Book Name:Shariat-o-Tareeqat

تحقیق میں  حقیقت کہتے ہیں ، یعنی اصل وہی ایک شریعت ہے مختلف مرتبوں  کے اعتبار سے اس کے مختلف نام رکھے جاتے ہیں ، جب شریعت کا یہ نور بڑھ کر صبح کی طرح ہوجاتا ہے تو ابلیس لعین خیرخواہ بن کر آتا ہے اور اسے کہتا ہے چراغ بجھا دو کہ اب تو صبح خوب روشن ہوگئی ہے ، اگر آدمی شیطان کے دھوکے میں  نہ آئے تو شریعت کا یہ نور بڑھ کر دن ہوجاتا ہے اس پر شیطان کہتا ہے کیا اب بھی چراغ نہ بجھائے گا اب تو سورج روشن ہے اب تجھے چراغ کی کیا حاجت ہے روز روشن میں  شمع جلانا تو بیوقوف کا کام ہے ، یہاں پر اگر ہدایت الٰہی آدمی کی مدد فرمائے تو بندہ لاحول پڑھ کرشیطان کو بھگا دیتا ہے اور یہ  کہتا ہے کہ اے اﷲ  کے دشمن یہ جسے تو دن یا سورج کہہ رہا ہے یہ آخر کیا ہے ؟ اسی فانوسِ شریعت ہی کا نور ہے اگر اسے بجھا دیا تو نور کہاں  سے آئے گا ۔ یہ کہنے پر شیطان ناکام و نامراد ہو جاتا ہے اور بندہ اللہ تَعَالٰیکی مدد سے نور حقیقی تک پہنچ جاتا ہے ۔  لیکن اگر بندہ شیطان کے فریب میں  آگیا اور سمجھا کہ ہاں  دن تو ہوگیا اب مجھے چراغ کی کیا حاجت رہی اور یہ سمجھ کر اس نے شریعت کا چراغ بھجا دیا تو جیسے ہی یہ چراغ بجھائے گا ۔  ہر طرف گھپ اندھیرا ہوجائے گا کہ جیسے ہی اسے بجھایا ہر طرف ایسا سخت اندھیرا ہوگیا کہ ہاتھ کو ہاتھ سُجھائی نہیں  دیتا جیساکہ قرآن عظیم نے فرمایا ’’ ایک پر ایک اندھیریاں  ہیں ۔  اپنا ہاتھ نکالے تو نہ سوجھے اور جسے خدا نور نہ دے اس کے لئے نور کہاں  ‘‘ ( نور ۴۰) تو یہ ہیں  وہ لوگ جو طریقت بلکہ اس سے بلند مرتبہ حقیقت تک پہنچ کر اپنے آپ کو شریعت سے بے پرواہ سمجھے اور شیطان کے دھوکے میں  آکر اس فانوسِ الٰہی کو بجھادیا اور تباہ و برباد ہوگئے اور یہاں  پر بھی وہی پہلے والا معاملہ ہے کہ کاش یہی ہوتا کہ اس نور کے بجھنے سے جو عالمگیر اندھیرا چھایا وہ انہیں  اپنی آنکھوں  سے نظر آجاتا کہ شاید وہ نادم ہو کر توبہ کرتے اور چونکہ فانوسِ شریعت کا مالک یعنی اللہ تَعَالٰیتوبہ کرنے والوں  کو پسند فرماتا ہے ۔  تو اللہ تَعَالٰیان کی توبہ قبول فرما کر انہیں  پھر وہی روشنی عطا فرما دیتا مگر یہاں  یہ معاملہ ہے کہ شیطان جہاں  دھوکے سے آدمی کے ہاتھ سے فانوسِ شریعت بجھادیتا ہے اس کے ساتھ ہی اپنی طرف سے ایک سازشی بتی جلا کر ان کے ہاتھ میں  تھما دیتا ہے ۔  اور یہ لوگ اسی کو نور سمجھتے رہتے ہیں  حالانکہ حقیقت میں  وہ نور نہیں  بلکہ نار یعنی آگ ہے اور یہ بے وقوف وجاہل لوگ یہ سمجھتے ہیں  کہ شریعت والوں  کے پاس کیا ہے ایک چراغ ہے جبکہ ہمارے پاس تو ایسا نور ہے جو اپنی نورانیت سے سورج کو شرمندہ کررہا ہے ۔  شریعت ایک قطرہ اور ہماری طریقت ایک دریا ہے لیکن ایسا سمجھنے والے جانتے نہیں  کہ شریعت ہی حقیقتاًنور ہے اور شریعت سے کٹی ہوئی طریقت محض دھوکہ و فریب ہے اور عنقریب قیامت میں  حال کھل جائے گا کہ زندگی بھر بندئہ خدا بن کر رہا یا بندئہ شیطان بن کر  ۔

