Book Name:Shariat-o-Tareeqat

زید کا قول حق اور صحیح ہے جبکہ عمرو کا گمان باطل گھناؤنا اور کھلی بے دینی ہے اس کی شیطانیت سے بھرپور کلام میں  دس فقرے ہیں  ہم ان سب کے متعلق تھوڑی تھوڑی ایسی گفتگو کریں  گے کہ ان شاء اﷲ  الکریم مسلمانوں  کے لئے فائدہ مند اور نفع بخش ہو اور شیطانوں  کوجڑ سے اکھاڑ کر پھینک دینے والی ہو ۔

(۱) عمرو کا یہ قول کہ شریعت صرف فرض و واجب اور حلال و حرام کے چند مسائل کا نام ہے محض اندھاپن ہے ۔  شریعت جسم و جان اور روح و قلب اور تمام علوم الہیہ اور لامتناہی معارف سب کی جامع ہے ان مذکورہ تمام چیزوں  میں  سے طریقت و معرفت محض ایک ٹکڑے کا نام ہیں  اور اسی وجہ سے تمام اولیاء کرام کے قطعی اجماع سے فرض ہے کہ تمام حقائق کو شریعت مطہرہ پر پیش کیا جائے اگر وہ حقائق، شریعت کے مطابق ہوں  تو حق اور قابل قبول ہیں  ورنہ مردود و رسوا ہیں  تویقینا قطعا شریعت ہی اصل کار ہے اور شریعت ہی سب کا دارو مدار ہے ۔  شریعت ہی کسوٹی اور معیار ہے شریعت کا معنی ہے راستہ اور شریعت محمدیہ کا ترجمہ ہے محمد رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا راستہ تو یہ معنی اپنے عموم و اطلاق کے اعتبار سے تمام ظاہر و باطن کو شامل ہے صرف چند جسمانی احکام کے ساتھ خاص نہیں ۔  یہی وہ راستہ ہے کہ پانچوں  وقت ہر نما زبلکہ ہر رکعت میں  اس کا مانگنا اور اس پر ثابت قدمی کی دعا کرنا ہر مسلمان پر واجب یعنی سورۃ فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور اس میں  اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ بھی ہے جس میں  یہ دعا ہے کہ ہم کو محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی راہ پر چلا ان کی شریعت پر ثابت قدم رکھ حضرت عبد اﷲ  بن عباس اور امام ابو العالیہ اور امام حسن بصری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمفرماتے ہیں  صراط مستقیم محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ابوبکرصدیق و عمر فاروق ہیں  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم(الدر المنثور ص ۴۰ مطبوعہ بیروت)

یہی شریعت وہ راہ ہے جس پر خدا ملتا ہے چنانچہ قرآن مجید میں  ہے اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ بیشک اس سیدھی راہ پر میرا رب ملتا ہے ۔     (ہود  : ۵۶) اور شریعت ہی وہ راہ ہے جس کی مخالفت کرنے والا بددین گمراہ ہے چنانچہ قرآن مجید میں  اللہ تَبَرَکَ وَ تَعَالٰینے فرمایا ’’ اے محبوب تم فرما دو کہ یہ شریعت میری سیدھی راہ ہے تو اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا اور راستوں  کے پیچھے نہ جاؤ کہ وہ تمہیں  خدا کی راہ سے جدا کردیں  گے اﷲ  تمہیں  اس کی تاکید فرماتا ہے تاکہ تم پرہیز گاری کرو‘‘ ۔  (الانعام۸ / ۱۵۲) دیکھو قرآن عظیم نے صاف فرمادیا کہ شریعت ہی صرف وہ راہ ہے جس سے اللہ تَعَالٰیکی بارگاہ تک پہنچنا نصیب ہوتا ہے اس کے سوا آدمی جو راہ چلے گا اﷲ  کی راہ سے دور جاپڑے گا ۔

(۲) عمرو کا دوسرا قول کہ طریقت اللہ تَعَالٰیکی بارگاہ تک پہنچنے کا نام ہے محض پاگل پن اور جہالت ہے معمولی سا پڑھا لکھا آدمی بھی جانتا ہے کہ طریق، طریقہ، طریقت ان تینوں  لفظوں  کا معنی ہے راستہ ، نہ کہ پہنچ جانا تو یقینا طریقت بھی راستے ہی کا نام ہے ۔  اب اگر وہ راستہ شریعت سے جدا ہو تو قرآن عظیم کی گواہی کے مطابق وہ اللہ تَعَالٰیتک نہ پہنچائے گا بلکہ شیطان تک پہنچائے گا اور وہ راستہ جنت میں  نہیں  بلکہ جہنم میں  لے جائے گا کیونکہ شریعت کے علاوہ تمام راہوں  کو قرآن عظیم نے باطل و مردود قرار دیا تو لازمی طور پر ثابت ہوا کہ طریقت یہی شریعت ہے اور اسی روشن راہ کا ایک ٹکڑا ہے اور طریقت کا شریعت سے جدا ہونا ناممکن ہے جو اسے شریعت سے جدا مانتا ہے وہ طریقت کو خدا کا راستہ نہیں  بلکہ ابلیس کا راستہ مانتا ہے ۔ مگر صحیح و سچی طریقت ہرگز شیطان کا راستہ نہیں  بلکہ وہ قطعی طور پر خدا عزوجل کا راستہ ہے جب طریقت خدا کا راستہ ہے تو یقینا وہ شریعت مطہرہ ہی کا حصّہ ہے ۔

(۳) طریقت میں  جو حقائق وغیرہ آدمی پر کھلتے ہیں  وہ شریعت کی پیروی ہی کا صدقہ ہے ورنہ شریعت کی پیروی کے بغیر بڑے بڑے کشف تو راہبوں  اور ہندو جو گیوں  سنیاسیوں  کو بھی ہوتے ہیں  ان کے کشف انہیں  کہاں  لے جاتے ہیں  اسی بھڑکتی آگ اور درد ناک عذاب کی طرف لے جاتے ہیں ۔  لہٰذا شریعت کی پیروی کے بغیر کسی کشف کا کوئی فائدہ نہیں ۔

(۴) شریعت کو قطرہ اور طریقت کو دریا کہنا اس مجنون اور پکے پاگل کا کام ہے جس نے یہ سن رکھا ہے کہ دریا کا پاٹ بہت وسیع ہوتا ہے لیکن وہ نہیں  جانتا کہ اس پاٹ کی وسعت کس وجہ سے ہے ۔

 



Total Pages: 23

Go To