We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

1874 -[16]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «شَرُّ مَا فِي الرَّجُلِ شُحٌّ هَالِعٌ وَجُبْنٌ خَالِعٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ: «لَا يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالْإِيمَانُ» فِي كِتَابِ الْجِهَاد إِن شَاءَ الله تَعَالَى

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی کی بدترین خصلت گھبراہٹ والی کنجوسی اور ڈر والی بزدلی ہے ۱؎ (ابوداؤد)ہم ابوہریرہ کی یہ حدیث لایجتمع الخ کتاب الجہاد میں بیان کریں گے۔ان شاءاﷲ تعالٰی!

۱؎ یعنی انسان کے سارے عیبوں میں یہ دو عیب بدترین ہیں کہ جس سے صدہا عیب پیدا ہوجاتے ہیں۔شح کے معنے پہلے عرض کئے جاچکے ہیں کہ یہ بخل اور حرص کا مجموعہ ہے۔بڑی بزدلی وہ ہے جو انسان کو کفار کے ساتھ جہاد سے اور ابرار جیسے اعمال سے روکے۔حضورانور صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کی قید اس لیے لگائی کہ عورت میں یہ عیب اتنے برے نہیں جتنے مرد میں کیونکہ یہ سخاوت اور بہادری کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

1875 -[17]

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّنَا أَسْرَعُ بِكَ لُحُوقًا؟ قَالَ: " أَطْوَلُكُنَّ يَدًا فَأَخَذُوا قَصَبَةً يَذْرَعُونَهَا فَكَانَت سَوْدَة أَطْوَلهنَّ يدا فَعلمنَا بعد أَنما كَانَت طُولُ يَدِهَا الصَّدَقَةَ وَكَانَتْ أَسْرَعَنَا لُحُوقًا بِهِ زَيْنَبُ وَكَانَتْ تُحِبُّ الصَّدَقَةَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «أَسْرَعكُنَّ لُحُوقا بَين أَطْوَلكُنَّ يَدًا» . قَالَتْ: فَكَانَتْ أَطْوَلَنَا يَدًا زَيْنَبُ؟ لِأَنَّهَا كَانَت تعْمل بِيَدِهَا وَتَتَصَدَّق

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہم سب میں پہلے آپ سے کون ملے گی ۱؎ فرمایا تم میں لمبے ہاتھ والی۲؎ انہوں نے بانس لے کر ہاتھ ناپنے شروع کردیئے۳؎ تو حضرت سودہ دراز ہاتھ نکلیں بعد میں معلوم ہوا کہ درازیٔ ہاتھ سے مراد صدقہ خیرات تھی ہم سب میں پہلے حضور کے پاس زینب سدھاریں اور وہ سرکار خیرات بہت پسند کرتی تھیں۴؎(بخاری)مسلم کی روایت میں ہے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم میں سے پہلےمجھے وہ ملے گی جو لمبے ہاتھ والی ہو فرماتی ہیں کہ ازواج پاک جھگڑتی تھیں کہ کس کے ہاتھ لمبے ہیں فرماتی ہیں ہم سب میں لمبے ہاتھ والی زینب ہی ہیں کیونکہ وہ اپنے ہاتھ سے کام کرتی تھیں اور خیرات کرتی تھیں۵؎

۱؎ یہ سوال چند سوالوں کا مجموعہ ہے:ایک یہ کہ ہم میں سے ہر ایک کا وقت موت کب ہے۔دوسرے یہ کہ ہم سب کی موت کس حال میں ہوگی ایمان پر اور ایمان کے کس درجہ پر۔تیسرے یہ کہ ہماری بقیہ زندگی تقویٰ کے کس درجہ پرگزرے گی۔چوتھے یہ کہ بعد وفات ہمارا مقام کہاں ہوگاکیونکہ بعد وفات حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی مل سکتا ہے جس کا خاتمہ ایمان پر ہو زندگی اعلیٰ درجے کے تقویٰ اور طہارت پر گزرے۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ ازواج مطہرات کا یہ عقیدہ تھا کہ اﷲ تعالٰی



Total Pages: 441

Go To