خلاصہ کلام :  یہ ہے کہ شریعت کی حاجت ہر مسلمان کو ایک ایک سانس، ایک ایک پل، ایک ایک لمحہ پر مرتے دم تک ہے اور طریقت میں  قدم رکھنے والوں  کو تویہ حاجت اور زیادہ ہے کہ راستہ جس قدر باریک وکٹھن ہوتا ہے رہنما کی حاجت بھی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے اور رہنما یہاں  پر شریعت ہے اسی وجہ سے حدیث میں  آیا حضور سید عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’ بغیر فقہ کے عبادت میں  پڑنے والا ایسا ہے جیسا چکی کھینچنے والا گدھا کہ مشقت جھیلے اور نفع کچھ نہیں  (حلیۃ الاولیاء) امیر المومنین مولیٰ علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں’’ دو شخصوں  نے میری پیٹھ توڑ دی یعنی وہ ایسی مصیبتیں  ہیں  جن کا کوئی علاج نہیں  جاہل عابد اور وہ عالم کہ اعلانیہ بیباکانہ گناہوں  کا ارتکاب کرے ۔

اے عزیز ! شریعت ایک عمارت ہے اسکی بنیاد عقائد اور چنائی عمل ہے پھر ظاہری اعمال وہ دیواریں  ہیں  جو اس بنیاد پر تعمیر کی گئیں  اور جب وہ تعمیر اوپر چڑھ کر آسمانوں  تک بلند ہوجاتی ہے تو طریقت کہلاتی ہے ۔  دیوار جتنی اونچی ہوگی اسی قدر زیاد ہ اسے بنیاد کی حاجت ہوگی بلکہ عمارت میں  ہر اوپر والے حصے کو نیچے والے حصے کی حاجت ہوتی ہے اگر نیچے سے دیوار نکال دی جائے تو اوپر والا حصہ بھی گر جائے گا تو وہ شخص احمق ہے جسے شیطان نے نظر بندی کرکے اس کے اعمال کی بلندی آسمانوں  تک دکھائی اور دل میں  یہ بات ڈالی کہ تم تو زمین کے دائرے سے اوپر گزر گئے ہو تمہیں  ان نیچے والے حصوں  کی کیا حاجت اور پھر اس احمق نے شیطان کے دھوکے میں  آکر بنیادوں  سے تعلق توڑ لیا تونتیجہ وہ نکلا جو قرآن مجید نے فرمایا ’’ اس کی عمارت اسے لے کر جہنم میں  گر پڑی‘‘ ( توبہ ۱۰۹) اﷲ  کی پناہ ہے ان باتوں  سے اسی لئے اولیاءے کرام رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِمفرماتے ہیں  ۔ جاہل صوفی شیطان کا مسخرہ ہے اس لئے حدیث میں  آیا حضور سید عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’ ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں  سے زیادہ بھاری ہے ۔  (ترمذی) بغیر علم کے عبادت میں  مجاہدہ کرنے والوں  کو شیطان انگلیوں  پر نچاتا ہے ۔  ان کے منہ سے لگام اور ناک میں  نکیل ڈال کر جدھر



Total Pages: 23

Go To