Book Name:Nisab-ul-Mantiq

کیلئے رسمِ تام ہے کیونکہ حیوان انسان کیلئے جنسِ قریب اور ضاحک انسان کاخاصہ ہے ۔  

۴ ۔  رسم ناقص :

            اِنْ کَانَ بِالْجِنْسِ الْبَعِیْدِ وَالْخَاصَّۃِ أَوْبِالْخَاصَّۃِ وَحْدَھَا یُسَمّٰی رَسْمًا نَاقِصًا ۔  اگر تعریف جنسِ بعید اورخاصہ سے ہو یا صرف خاصہ سے ہوتو اسے رسمِ ناقص کہتے ہیں جیسے :  جسمِ ضاحک یا صرف ضاحک کے ذریعے انسان کی تعریف کرنا رسمِ ناقص ہے کیونکہ جسم انسان کیلئے جنسِ بعید اورضاحک انسان کا خاصہ ہے ۔  

فائدہ :

            تعریف کی دو قسمیں ہیں تعریفِ حقیقی اورتعریفِ لفظی، جس تعریف کا بیان ہوا وہ حقیقی ہے اور غیر مشہور لفظ کی مشہور لفظ سے تعریف کرنے کو تعریف ِلفظی کہتے ہیں جسیے غضنفر کی تعریف اسد سے کرنا ۔

٭٭٭٭٭

 ٭’’ایُّ شیء‘‘ اور ’’ماھو‘‘ میں فرق٭

واضح ہو کہ ان دونوں میں دو طرح کا فرق ہے  :

            1…اگر ماہیت مختصہ یا ماہیت مشترکہ دریافت کرنی ہوتو ماہو کے ذریعے سوال کیا جاتاہے ۔

            2…اسی طرح اگر ممیز دریافت کرنا ہوتو سوال میں ای شیء کو لایاجاتاہے ۔

 

سبق نمبر :  27

{…’’مَاھُوَ‘‘ اور’’أَیٌّ‘‘ کابیان …}

            ’’ماھو‘‘ا ور’’أی‘‘ کی اصطلاح علم منطق میں کسی شے کے بارے میں سوال کرنے کیلئے استعمال کی جاتی ہے اوران دونوں کے استعمال میں فرق ہے جس کی تفصیل درج ذیل ہے ۔  

ماھو کا استعمال :

            ماھو کے ذریعے کسی شے کی حقیقت کے بارے میں سوال کیاجاتاہے ۔  

ماھو کا جواب :

ماھو کے جواب میں تین چیزیں واقع ہوسکتی ہیں  ۔

۱ ۔  حد تام                        ۲ ۔  نوع               ۳ ۔  جنس

۱ ۔  حد تام :

            جب سائل صرف ایک ہی کلی کے بارے میں سوال کرے جیسے أَلاِنْسَانُ مَاھُو؟ تو اس کے جواب میں حیوان ناطق کہا جائے گا  ۔ جو کہ انسان کے لئے حد تام(یعنی انسان کی مکمل تعریف) ہے ۔

وضاحت :

            کیونکہ اس سوال سے سائل کا مقصد یہ ہوتاہے کہ وہ سوال میں ذکرکردہ کلی کی حقیقت کو وضاحت کے ساتھ جانے اور اس کایہ مقصد اسی صورت میں پورا ہوسکتاہے جب ہم اسے حدتام کے ساتھ جواب دیں  ۔

۲ ۔ نوع :

            یہ دومقامات پرجواب میں واقع ہوتا ہے ۔  

            ۱ ۔  جب سائل ایک امر شخصی (جزئی) کے بارے میں سوال کرے ۔ جیسے زَیْدٌ مَاھُوَ؟ کے جواب میں ھُوَاِنْسَانٌ  ۔

وضاحت :

            کیونکہ یہاں سائل کا مقصد جزئی کی ماہیتِ مختصہ کو جانناہے اور یہ مقصد نوع کے ذریعے ہی پورا کیا جاسکتاہے ۔  لہذا جواب میں نوع واقع ہو گا ۔  

            ۲ ۔  جب سائل ایک ہی حقیقت کے چند افراد کے بارے میں سوال کرے ۔ جیسے زَیْدٌ وَبَکْرٌ وَ عُمَرُ مَاھُمْ؟ کے جواب میں ھُمْ اِنْسَانٌ  ۔

وضاحت :

            کیونکہ ایسے سوال میں سائل کا مقصود یہ ہوتاہے کہ وہ سوال میں مذکور افراد کی ماہیت کو جانے جوکہ تمام افراد میں متفق اورمتحد ہو اور سائل کے اس مقصد کو صرف نوع کے ذریعے ہی پورا کیا جاسکتاہے  ۔

۳ ۔ جنس :

 



Total Pages: 54

Go To