Book Name:Shariat-o-Tareeqat

مریدی ہرگز جائز نہیں  ایک یہ کہ پیر صحیح مسلک رکھتا ہو یعنی اس کا سلسلہ صحیح ہو دوسرا یہ کہ پیر شریعت کے حق کی ادائیگی میں  کوتاہی وسستی کرنے والا نہ ہو تیسرا یہ کہ پیر کے عقائد درست اور مذہب اہل سنت وجماعت کے موافق ہوں ۔  پیری و مریدی ان تین شرائط کے بغیر ہرگز جائز نہیں ۔ ‘‘ پھر شرط اول کی تفصیل ارشاد فرما کر شرط دوم کے متعلق فرمایا ’’ پیری کی دوسری شرط یہ ہے کہ پیر عالم ہو اور تمام عبادات پر عمل کرنے والا ہو اور شریعت کے احکام میں  کوتاہی و سستی کرنے والا نہ ہو اور شریعت کے احکام کو حقیر جاننے والا نہ ہو ۔  اور اگر شریعت کی عبادات کا عالم نہیں  تو ان پر عمل ہرگز نہیں  کرسکتا اور ایسا شخص شریعت کی حد سے گر جائے گا پس وہ پیری کے لائق نہیں  کیونکہ جو شخص حقیقت کے مقام سے گر جاتا ہے وہ طریقت پر قرار پکڑتا ہے اور جو طریقت کے مقام سے گر جاتا ہے وہ شریعت پر قرار پکڑتا ہے اور جو  شریعت سے گر جاتا ہے وہ گمراہ ہوجاتا ہے اور گمراہ شخص پیر بننے کے لائق نہیں  اور وہ درویش کہ جس کے پاس مخلوق بکثرت آتی ہے اسے شریعت کے مسائل میں  احتیاط فرض ولازم ہے ۔  اسے چاہئے کہ وہ شریعت کے کسی باریک سے باریک مسئلہ کو بھی نہ چھوڑے کہ اس کا یہ عمل مریدوں  کی گمراہی کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ مرید پیر کے اسی ترک عمل کو دلیل بنا کر کہیں  گے ہمارے پیر نے تو اس طرح کیا تھا اس طرح مرید گمراہ اور دوسروں  کو گمراہ کرنے والے ہوں  گے ۔ ‘‘ پھر حضرت نے تینوں  شرطیں  بیان کرکے فرمایا ’’ جب مرید پیر کو ان تین شرطوں  کے ساتھ متصف پائے تو اس کی بیعت کرلے کہ اب اس کی بیعت کرنا جائز و پسندیدہ ہے اور اگر ان تین شرائط میں  سے ایک بھی شرط پیر میں  نہیں  پائی جاتی تو اس کی بیعت جائز نہ ہوگی اور اگر کسی نے لاعلمی میں  کسی ایسے پیر کی بیعت کرلی ہو تو اسے چاہئے کہ بیعت توڑ دے ۔ ‘‘ (ملحض از سبع سنابل از ص ۳۹، ۴۳)

خاتمہ

یہ بظاہر ساٹھ اقوال ہیں  مگر حقیقۃً چالیس اولیاءے کرام کے اَسّی اقوال ہیں  کہ بعض شمار میں  نہیں  آئے اور متعدد جگہ ایک قول کے ضمن میں  متعدد اقوال مذکور ہوئے ہیں  اور ان سب کا مجموعہ َاسی ہے ۔

تکملہ

اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مجدد دین و ملت، سیدی ووالدی حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا ارادہ تھا کہ جن اولیاء کرام رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِمکے اقوال کتاب میں  مذکور ہوئے ان کے ناموں  کی فہرست بھی بنائیں  امیر المومنین مولا علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاور امام مالک و شافعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا کے نام لکھ کر ارادہ کیا کہ عوام کے وہم کو دور کرنے اور مجتہدین کرام کی ولایت اور بلند مرتبہ کو ثابت کرنے کے لئے کچھ تحریر کریں  ابھی چند جملے لکھے تھے کہ اعلیٰ حضرت عَلَيْهِ الرَّحْمٰۃ کی توجہ کسی اور اہم کام کی طرف ہوگئی ۔  اور مذکورہ کام باقی رہ گیا ۔  اب رسالے کے چھپنے کا وقت آیا تو اس مقصد کے لئے فقیر (اعلی حضرت کے صاحب زادے مولانا حامد رضا خاں  عَلَيْهِ الرَّحْمٰۃ ) نے قلم اٹھایا والدگرامی کے فیض عام اور لطف و کرم کی ایسی لہر آئی کہ قلم روکتے روکتے مضمون طویل ہوگیا ۔  لہٰذا بندہ نے بطور ضمیمہ کے اسے اور اس کے ساتھ فہرست بنا کر رسالے میں  درج کردیا ۔

تذییل جمیل (خوبصورت ضمیمہ)

اے اﷲ  میں  حامد ہوں  اور تو محمود ہے درودو سلام بھیج اپنے محبوب پر جو حامدو محمود ہیں  اور آپ کی آل اور صحابہ پر ہمیشگی کے دن تک ۔

رسالہ مبارکہ میں  امام مالک و امام شافعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا کے اقوال سے دلیل پکڑی اور خاتمہ میں  ’’ چالیس اولیاءے کرام کے اَسّی ارشادات‘‘ کا جملہ لکھا ۔  یعنی فہرست اولیاء میں  مذکورہ مجتہدین کے نام بھی درج کیے ۔  اور عوام چونکہ مجتہدین کرام کے مقام ولایت کو نہیں  جانتی اس لئے ان کے وہموں  کو دور کرنے کے لئے فرمایا کہ ائمہ مجتہدین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماگرچہ تمام جہاں  سے زیادہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کی وراثت حاصل کئے ہوئے ہیں  مگر عوام پھر بھی انہیں  علمائے ظاہر میں  شمار کرتی ہیں ۔  حالانکہ وہ صرف علمائے ظاہر نہیں  بلکہ علم باطن میں  امام اور انتہائی بلند مقام کو پہنچے ہوئے ہیں  نیز بعض لوگ اولیاء کرام کے اقوال میں  کمی بیشی کرکے عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں  تاکہ علماء ومجتہدین کے خلاف عوام کو



Total Pages: 23

Go To