Book Name:Nisab-ul-Mantiq

کے بعد ہمارامقصود حیوان سے جاندار ہونا اور ناطق سے مافی الضمیر بیان کرنے والا نہیں بلکہ ان کے مجموعہ سے کسی خاص ذات پر دلالت مقصود ہے ۔

٭٭٭٭٭

سبق نمبر :  10

معنی کے مستقل ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے لفظ مفرد کی اقسام

اس اعتبار سے لفظ مفرد کی تین قسمیں ہیں ۔    ۱ ۔  اسم          ۲ ۔  کلمہ    ۳ ۔  اداۃ

۱ ۔  اسم :

            وہ لفظ مفرد ہے جواپنا معنی خود بتائے اور اس کا صیغہ یعنی ساخت اور ہیئت کسی زمانے پر دلالت نہ کرے جیسے :  زَیْدٌ ، اَلْمَسْجِدُ، اَلصُّبْحُ، فَرَسٌ ۔

۲ ۔ کلمہ :

            وہ لفظ مفرد ہے جواپنا معنی خود بتائے اور اس کا صیغہ یعنی بناوٹ اور صورت کسی زمانۂ معین یعنی ماضی، حال یامستقبل پر دلالت کرے ۔ جیسے :   نَصَرَ ( اس نے مدد کی) ،  یَنْصُرُ (وہ مدد کرتاہے یا کرے گا) ۔

۳ ۔ اداۃ :

            وہ لفظ مفرد ہے جواسم یاکلمہ سے مل کراپنے معنی بتائے ۔  جیسے :   مِنْ (سے )  اِلیٰ(تک) ۔

 ٭٭٭٭٭

٭…فعل نحوی اور کلمہ منطقی میں فرق…٭

                ان دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ’’ فعل نحوی‘‘ عام ہے اور’’ کلمہ منطقی‘‘ خاص یعنی ہر’’ کلمہ منطقی‘‘ فعل نحوی توہے مگر بعض’’ فعل نحوی‘‘ کلمہ منطقی نہیں  جیسے :  ضَرَبَ کلمہ منطقی ہے اور فعل نحوی بھی لیکن أَضْرِبُ فعل نحوی توہے کیونکہ اس پر فعل کی تعریف صادق آتی ہے لیکن کلمہ منطقی نہیں کیونکہ اس کے اجزاء معنی کے اجزاء پر دلالت کررہے ہیں ۔  یعنی ہمزہ متکلم پر اور ضَرَبَ معنی حدوثی اورمعنی مصدری پر لہذا یہ مرکب ہے جبکہ کلمہ مفرد کی ایک قسم ہے ۔

سبق نمبر :  11

معنی کی وحدت وکثرت کے اعتبار سے لفظ مفرد کی اقسام

اس اعتبا ر سے لفظ مفرد کی دو قسمیں ہیں  ۔

۱ ۔  متحد المعنی                     ۲ ۔  متکثر المعنی

۱ ۔  متحد المعنی :

            وہ لفظ مفرد جس کا ایک ہی معنی ہو جیسے :  زَیْدٌ ۔

۲ ۔  متکثر المعنی :

            وہ لفظ مفرد جس کے ایک سے زائد معنی ہوں جیسے :  لفظ عَیْنٌ اس لفظ کے کئی معنی ہیں مثلا آنکھ، پانی کاچشمہ ، جاسوس، گھٹنا وغیرہ ۔

متحد المعنی کی اقسام

اس کی تین قسمیں ہیں  ۔

۱ ۔ عَلَمْ               ۲ ۔  مُتَوَاطِیْ                      ۳ ۔  مُشَکِّکْ

۱ ۔ عَلَمْ :

            وہ لفظ مفرد ہے جس کا ایک معنی ہو اور و ہ مُتَعَیَّنْ اورخاص ہو جیسے :  زید  ۔

۲ ۔ مُتَوَاطِی :

            متواطی تواطؤسے مشتق ہے جس کا لغوی معنی ’’پورا پورا صادق آنا، متفق ہونا‘‘ہے اور اصطلاح میں اس سے مرادوہ لفظ مفردجس کا معنیمُتَعَیَّنْ اورخاص نہ ہو ۔  بلکہ وہ بہت سارے افراد پر برابر برابر صادق آئے ۔ جیسے :  انسان کہ یہ اپنے تمام افراد ( زید، عمرو ، بکروغیرہ) پر مساوی طور پرصادق آتاہے یہ نہیں کہ زید پر انسان کا صدق اولیٰ اور پہلے ہو اور عمرو پر غیر اولیٰ اور بعد میں ہو ۔

۳ ۔ مُشکِّکْ :

            مشکک کا لغوی معنی ہے شک میں ڈالنے والا، اور اصطلاح میں اس سے مرادوہ لفظ مفرد ہے جس کاایک معنی ہولیکن مُتَعَیَّنْ اورخاص نہ ہو بلکہ وہ بہت سارے افراد پر ایسے صادق آئے کہ بعض پر اشد اور بعض پر اضعف ہوبعض پرپہلے ، بعض پر بعد میں ۔ جیسے :  وُجُوْدٌ، أَبْیَضُ، أَسْوَدُ، طَوِیْلٌ  وغیرہ الفاظ ۔

وضاحت :  

            ’’وجود‘‘ لفظ مفرد ہے اور یہ بہت سے افراد پر بولاجاتاہے ۔  مگریہ سب پر برابر برابر صادق نہیں آتا جیسے :  وجود باپ کا بھی ہے اور بیٹے کا بھی مگر باپ کا وجود پہلے ہے اور بیٹے کا بعد میں ، ایسے



Total Pages: 54

Go To