Book Name:Nisab-ul-Mantiq

٭…٭…٭…٭

سبق نمبر :  8

{…لفظ کی اقسام …}

            لفظ دال یعنی وہ لفظ جس کو کسی معنی پر دلالت کرنے کیلئے وضع کیا جاتاہے ، اس لفظ کی دو قسمیں ہیں  :

۱ ۔  مفرد                ۲ ۔ مرکب

۱ ۔ مفرد :

            ’’مَا لاَ یُقْصَدُ بِجُزْئِہِ الدَّلاََلۃُ عَلیٰ جُزْئِ مَعْنَاہٗ‘‘وہ لفظ جس کے جز سے اس کے معنی مرادی کے جز پر دلالت کا قصد نہ کیا جائے جیسے :   زید  ۔

۲ ۔  مرکب :

            ’’مَا یُقْصَدُ بِجُزْ ئِہِ الدَّلاَلََۃُ عَلیٰ جُزْئِ مَعْنَاہٗ‘‘وہ لفظ جس کے جز سے اس کے معنی مرادی کے جز پر دلالت کا قصد کیا جائے جیسے :  ۔ عبداللہ کی دلالت’’ اللہ کے بندے ‘‘ پر، جبکہ یہ عَلم نہ ہو ۔

مرکب کے ثبوت کی شرائط :

اس کی چار شرائط ہیں  ۔

            ۱ ۔  لفظ کے اجزا ہوں  ۔          ۲ ۔  معنی کے اجزا ہوں  ۔         ۳ ۔  لفظ کے اجزا معنیٔ مرادی کے اجزا پردلالت بھی کرتے ہوں  ۔         ۴ ۔  اور وہ دلالت مقصود بھی ہو ۔

تنبیہ :

            مذکورہ بالا چاروں شرائط کا بیک وقت پایا جانا ضروری ہے اگر ان میں سے کوئی بھی شرط مفقود ہوئی تو اس کا ثبوت نہیں ہوگا ، بلکہ لفظ مفرد ہوگا ۔

٭٭٭٭٭

سبق نمبر :  9

{…مفرد کی تقسیمات…}

 مفرد کی تین طرح سے تقسیم کی جاتی ہے ۔

            ۱ ۔  لفظ ومعنی کے اجزاء ہونے یانہ ہونے کے اعتبار سے ۔

            ۲ ۔  معنی کے مستقل ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے ۔

            ۳ ۔  معنی کی وحدت وکثرت کے اعتبارسے ۔

 ۱ ۔ لفظ ومعنی کے اجزاء ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے مفرد کی اقسام :  

اس اعتبار سے مفرد کی پانچ قسمیں ہیں  ۔

            ۱ ۔  لفظ کا جز نہ ہو جیسے :  ہمزہ استفہام

            ۲ ۔  لفظ کا جز  ہو لیکن معنی کا جز نہ ہو ۔ جیسے :  اسم جلالت اللہ اس میں لفظ کے اجزا

(ا ل ل ہ) تو ہیں مگر معنی ( ذات باری تعالی) کے اجزا نہیں کہ وہ اس سے پاک ہے ۔

            ۳ ۔  لفظ اور معنی دونوں کے اجزا ہوں مگر لفظ کا جز معنی کے جز پردلالت نہ کرے جیسے :  لفظ زید  ۔

وضاحت :

             لفظ زید کے اجزا  ز  ۔ ی  ۔ د ۔ ہیں اور معنی(یعنی ذات زید) کے بھی اجزا ہیں جیسے :  مفہومِ حیوان، مفہومِ ناطق اور مفہومِ شخص  ۔ لیکن لفظ کے اجزا معنی کے اجزا پر دلالت نہیں کرتے ۔  یعنی ’’ز‘‘سے مفہومِ حیوان ’’ی‘‘سے مفہومِ ناطق وغیرہ مراد نہیں لیتے ۔

            ۴ ۔  لفظ اور معنی دونوں کے اجزا ہوں اور لفظ کاجز معنی کے جز پر دلالت بھی کرے لیکن معنی مرادی کے جز پر دلالت نہ کرے جیسے :  عَبْدُاللّٰہِ  جب کسی کا علم ہو ۔  

وضاحت :

             لفظ عبداللہ کے اجزا معنی پر تو دلالت کررہے ہیں جیسے :  عبد کے معنی بندہ اور اسم جلالت، اللہ ذات باری تعالی پر دال ہے ۔  لیکن یہ وہ معنی نہیں جو یہاں عبداللہ سے مقصود ہیں یعنی ذات عبداللہ  ۔

            ۵ ۔  لفظ اور معنی دونوں کے اجزا ہوں اور لفظ کا جز معنی مرادی کے جز پر دلالت بھی کرے لیکن  یہ دلالت مقصود نہ ہو ۔  جیسے :  حیوان ناطق جبکہ کسی کا علم ہو ۔  

وضاحت :

            حیوانِ ناطق میں لفظ کے اجزا معنی کے اجزا پر دلالت کررہے ہیں کیونکہ اس شخص کی  حقیقت حیوان ا ورناطق ہی ہے مگر عَلم ہونے کی صورت میں وہ دلالت مقصود نہیں کیونکہ نام رکھنے



Total Pages: 54

Go To