Book Name:Nisab-ul-Mantiq

          دافع رنج وملال، صاحب جودونوال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان عالیشان ہے :  ’’چھ چیزیں عمل کو ضائع کردیتی ہیں :  (۱)مخلوق کے عیب کی ٹوہ میں لگے رہنا ۔ (۲)دل کی سختی ۔ (۳) دنیا کی محبت ۔ (۴)حیا کی کمی ۔ (۵)لمبی امید اور ۔ (۶) حد سے زیادہ ظلم ۔ ‘‘

(’’جہنم میں لے جانے والے اعمال، جلداول، ص۲۷۵، مطبوعہ مکتبۃ المدنیہ باب المدینہ‘‘)

سبق نمبر :  25

معروض سے جد اہونے یا نہ ہونے کے اعتبارسے کلی عرضی کی تقسیم

اپنے معروض سے جدا ہونے یا نہ ہونے کے اعتبارسے کلی عرضی یعنی خاصہ اور عرض عام کی دوقسمیں ہیں :  

۱ ۔  عرض لازم                  ۲ ۔  عرض مفارق

۱ ۔  عرض لاز م :

            وہ کلی عرضی ہے جسکا اپنے معروض سے جداہوناممتنع ہو  ۔ جیسے :  زوجیت (یعنی جفت ہونا )چار کے عدد کیلئے ۔

وضاحت :

اس مثال میں ’’اربعۃ‘‘ معروض اور ’’جفت ہونا‘‘اس کا لازم ہے اور اس کا اپنے معروض یاملزوم سے جدا ہونامحال ہے  ۔

۲ ۔  عرض مفارق :

            وہ کلی عرضی ہے جس کا اپنے معروض سے جداہونا ممکن ہو  ۔ جیسے :  حرکت فلک کے لئے عرضِ مفارق ہے کیونکہ حرکت فلک ([1])سے جدا ہوسکتی ہے ۔

لازم کی تقسیمات

 لازم کی بھی دوطرح سے تقسیم کی جاتی ہے ۔  

            ۱ ۔  ماہیت ووجود کے ا عتبار سے ۔

            ۲ ۔ دلیل کی طرف محتاج ہونے یانہ ہونے کے اعتبارسے ۔  

ماہیت ووجود کے ا عتبارسے لازم کی تقسیم

اس اعتبارسے لازم کی تین قسمیں ہیں  :

۱ ۔  لازم ماہیت       ۲ ۔  لازم وجود خارجی            ۳ ۔  لازم وجود ذہنی

۱ ۔  لازم ماہیت کی تعریف :

            وہ لازم ہے جسکا معروض سے جداہونا معروض کی ماہیت کی وجہ سے ( قطع نظر وجودِ ذہنی وخارجی کے )ممتنع ہو جیسے :  زوجیت اربعہ کیلئے ۔

وضاحت :

            زوجیت ار بعہ کیلئے لازم ماہیت اس لئے ہے کہ اربعہ کی ماہیت یہ چاہتی ہے کہ جفت ہونا اس سے جدا نہ ہو خواہ اربعہ خارج میں پایا جائے یاذہن میں ہرصورت میں اسے زوجیت لازم ہے ۔  

 

۲ ۔  لازم وجود خارجی :

             وہ لازم ہے جو معروض کولازم ہواس کے خارج میں پائے جانے کے وقت  ۔ جیسے :  جلانا آگ کیلئے ۔

وضاحت :

            جلانا آگ کے لیے لازم وجود خارجی ہے ۔ کیونکہ ’’جلانا‘‘آگ کو اس کے خارج میں پائے جانے کے وقت لازم ہے نہ کہ ذہن میں پائے جانے کے وقت ۔

۳ ۔  لازم وجودذہنی :

            وہ لازم ہے جومعروض کوذہن میں پائے جانے کے وقت لازم ہو ۔  جیسے :  کلی ہوناانسان کیلئے  ۔

وضاحت :

            کلی ہونا انسان کو ذہن کے اعتبار سے لازم ہے  ۔ کیونکہ کلی یا جزئی ہونا عقلی باتیں ہیں جن کا خارج میں وجود نہیں  ۔

دلیل کی طرف محتاج ہونے یانہ ہونے کے اعتبارسے لازم کی تقسیم

اس اعتبارسے لازم کی دوقسمیں ہیں :    ۱ ۔  لازم بیّن         ۲ ۔  لازم غیر بیّن

۱ ۔ لازم بیّن :

            وہ لازم ہے جس کے لزوم پردلیل کی ضرورت نہ ہو ۔ جیسے :  آگ کیلئے جلانا ۔

 



[1]     قال النسفی :  والجُمھور علی أن الفلک موج مکفوف تحت السماء تجری فیہ الشمس والقمر والنجوم ۔  (تفسیر النسفی، سورۃ الانبیاء : ۳۳)



Total Pages: 54

Go To