Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

حکایت: کسی عالم سے پوچھا گیا کہ سخاوت بہتر ہے یا شجاعت فرمایا خدا تعالٰی جسے سخاوت دے اسے شجاعت کی ضرورت ہی نہیں لوگ خود بخود اس کے سامنے چت ہوجائیں گے،چونکہ صدقہ غضب کی آگ بجھاتا ہے اس لیے سخی دوزخ سے دور ہے۔

۲؎  یہاں عابد سے مراد عالم عابدہے جیساکہ جاہل کے مقابلے سے معلوم ہورہا ہے یعنی جوشخص عالم بھی ہو عابد بھی مگر ہو کنجوس کہ نہ زکوۃ دے نہ صدقات واجبہ اداکرے وہ یقینًا سخی جاہل سے بدتر ہوگاکیونکہ وہ عالم حقیقتًا بے عمل ہے بخل بہت سے فسق پیداکردیتا ہے اور سخاوت بہت خوبیوں کا تخم ہے بلکہ وہ عابد بھی کامل نہیں کیونکہ عبادت مالی یعنی زکوۃ وغیرہ ادا نہیں کرتا،صرف جسمانی عبادت ذکروفکر پر قناعت کرتا ہے جس میں کچھ خرچ نہ ہو۔

1870 -[12]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَنْ يَتَصَدَّقَ الْمَرْءُ فِي حَيَاتِهِ بِدِرْهَمٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمِائَةٍ عِنْدِ مَوته» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ انسان کا اپنی زندگی میں ایک درہم خیرات کرنا مرتے وقت سو خیرات کرنے سے بہتر ہے ۱؎ (ابوداؤد)

۱؎  زندگی سے مراد تندرستی کی زندگی ہے اور موت کے وقت سے مراد مرض الموت ہے جب زندگی کی آس ٹوٹ جاتی ہے یعنی تندرستی میں تھوڑا مال خیرات کرنا مرتے وقت کے بہت مال کی خیرات سے بہتر ہے کیونکہ تندرستی کی خیرات میں نفس پر جہاد بھی ہے اور مرتے وقت کی خیرات میں اپنا نقصان نہیں بلکہ اپنے وارثوں کو نقصان پہنچانا ہے۔اس کی پوری شرح ابھی پہلے ہوچکی۔

1871 -[13]

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الَّذِي يَتَصَدَّقُ عِنْدَ مَوْتِهِ أَوْ يُعْتِقُ كَالَّذِي يُهْدِي إِذَا شَبِعَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ والدارمي وَالتِّرْمِذِيّ وَصحح

روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس کی مثال جو مرتے وقت خیرات یا آزاد کرے اس کی سی ہے جو اپنے پیٹ بھر جانے پر کسی کو ہدیہ دے ۱؎ (احمد،نسائی،دارمی،ترمذی نے اسےصحیح کہا)

۱؎ کہ اگر ہدیہ لینے والا غنی بھی ہو اور دینے والے کے اس طرز عمل سے خبرداربھی تو وہ اس کی قدر نہیں کرتا وہ سمجھتا ہے کہ اس نے اپنے نفس کو مجھ پر مقدم رکھا اورسمجھا کہ یہ بچی چیز برباد ہوجائے گی لاؤ فلاں کو ہی بھیج دو،اسی طرح رب تعالٰی غنی بھی ہے اور ہماری نیتوں سے خبردار بھی۔صدقات اس کی بارگاہ میں ہدیے ہیں اگر ان کی بارگاہ الٰہی میں قدر چاہتے ہو تو تندرستی میں بھیجو کہ وہاں اخلاص دیکھا جاتا ہے۔شعر

مابروں راننگریم وقال را                                          مادروں رابنگریم و حال را

1872 -[14]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: " خصلتان لَا تجتمعان فِي مُؤْمِنٍ: الْبُخْلُ وَسُوءُ الْخُلُقِ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مؤمن میں دو خصلتیں کبھی جمع نہیں ہوتیں کنجوسی اور بدخلقی ۱؎(ترمذی)

۱؎ یعنی ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی کامل مؤمن بھی ہو اور ہمیشہ کا بخیل اور بدخلق بھی،اگر اتفاقًا کبھی اس سے بخل یا بدخلقی صادر ہوجائے تو فورًا وہ پشیمان بھی ہوجاتا ہے اس کے ایک معنے یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ مؤمن نہ بخیل ہوتا ہے نہ بدخلق،جس دل میں ایمان کامل



Total Pages: 441

Go To