Book Name:Nisab-ul-Mantiq

ہی سفید کا اطلاق کہ بعض چیزوں میں سفیدی زیادہ ہوتی ہے اور بعض میں کم جیسے :  ہاتھی کے دانت میں سفیدی کم ہے جبکہ برف میں زیادہ ۔

٭٭٭٭٭

مقدمۃ ا لعلم ا ور مقد مۃ ا لکتا ب میں امتیا زی حیثیت

          مقدمۃ العلم تینوں امور (تعریف، موضوغ اور غرض)کے مجموعے کا نام ہے ، اور مقدمۃ الکتاب الفاظ کے مجموعے کانام ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ مقدمۃ العلم کا تعلق معانی سے ہے جبکہ مقدمۃ الکتاب کا تعلق الفاظ سے ہے اور دونوں میں حقیقی فرق تباین کا پایا جاتاہے ۔

سبق نمبر :  12

{…متکثرالمعنی کی اقسام…}

اس کی چار قسمیں ہیں ۔     ۱ ۔ مشترک   ۲ ۔ منقول           ۳ ۔  حقیقت           ۴ ۔  مجاز

۱ ۔ مشترک :

            وہ لفظ مفردجس کے کثیر معانی ہوں اورواضع نے اس لفظ کوہرہرمعنی کیلئے ابتداء علیحدہ علیحدہ وضع کیا ہوجیسے :  ہار ، پھل ۔ ہارکے دومعنی ہیں ایک شکست جو جیت کا مقابل ہے دوسرا وہ جو گلے میں پہنا جاتاہے ۔  اسی طرح پھل کے بھی دو معنی ہیں ایک تو جو کھایا جاتا ہے دوسرا وہ جو چاقواورتیرمیں لگایاجاتا ہے ، اسی طرح عربی میں ’’عین‘‘جس کے معنی ذات، آنکھ، سونا(دھات)، سورج وغیرہ ہیں  ۔

۲ ۔ منقول :

            وہ لفظ مفرد جس کوابتداء ً توایک معنی کے لئے وضع کیا گیا ہو لیکن پھر اس کا استعمال کسی دوسرے معنی میں اس طرح ہونے لگا ہو کہ پہلے معنی کو چھوڑ دیا گیاہو ۔  جیسے :  لفظ صَلٰوۃٌ کہ ابتداء ً  تو اس کی وضع دعا کیلئے تھی لیکن پھر یہ نماز کے معنی میں ایسا مشہور ہوگیا کہ دعا والے معنی کوچھوڑ دیاگیا ۔  

منقول کی اقسام

لفظ کے ایک معنی کو دوسرے معنی میں نقل کرنے کے لحاظ سے تین قسمیں ہیں  ۔

۱ ۔  منقول شرعی    ۲ ۔  منقول عرفی     ۳ ۔  منقول اصطلاحی

۱ ۔ منقول شرعی :

            وہ منقول جس کو نقل کرنے والے اہلِ شرع ہوں ۔ جیسے :   لفظ صَلٰوۃٌ ۔ اسے پہلے   معنی (یعنی دعا)سے دوسرے معنی(یعنی نماز)کی طرف نقل کرنے والے اہل شرع ہیں ۔ ایسے ہی لفظ زکوۃ ، حج، روزہ وغیرہ ان سب کے لغوی معنی کچھ اور ہیں لیکن شریعت میں لغوی معنی نہیں بلکہ مخصوص معنی مراد ہیں  ۔

۲ ۔  منقول عرفی :

            وہ منقول جس کو نقل کرنے والیعرف عام ہوں جیسے :  لفظ کو فتہ کے اصلی معنی کوٹاہوا ۔ پھر عام اہل زبان اس کو گو ل کباب کے معنی میں استعمال کرنے لگے ، اسی طرح لفظ ’’دَابَّۃ‘‘ ۔

۳ ۔  منقول اصطلاحی :

            وہ منقول جس کو نقل کرنے والے مخصوص طبقہ کے لوگ ہوں ۔ جیسے :  ’’لفظ‘‘کا لغوی معنی پھینکنا ہے مگر بعد میں نحوی اسے ایک مخصوص معنی کیلئے استعمال کرنے لگے ۔

فائدہ :

            اگر کئی الفاظ ایسے ہوں جن کا معنی ایک ہی ہو تو انہیں مُتَرَادِفْ کہا جاتاہے جیسے :  اَسَدٌ اورلَیْثٌ ان دونوں کا معنی شیر ہے ۔  

۳ ۔  حقیقت :

وہ لفظ مفرد جو اس معنی میں استعمال ہوجس کیلئے اسے وضع کیا گیاتھا ۔  جیسے :  لفظ اسد حیوانِ مفترس(چیرپھاڑکرنے والادرندہ) کے معنی میں استعمال ہو تو حقیقت ہے ۔

۴ ۔  مجاز :

            وہ لفظ مفرد جو اس معنی میں استعمال نہ ہو جس کیلئے اسے وضع کیا گیا تھا جیسے :  لفظ اسدبہادر آدمی کے معنی میں استعمال ہو تو مجاز ہے ۔ کیونکہ لفظ اسد کو بہادر آدمی کے لیے  وضع نہیں کیا گیا ۔

  ٭٭٭٭٭

مشق

 

 

سوال نمبر1 :  ۔ لفظ مفرد سے کیا مراد ہے ؟نیز اس کی اقسام بتائیں  ۔

 



Total Pages: 54

Go To