Book Name:Nisab-ul-Mantiq

وضاحت :

            زید کا مفہوم’’ ذات زید ‘‘پر دلالت کرتا ہے ۔ عمر و ، بکر وغیرہ پر نہیں  ۔ لہذا زید کا مفہوم ایسا مفہوم ہوا جس میں اس کے علاوہ کوئی شریک نہیں ۔

۲ ۔  جزئی اضافی :

            ’’ھُوَ مَا کَانَ أَخَصُّ تَحْتَ الأَعَمِّ‘‘یعنی ہروہ اخص جو اعم کے تحت آئے ۔  جیسے :  انسان ۔

وضاحت :

            چونکہ انسان کے افراد حیوان کے افراد سے کم ہیں ۔ لہذانسان اخص ہے یہ صرف انسانوں (زید، عمر ، بکروغیرہ) پر ہی بولا جاتاہے اور حیوان اعم ہے کیونکہ یہ انسانوں کے علاوہ دیگر اشیاء (حمار، غنم، فرس وغیرہ) پر بھی بولا جاتاہے ۔  لہذا انسان ایسا اخص ہوا جو اعم ( حیوان) کے تحت پایا جارہا ہے اور ہراخص جو اعم کے تحت ہو وہ جزئی اضافی ہوتاہے لہذاانسان جزئی اضافی ہوا ۔

فائدہ :

            جزئی حقیقی ’’خاص‘‘ اور جزئی اضافی’’ عام‘‘ ہے یعنی ہر جزئی حقیقی جزئی اضافی توہوتی ہے لیکن ہرجزئی اضافی جزئی حقیقی نہیں ہوتی ۔ جیسے :  زید جزئی حقیقی ہے کیونکہ اس کا اطلاق خاص اور معین پر ہوتاہے ا سی طرح زید جزئی اضافی بھی ہے کیونکہ اعم(انسان) کے تحت واقع ہے ۔  اورانسان جزئی اضافی توہے کیونکہ یہ اعم ( حیوان)کے تحت واقع ہے لیکن یہ جزئی حقیقی نہیں کیونکہ اس پر جزئی حقیقی کی تعریف صادق نہیں آتی ۔

٭٭٭٭٭

 ٭…ضدین اور نقیضین میں فرق…٭

          نقیض کہتے ہیں دو چیزوں کا اس حیثیت سے ہونا کہ دونوں کا اکھٹا جمع ہونا بھی ممکن نہ ہو، اور رفع یعنی دونوں کسی ایک پر صادق نہ آئیں، جیسے وجود وعدم مثلاقلم کے اندر نہ تووجود وعدم دونوں اکھٹے صادق آسکتے ہیں اور نہ ہی یہ ہو سکتاہے کہ دونوں ہی صادق نہ آئیں، بلکہ ضروری ہے کہ اگر وجود ہوتو عدم نہ ہواور اگر عدم ہوتووجود نہ ہو دونوں ہونا بھی محال ہے ۔

            اور ضدین کہتے ہیں کہ دو چیزوں کا اس حیثیت سے ہونا کہ دونوں اکھٹی جمع تو نہیں ہو سکتی مگر یہ ہو سکتاہے کہ کسی چیز میں یہ دونوں ہی نہ ہوں جیسے : سیاہ اور سفیدضدین ہیں کہ ایک جگہ جمع تو نہیں ہوسکتیں کہ ایک چیز سیاہ بھی ہو اور سفید بھی ہو ۔ مگر یہ ہوسکتاہے کہ کسی چیز میں یہ دونوں ہی نہ ہوں جیسے  : لال چیز، کہ نہ سیاہ ہے اور نہ سفید ۔

سبق نمبر :  19

{…کلی کی تقسیمات…}

 کلی کی دوطرح سے تقسیم کی جاتی ہے ۔  

            (1)… کلی کے افراد کے خارج میں پائے جانے یا نہ پائے جانے کے اعتبار سے ۔

            (2)… کلی کے اپنے افراد کی حقیقت سے خارج ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے ۔

1  ۔ کلی کے افراد کے خارج میں پائے جانے یا نہ پائے جانے کے اعتبار سے تقسیم

 اس اعتبار سے کلی کی چھ قسمیں ہیں  :

            ۱ ۔  یا تو ایسی کلی ہوگی جس کے افراد کا خارج میں پایا جانا ممتنع ہوگاجیسے :  لاشی، لاممکن، شریک باری تعالی ۔

            ۲ ۔  یا ایسی کلی ہوگی جس کے افراد کا خارج میں پایا جانا ممکن توہے لیکن کوئی فرد پایا نہ جائے جیسے :  عَنْقَاء، ڈائنا سور  وغیرہ ۔

نوٹ :

          عنقاء کے متعلق مختلف اقوال ہیں لیکن فلا سفہ کا قول یہ ہے کہ یہ وہ پرندہ ہے جس کے دو بازو اور چار پاؤں ہیں اور اس کے بازو مشرق ومغرب تک پھیلے ہوئے ہیں خارج میں ایسے پرندے کا پایا جانا ممکن تو ہے لیکن ایک فرد بھی نہیں پایا جاتا  ۔

            ۳ ۔ یاایسی کلی ہوگی جس کا صرف ایک ہی فر د(ضروری طورپر)پایا جائے اوردوسرے افراد کا پایاجانا محال (ناممکن)ہو ۔ جیسے :   واجب الوجود  ۔

            ۴ ۔ یا ایسی کلی ہوگی جس کا صرف ایک ہی فرد پایا جائے اور دوسرے افراد کا پایا جانا ممکن ہو  ۔ جیسے :  سورج ، چاندوغیرہ ۔  

            ۵ ۔ یاایسی کلی ہو گی جس کے بہت سارے افراد خارج میں پائے جاتے ہوں اوروہ افراد متناہی(یعنی محدود)ہوں جیسے :  کواکب سیارہ یعنی شمس ، قمر، مریخ، زحل، مشتری، عطارد، زہرہ وغیرہ ۔

            ۶ ۔  یا پھر ایسی کلی ہوگی جس کے بہت سارے افراد خارج میں پائے جاتے ہوں اور وہ غیر متناہی(یعنی لامحدود) ہوں  ۔ جیسے :  معلوماتِ باری تعالی ۔

الحاصل :

            کلی کے خارج میں پائے جانے یا نہ پائے جانے کے اعتبار سے کل تین قسمیں بنتی ہیں  ۔

 



Total Pages: 54

Go To