Book Name:Nisab-ul-Mantiq

۴ ۔ نسبت عموم خصوص من وجہ :

            وہ نسبت جو ایسی دوکلیوں کے درمیان پائی جائے کہ جن میں ہر ایک دوسری کلی کے بعض افراد پر صادق آئے جیسے :  حیوان واسود کے درمیان نسبت([1]) ۔

وضاحت :

            حیوان اور اسود دوایسی کلیاں ہیں کہ ان میں سے ہر ایک دوسری کلی کے بعض افراد پر صادق آتی ہے تمام پر نہیں جیسے :  بعض حیوان اسود ہیں ۔ اس طرح بعض اسود حیوان ہیں ۔ یعنی بعض حیوان کالے ہوتے ہیں مثلا بھینس، بعض کالے نہیں ہوتے مثلابطخ، اسی طرح بعض کالی اشیاء حیوان ہوتی ہیں بعض حیوان نہیں ہوتی بلکہ کوئی اورشے ہوتی ہیں پتھر وغیرہ ۔

فائدہ :

            جن دوکلیوں کے درمیان نسبت تساوی پائی جائے انہیں ’’ متساویین‘‘ کہتے ہیں جن دوکلیوں کے درمیان نسبت تباین پائی جائے انہیں ’’متبائنین‘‘ کہتے ہیں جن دوکلیوں کے درمیان نسبت عموم خصوص مطلق پائی جائے ان میں سے وہ کلی جو دوسری کلی کے ہر ہر فردپر صادق آئے اسے اعم مطلق اور دوسری کو اخص مطلق کہتے ہیں  ۔ اور وہ دوکلیاں جن کے درمیان نسبت عموم وخصوص من وجہ پائی جائے ان میں سے ہر کوایک اعم اخص من وجہ کہتے ہیں  ۔

٭٭٭٭٭

 

مشق

سوال نمبر1 :  ۔ نسبت کی اقسام بمعہ امثلہ تحریر کریں  ۔

سوال نمبر2 :  ۔ درج ذیل ہر دو کلیوں میں کون سی نسبت پائی جارہی ہے ۔

حیوان ، انسان ۔   شجر، حجر ۔   فرس، صاہل ۔   حیوان ، ابیض ۔

جسم نامی ، درخت انار ۔   انسان ، اسود ۔   انسان ، حجر ۔   انسان ، ناطق

 

 

٭…٭…٭…٭

 ٭…ضابطہ اور قاعدہ میں فرق…٭

            علامہ تاج الدین سبکی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں قاعدہ وہ امر کلی ہے جس پر جزئیات کثیرہ منطبق ہوں اور ان جزئیات کے احکام اس قاعدہ سے معلوم ہوں اور اس کی دو قسمیں ہیں :

            (۱)…وہ قاعدہ جو کسی خاص باب کے ساتھ مخصوص نہ ہو ۔ جیسے  : ’’الیقین لا یزُولُ بالشکّ‘‘، کہ یہ قاعدہ بقول علامہ جلال الدین سیوطی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ جمیع ابواب فقہ میں داخل ہے ۔ اور فقہ کے تین چوتھائی مسائل اسی قاعدہ پر مستخرج ہیں ۔

            (۲)…وہ قاعدہ جو مخصوص الباب ہوجیسے : ’’ کل کفارۃ سببہا معصیۃ فہی علی الفور‘‘، اب جو مخصوص الباب ہو اس کیلئے اکثر لفظ ضابطہ بولتے ہیں اور جو مخصوص الباب نہ ہو اس کو قاعدہ کہتے ہیں ۔

سبق نمبر :  18

{…جزئی کی اقسام کا بیان …}

            جزئی کی دوقسمیں ہیں  ۔

۱ ۔ جزئی حقیقی                    ۲ ۔  جزئی اضافی

۱ ۔ جزئی حقیقی :

            وہ مفہوم جس کا صدق کثیر افرادپرفرض کرنا درست نہ ہو  ۔ جیسے :  زید کہ اس کا صدق ایک خاص اور معین ذات پر ہوتا ہے کما سبق ۔

 



[1]    سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا فاضلِ بریلوی  أعْجَبُ الإمْدَادفيمُکَفِّرَاتِ حُقُوْقِ العِبَادمیں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے حق العبد کی اقسام کو منطقی طرز  پر بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :   ’’حق العبد ہر وہ مطالبۂ مالی ہے کہ شرعا ًاس کے ذمہ کسی کے لئے ثابت ہو اور ہر وہ نقصان وآزار (تکلیف) جو بے اجازتِ شرعیہ کسی قول، فعل، تَرْک (بھول چُوک) سے کسی کے دِین، آبرو، جان، جسم، مال یا صرف قلب کو پہنچایا جائے ۔  تو یہ دو قسمیں ہوئیں، اول کو دُیون(دُیون دَین کی جمع ہے )، ثانی کو مَظالِم( مظالِم مَظْلِمَۃٌکی جمع ہے جس کے معنی ظلم وستم ونا انصافی کے ہیں)، اور دونوں کو تَبِعات (تَبِعات تَبِعَۃٌ کی جمع ہے جس کا معنی تاوان یا ڈنڈ ہے )اور کبھی دُیُون بھی کہتے ہیں ۔    

                ان دونوں قسم میں نسبت عُمُوْمْ خُصُوْصْ مِنْ وَجْہٍ ہے یعنی کہیں تو دَین پایا جاتا ہے مَظْلِمَہ (ظلم)  نہیں، جیسے :  خریدی چیز کی قیمت، مزدور کی اُجرت، عورت کا مہر وغیرہا دُیُون کہ عقود ِجائزہ شرعیّہ (جائز شرعی قول وقرار) سے اس کے ذمہ لازم ہوئے اور اس نے اُن کی ادا میں کمی وتاخیرِ نارَوَا نہ بَرْتی  (بے جا تاخیر نہ کی) یہ حق العبد تو اس کی گردن پر ہے مگر کوئی ظُلْم نہیں ۔  اور کہیں مظلمہ پایا جاتا ہے دَین نہیں جیسے :  کسی کو مارا، گالی دی، بُرا کہا، غیبت کی کہ اس کی خبر اسے پہنچی، یہ سب حُقوق العبد وظُلم ہیں مگر کوئی دَین واجبُ الادا نہیں، (ان صورتوں میں تکلیف تو پہنچائی لیکن اس پرمال دینا لازم نہیں ہوا) اور کہیں دَین اور مظلمہ دونوں ہوتے ہیں جیسے :  کسی کا مال چرایا، چھینا، لوٹا، رشوت، سود، جُوئے میں لیا، یہ سب دُیُون بھی ہیں اور ظلم بھی ۔  (فتاوی رضویہ ج ۲۴، ص ۴۵۹)



Total Pages: 54

Go To