Book Name:Nisab-ul-Mantiq

            اگر سائل چند مختلف الحقائق اشیاء کے متعلق سوال کرے ۔ جیسے أَلاِنْسَانُ وَالْبَقَرُ وَالْفَرَسُ مَا ھِیَ ؟کے جواب میں حیوان ۔

وضاحت :

            کیونکہ اس وقت سائل کامقصدیہ ہوتاہے کہ مجھے کوئی ایسی حقیقت بتاؤ جو تمامِ مشترک ہو اور تمامِ مشترک صرف جنس ہی ہوتی ہے اس لئے جواب میں جنس واقع ہوگی ۔  

فائدہ :

            تمام مشترک اس جز مشترک کو کہتے ہیں جو چندحقیقتوں کے تمام اجزاء مشترکہ کو گھیرے ہوئے ہو ۔  جیسے حیوان ۔  یہ انسان ، فرس، غنم اور حمار وغیرہ کے تمام اجزاء مشترک (جوہر، جسم نامی، حساس ، متحرک بالارادہ) کو گھیرے ہوئے ہے ۔  

أَیٌّ کا استعمال :

            کسی شے کو اس کے غیر سے ممتاز کرنے کیلئے أَیٌّ کا لفظ استعمال کیا جاتاہے  ۔

أَیٌّ کا جواب :

            أَیٌّ کے جواب میں دوچیزیں واقع ہوسکتی ہیں ۔    ۱ ۔ فصل         ۲ ۔  خاصہ

۱ ۔ فصل :

            جب سائل سوال میں أَیُّ شیٍ کے ساتھ فی ذاتہ کا اضافہ کرے جیسے أَلاِنْسَانُ أَیُّ شَیء ہُو فِیْ ذَاتِہ؟ تو اس کے جواب میں ناطق بولیں گے  ۔

وضاحت :

            کیونکہ ایسے سوال سے سائل کا مقصد یہ ہوتاہے کہ اسے کوئی ایساحقیقت کا جز بتایا جائے جو تمام مشترک نہ ہو ۔ اور انسان کو اس کے تمام غیروں سے جدا کردے ۔  اورایسا جزء صرف فصل ہی ہوسکتا ہے ۔  

۲ ۔ خاصہ :

            جب سائل سوال میں ای شی کے ساتھ فی عرضہ کا اضافہ کرے ۔ جیسے أَلاِنْسَانُأَیُّ شَیْئٍ  فِیْ عَرْضِہٖ؟ کے جواب میں ضاحک یا کاتب  ۔

وضاحت :

            ایسے سوال میں سائل کا مقصود یہ ہوتاہے کہ مجھے کوئی ایسی شی بتاؤ جو انسان کی حقیقت سے توخارج ہولیکن اس کو تمام غیروں سے ممتازکردے ۔  ایسی شی صرف خاصہ ہی ہوسکتی ہے  ۔

٭٭٭٭٭

مشق

 

 

سوال نمبر1 :  ۔ معرِّف کی تعریف، شرائط اور اقسام تفصیلا بیان کریں  ۔

سوال نمبر2 :  ۔ ’’ما ھو‘‘ کی اصطلاح سے کیا مراد ہے ؟نیز بتائیں کہ ’’ما ھو‘‘ کا جواب  کتنی اشیاء کے ذریعے دیا جاسکتا ہے ؟

سوال نمبر3 :  ۔ درج ذیل سے معرف کی اقسام پہچانیں  ۔

            جسم ناہق  ۔ حمار کے لئے ۔ جسم ضاحک ۔ انسان کے لئے ۔  حساس  ۔ حیوان کے لئے ۔   حیوان ناطق ۔  انسان کے لئے ۔  حیوان صاہل ۔ فرس کے لئے

سوال نمبر4 :  ۔ ’’ایٌّ‘‘کے جواب کی وضاحت بیان کریں  ۔

٭…٭…٭…٭

سبق نمبر :  28

{…قضیہ اور اسکی اقسام…}

قضیہ :    قضیہ کی تعریف دوطرح سے کی جاتی ہے ۔

             ۱ ۔ ’’ ھُوَ قَوْلٌ یَحْتَمِلُ الصِّدْقَ وَالْکِذْبَ‘‘قضیہ ایک ایسا قول ہے جو صدق وکذب کااحتمال رکھتاہے ۔  

            ۲ ۔ ’’ ھُوَ قَوْلٌ یُقَالُ لِقَائِلِہٖ اِنَّہٗ صَادِقٌفِیْہِ أَوْ کَاذِبٌ‘‘قضیہ ایک ایسا قول ہے جس کے کہنے والے کو سچا یاجھوٹا کہا جاسکے ۔  جیسے زَیْدٌجَالِسٌ ۔

فائدہ :

            صدق کا معنی ہے  : مُطَابَقَۃُ النِّسْبَۃِ لِلْوَاقِعِ یعنی کلام کی نسبت کا واقع کے مطابق ہوناجیسے : زَیْدٌنَائمٌ اِس قضیہ میں زید اور نائم میں نسبتِ ایجابی ہے لہذااگر واقع میں بھی زید سو رہا ہے تو یہ نسبتِ کلامی واقع کے مطابق ہے اور اسی مطابقت کا نام صدق ہے ۔ کذب کا معنی ہے عَدَمُ مُطَابَقَۃِ النِّسْبَۃِ لِلْوَاقِعکلام کی نسبت کا واقع کے مطابق نہ ہونا جیسے : مثالِ مذکور کہ اگر واقع یعنی خارج میں



Total Pages: 54

Go To