Book Name:Nisab-ul-Mantiq

            وہ عرض ہے جواپنے معروض سے جلدی جداہوجاتاہو جیسے :  غصہ کی سرخی  ۔

۲ ۔  بطیئی الزوال :

            وہ عرض ہے جواپنے معروض سے جلدی جدانہ ہو  ۔ جیسے :  جوانی کہ یہ انسان سے جلدی جدا نہیں ہوتی ۔

٭٭٭٭٭

 

مشق

سوال نمبر1 :  ۔ خاصہ اور عرض عام کی تعریف کریں  ۔

سوال نمبر2 :  ۔ خاصہ شاملہ اور غیر شاملہ کی وضاحت کریں  ۔

سوال نمبر3 :  ۔ عرض لازم و عرض مفارق کی تعریف کریں اور مثالیں بھی دیں  ۔

سوال نمبر4 :  ۔ ماہیت و وجود کے اعتبار سے لازم کی تقسیم بیان کریں  ۔

سوال نمبر5 :  ۔ دلیل کی طرف محتاج ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے لازم کی تقسیم تحریرکریں  ۔

سوال نمبر6 : ۔ قابل زوال ہونے اور ناقابل زوال ہونے کے لحاظ سے عرض مفارق کی کتنی اقسام ہیں ؟

٭…٭…٭…٭

 

سبق نمبر :  26

{… معرِّف کا بیان …}

            منطق کا موضوع ’’معلومات تصوریہ‘‘ اور’’ معلو مات تصدیقیہ‘‘ ہیں معلومات تصدیقیہ کو حجت کہتے ہیں جس کا بیان آگے آئے گا یہاں پر معلومات تصوریہ کا بیان کیا جاتاہے  ۔ معلومات تصوریہ کو قولِ شارح اور معرِّف بھی کہتے ہیں  ۔ ان معلومات تصوریہ سے جو مجہولِ تصوری حاصل ہو اسے معرَّف کہتے ہیں جیسے حیوانِ ناطق سے انسان کا علم حاصل ہوتاہے ۔   لہذاحیوانِ ناطق معرِّف اور انسان معرَّف ہے ۔

معرِف کی تعریف :

            ’’مُعَرِّفُ الشَّیْ ئِ مَایُحْمَلُ عَلَیْہِ لِاِفَادَۃِ تَصَوُّرِہٖ‘‘یعنی کسی شئے کا معرف وہ مفہوم ہوتا ہے جو اس شے پر محمول ہو، تاکہ اس شئے کے تصور کا فائدہ دے ۔ مثلا حیوانِ ناطق ، انسان کے لئے ۔

وضاحت :

            اس مثال میں انسان ’’معرَف یاشے ‘‘ اور حیوانِ ناطق ’’معرِف‘‘ہے ۔ اس معرِف یعنی حیوان ناطق کو انسان پر اس لئے محمول کیا گیا تاکہ انسان کی حقیقت معلوم ہوجائے ۔

معرِف کی شرائط  :

معرِف کے صحیح ہونے کیلئے دوشرائط ہیں  :

            ۱ ۔  معرِف اور معرَف میں تساوی کی نسبت ہو ۔

            ۲ ۔  معرِف بنسبت معرَف کے زیادہ ظاہر ہو ورنہ تعریف کا مقصد حاصل نہ ہوگا ۔

معرِف کی اقسام :

معرف کی چار اقسام ہیں  ۔

۱ ۔  حدِّتام                       ۲ ۔  حد ناقص                    ۳ ۔  رسمِ تام                      ۴ ۔  رسم ناقص

۱ ۔  حدتام :

            ’’فَالتَّعْرِیْفُ اِنْ کَانَ بِالْجِنْسِ الْقَرِیْبِ وَالْفَصْلِ الْقَرِیْبِ یُسَمّٰی حَدًّا تَامًّا‘‘ اگر تعریف جنسِ قریب اورفصلِ قریب سے ہو تواسے حدتام کہتے ہیں  ۔ جیسے حیوانِ ناطق ، انسان کیلئے حدتام ہے کیونکہ حیوان انسان کیلئے جنس قریب اور ناطق انسان کیلئے فصل قریب ہے ۔  

۲ ۔  حد ناقص :

            ’’اِنْ کَانَ بِالْجِنْسِ الْبَعِیْدِ وَالْفَصْلِ الْقَرِیْبِ أَوْبِہٖ وَحْدَہٗ یُسَمّٰی حَدًّا نَاقِصًا‘‘اگر تعریف جنسِ بعید اور فصلِ قریب سے ہو یا صرف فصلِ قریب سے ہوتو اسے حدِّ ناقص کہتے ہیں ۔ جیسے :  جسمِ ناطق یا صرف ناطق کے ذریعے انسا ن کی تعریف کرناحدِّ ناقص ہے کیونکہ جسم انسان کیلئے جنسِ بعید اور ناطق انسان کیلئے فصلِ قریب ہے ۔  

۳ ۔  رسم تام :

            ’’اِنْ کَانَ بِالْجِنْسِ الْقَرِیْبِ وَالْخَاصَّۃِ یُسَمّٰی رَسْمًا تَامًّا‘‘اگر تعریف جنسِ قریب اورخاصہ سے ہو تو اسے رسمِ تام کہتے ہیں ۔ جیسے حیوانِ ضاحک کے ذریعے انسان کی تعریف کرنا انسان



Total Pages: 54

Go To