Book Name:Shariat-o-Tareeqat

 

شریعت منبع ہے یعنی پانی پھوٹنے کی جگہ اور طریقت اس منبع سے نکلا ہوا دریا بلکہ شریعت تو اس مثال سے بھی بلند وبالا ہے کہ اس مثال سے شریعت کی کماحقہ اہمیت واضح نہیں  ہوتی کیونکہ پانی جس جگہ (منبع) سے نکلتا ہے زمینوں  کو سیراب کرتے وقت اس نکلنے والی جگہ کا محتاج نہیں  کہ وہاں  سے تو یہ باہر آہی گیا یونہی دریا سے نفع اٹھانے والوں  کو دریا کے نکلنے کی جگہ کی کچھ حاجت نہیں  کہ جب انہیں  پانی مل گیا تو انہیں  پانی نکلنے کی جگہ سے کیا تعلق ، وہ باقی رہے یا نہ رہے لیکن شریعت ایسا منبع ہے کہ اس سے نکلے ہوئے دریا یعنی طریقت کو ہر وقت اپنے منبع کی حاجت ہے اس اصل یعنی شریعت سے تعلق ٹوٹتے ہی صرف یہ ہی نہیں  ہوگا کہ آئندہ کے لئے مدد موقوف ہوجائے گی اور فی الحال جتنا پانی آچکا اس سے فائدہ حاصل ہوتا رہے گا بلکہ جیسے ہی شریعت سے تعلق ٹوٹا فوراً طریقت کا دریا فنا ہوجائے گا بوند تو بوند پانی کی نمی کا نام بھی نظر نہ آئے گا اور کاش کہ اس سے اتنا ہی نقصان ہوتا کہ شریعت کا دریا سوکھنے سے باغات سوکھ جائیں  کھیت مرجھا جائیں  اور آدمی پیاسے تڑپتے رہیں  لیکن ہرگز صرف اتنا نقصان نہیں  ہوگا بلکہ طریقت کے دریا کا تعلق جیسے ہی اپنے نکلنے کے مقام یعنی شریعت سے ٹوٹے گا وہ تمام دریا شعلے مارتی ہوئی بھڑکتی آگ میں  تبدیل ہوجائے گا ۔  اور پھر کاش کہ وہ شعلے ظاہری آنکھوں  سے دیکھے جاسکتے تاکہ جو لوگ شریعت سے تعلق توڑ کر جلے اور خاک سیاہ ہوئے انہیں  دیکھ کر دوسرے لوگ بچ جاتے اور ان کے برے انجام سے عبرت حاصل کرتے مگر ایسا نہیں  ہے بلکہ وہ آگ تو ’’نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُۙ(۶)الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْـٕدَةِؕ(۷)‘‘ ’’کنزالایمان : اﷲ  کی بھڑکائی ہوئی آگ کہ دلوں  پر چڑھتی ہے ‘‘ (الھمزہ۶، ۷) ۔  اندر سے دل جل جاتے ہیں  ایمان برباد ہوجاتا ہے لیکن ظاہر میں

وہی طریقت کا پانی نظر آتا ہے جو شیطان دھوکے سے انہیں  دکھاتا ہے ۔  دیکھنے میں  دریا اور حقیقت میں  آگ کا بھڑکتا ہوا الاؤ ۔  افسوس کہ اس پردے نے لاکھوں  کو ہلاک کردیا ۔

شریعت و طریقت اور دریا ومنبع کی مثال کے درمیان ایک عظیم فرق اور بھی ہے جس کی طرف پہلے اشارہ کیا کہ دریا سے نفع اٹھانے والوں  کو نفع اٹھاتے ہوئے دریا کے نکلنے کی جگہ کی کوئی حاجت نہیں  لیکن طریقت سے نفع اٹھانے والوں  کو ہر وقت اور ہر لمحہ شریعت کی محتاجی رہتی ہے کیونکہ طریقت کا یہ پاکیزہ میٹھا دریا جو شریعت کے برکت والے سرچشمہ سے نکل کر فیضیاب کررہا ہے اس کے ساتھ ساتھ ایک سخت کھاری ناپاک دریا بھی بہتا ہے هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌۚ-ترجمہ کنز الایمان :  ’’یہ میٹھا ہے خوب میٹھاپانی خوش گوار اور یہ کھاری ہے تلخ‘‘(فاطر : ۱۲) یہاں  ذہن میں  سوال آئے گا وہ دوسرا کھاری دریا کیا ہے تو سنئے وہ شیطان ملعون کے وسوسے اوردھوکے ہیں  تو طریقت کے شیریں  دریا سے نفع لینے والوں  کو ہر لمحہ اس بات کی ضرورت ہے کہ ہر نئی لہر پر اس لہر کے رنگ ، مزہ، بُو کو اصل منبع یعنی شریعت کے رنگ مزہ بُو سے ملاتے رہیں  تاکہ پتہ چل جائے کہ یہ لہر شریعت کے منبع سے آئی ہے یا شیطانی پیشاب کی بدبو دار کھاری دھار دھوکہ دے رہی ہے لیکن یہاں  ذہن میں  یہ بات آتی ہے کہ جب دونوں  دریاؤں  میں  رنگ بو مزے میں  اتنا واضح فرق ہے تو جیسے ہی کوئی شیطانی چکر ہوگا آدمی کو فوراً پتہ چل جائے گا کہ یہ طریقت کا صاف شیریں  دریانہیں  بلکہ شیطان کی طرف سے دھوکہ ہے ۔  اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اصل کٹھن مرحلہ یہاں  پر یہ ہے کہ طریقت کا پاک مبارک منبع اس قدر لطیف اور نفیس ہے کہ کمال لطافت کی وجہ سے اس کا مزہ بہت جلدزبان سے اتر جاتا ہے ۔  رنگت، مزہ، بو کچھ یاد نہیں  رہتی اور اس کے ساتھ ہی چکھنے ، سونگھنے اور دیکھنے کے معنوی احساسات بھی فاسد ہوجاتے ہیں  اور پھر آدمی کو گلاب اور پیشاب میں  تمیز نہیں  رہتی وہ ابلیس کا کھاری، بدبو دار، بدرنگ پیشاب غٹاغٹ چڑھا جاتا ہے اور گمان یہ کرتا ہے کہ طریقت کے دریا کا میٹھا، خوشبودار اور خوش رنگ پانی پی رہا ہوں ، اس ساری گفتگو سے معلوم ہوا کہ شریعت منبع اور دریا کی مثال سے بہت بلند ہے ۔  وَ لِلّٰہِ  الْمَثَلُ الْاَعْلٰی، اور اﷲ  ہی کے لئے بلند صفت ہے ۔

شریعت مطہرہ ایک ربانی نور کا فانوس ہے کہ دینی جہاں  میں  اس کے سوا کوئی روشنی نہیں  اور اس روشنی کی کوئی حد نہیں  یہ زیادہ سے زیادہ ہوسکتی ہے ، اس نور میں  زیادتی اور اضافہ پانے کے طریقے کانام طریقت ہے ، یہی روشنی بڑھ کر صبح اور پھر سورج اور اس کے بعد سورج سے بھی زیادہ غیر متناہی درجوں  تک ترقی کرتی ہے اسی سے اشیاء کی حقیقتیں  کھلتی ہیں  اور نور حقیقی تجلی فرماتا ہے ، اسی روشنی کو علم کے مرتبہ میں  معرفت اور مرتبہ



Total Pages: 23

Go To