاصل نہیں ہوتی ۔                                                 ( فتاوی رضویہ قدیم ج ۱۰ حصہ اول ص ۸۱)

            ایسے ہی خاتَم المحققین الشہیر بابن عابدین علامہ امین شامی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں :  ’’سَمَّاہُ الْغَزَالِیُّ مِعْیَارَ الْعُلُوْمِ وَقَدْ أَلَّفَ فِیْہِ عُلَمَائُ الاِسْلاَمِ وَمِنْھُمُ الْمُحَقِّقُ ابْنُ الْھُمَامِ ’’یعنی امام غزالی علیہ رحمۃ الوالی نے اس (منطق) کانام معیارِ علوم رکھا ہے اور علمائِ اسلام نے اس میں تالیفات فرمائی ہیں ان علماء میں سے محقق امام ابن ہمام علیہ رحمۃ الرحمن بھی ہیں ۔ ( فتاوی رضویہ قدیم ج ۱۰ حصہ اول ص ۸۱)

            امامِ اہلسنت مجددِدین وملت اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں ’’نفسِ منطق ایک علمِ آلی وخادمِ اعلی الاعالی(عظیم الشان علوم کاخادم) ہے اس کے اصل مسائل یعنی مباحث کلیاتِ خمسہ وقولِ شارح وتقاسیمِ قضایا وتناقض وعکوس وصناعاتِ خمس کے تعلم میں اصلاً حرجِ شرعی نہیں اورنہ ہی یہ مسائل شریعتِ مطہّرہ سے کچھ مخالفت رکھیں  ۔ ‘‘

            مزید فرماتے ہیں ’’آئمہِ مؤیدین بِنُوْرِاللّٰہِ الْمُبِیْنِ اپنی سلامت فطرتِ عالیہ کے باعث اس کی عبارات واصطلاحات سے مستغنی (بے نیاز)تھے توان کے غیر بے شک ان قواعد کی حاجت رکھتے ہیں  ۔ جیسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نحو وصرف ومعانی وبیان وغیرہا علوم کی احتیاج نہ تھی کہ یہ ان کے اصل سلیقہ میں مرتکز (موجود)تھے اس سے ان کے غیر کا افتقار منتفی نہیں ہوتا ۔ (یعنی ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کے محتاج ہونے کی نفی نہیں ہوتی) ۔

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں ’’بہت ائمہ کرام نے اس سے اشتغال رکھا بلکہ اس میں تصانیف فرمائیں ‘‘ ۔  (ایضا)

 صدرالشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃالقوی فرماتے ہیں ’’ منطق کی تعلیم جائز ہے کہ فی نفسہ منطق میں دین کے خلاف کوئی چیز نہیں اسی وجہ سے متاخرین متکلمین نے منطق کو علم کلام کاایک جزء قرار دے دیا اوراصول فقہ میں بھی منطق کے مسائل بطور مبادی ذکرکرتے ہیں  ۔ ‘‘   (بہارشریعت حصہ ۱۴ کتاب الاجارہ ص ۸۳ فرید بک ڈپو دہلی )

            علم منطق کی اسی اہمیت کے پیش نظر ’’دعوت اسلامی‘‘ کی مجلس’’ المدینۃ العلمیہ‘‘ کے ’’شعبہ درسی کتب‘‘نے علم منطق کے انتہائی اہم قواعد پر مشتمل کتاب بنام’’نصاب المنطق‘‘ پیش کرنے کی سعی کی ہے ۔ جس پر مندرجہ ذیل طریقہ کار کے مطابق کام کیا گیا ہے :

٭…اسباق کو حتی المقدور آسان کرکے پیش کیاگیاہے تاکہ طلباء کو یاد کرنے میں آسانی ہو ۔

٭…منطق کے تمام اہم اسباق کو شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔

٭…اسباق میں نئی امثلہ بھی شامل کی گئی ہیں  ۔

٭…منطقی تعریفات کو ’’وضاحت ‘‘کے ذریعے آسان بنایاگیاہے  ۔

٭کتاب کی افادیت کو بڑھانے کے لیے اسباق کے آخر میں مشقوں کا اندراج بھی کیا گیاہے  ۔

٭…طلباء کے علمی ذوق کیلئے جگہ بہ جگہ انتہائی مفید معلومات کابھی اہتمام کیا گیاہے ۔

            ان تمام تر کوششوں کے باوجود اگر اہل فن کتابت کی یا فنی غلطی پائیں تو مجلس کو مطلع فرما کر مشکور ہوں  ۔

            اللہ عزوجل سے دعاء ہے کہ بانیٔ دعوت اسلامی حضرت مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری مدظلہ العالی وتمام علماء اہل سنت کا سایۂ عاطفت ہمارے سروں پر تادیر قائم رکھے اورہمیں ان کے فیوض وبرکات سے مستفیض فرمائے اورقرآن وسنت کی عالم گیر غیر سیاسی تحریک ’’دعوت اسلامی‘‘ کی تمام مجالس بشمول ’’المد ینۃ العلمیۃ‘‘  کو دن پچیسویں ، رات چھبیسویں ترقی عطا فرمائے ۔              (آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم)

                                                                                                      شعبۂ درسی کتب

مجلس ا لمدینۃ ا لعلمیہ (دعوت اسلامی)

 

 

تاریخ منطق

            پہلی اوردوسری صدی ہجری تک مسلمانوں کا واسطہ منطق کے مروجہ علم سے نہ پڑا تھا وہ اپنی فطرتِ سلیمہ ( جوکہ علم منطق کی ابحاث سے مستغنی تھی) کے مطابق قرآنِ کریم کے ارشادات اوراپنے آقا ومولا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اقوال وافعال پر عمل پیراتھے  ۔

            تیسری صدی ہجری میں جب مہتابِ اسلام کی روشنی جزیرئہ عرب کے ساتھ ساتھ عجم کو بھی روشن کررہی تھی اس وقت یونان کے مشرک منطقی عقلی راہ سے اسلام پر حملہ آور ہوئے اور اللہ تعالی کی ذات وصفات پر اعتراضات کرنے لگے ۔  اس لئے ضرورت محسوس ہوئی کہ ان مدعیانِ عقل ودانش کی منطق کو سمجھا جائے اوران کوانہی کی منطق سے جواب دیا جائے جیسا کہ عربی مقولہ ہے ۔  أَلْحَدِیْدُ بِالْحَدِیْدِ یُفْلَحُ  (لوہا لوہے کو کاٹتا ہے ) ۔

            بہرحال زمانہ گزرتا رہا اس فن کو مسلمانوں میں چھٹی صدی ہجری کے آخر اور ساتویں صدی ہجری کی ابتداء میں بہت زیادہ اہمیت حاصل ہوگئی اور اس کے بعد امام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی کے دورمیں اس کے عروج کا یہ عالم تھا کہ اس زمانہ میں تفسیر، بلاغت وعلم الکلام اوراصول فقہ میں سے شاید ہی کوئی کتاب ہوجس پراس فن کی چھاپ نہ ہو ۔

            پاک وہند میں اس فن کو بڑی پذیرائی حاصل ہوئی اور ڈیڑھ سوبرس تک یہ فن اعلی ذہانتوں کا مرکز رہا  ۔ درس نظامی میں ملّا نظام الدین علیہ رحمۃ اللہ المبین نے اس فن کی ایک کتاب



Total Pages: 54

Go To