Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

1868 -[10] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: «هُمُ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ» فَقُلْتُ: فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي مَنْ هُمْ؟ قَالَ: " هُمُ الْأَكْثَرُونَ أَمْوَالًا إِلَّا مَنْ قَالَ: هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا مِنْ بَين يَدَيْهِ وَمن خَلفه وعني مينه وَعَن شِمَاله وَقَلِيل مَا هم "

روایت ہے حضرت ابو ذر سے فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا حضور کعبہ کے سایہ میں جلوہ گر تھے جب حضور نے مجھے دیکھا تو فرمایا رب کی قسم وہ لوگ بڑے خسارے میں ہیں ۱؎ میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر فدا وہ کون لوگ ہیں فرمایا بڑے مالدار لوگ بجز اس کے جو یوں اور یوں اور یوں  دے۲؎ یعنی آگےپیچھے دائیں بائیں اور وہ ہیں بہت تھوڑے ۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎  حضرت ابو ذر غفاری وہ ہیں جنہوں نے امیری پر لات مار کر فقیری اختیار کی تھی،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہمت افزا کلام ان کی عزت افزائی کے لیے فرمایا یعنی اے ابو ذر تم خسارہ میں نہیں خسارہ میں عمومًا مالدار لوگ ہیں۔

۲؎ یہاں قَالَ بمعنی فَعَلَ ہے اور فعل سے مراد صدقہ و خیرات،یہ محاورہ عربی میں بہت عام ہے۔ (لمعات)یعنی وہ سخی جو بلا گنتی دونوں ہاتھ بھر بھر کر نیکیوں میں خرچ کرے خسارہ میں نہیں۔

 ۲؎ ان چار سمتوں سے مراد ہر نیکی ہر جگہ نیکی ہر حال میں نیکی کرنا ہے اپنے وطن میں بھی خرچ کرے،حرمین شریفین میں بھی بھیجے،جہاں مسلمانوں کو یا اسلام کو ضرورت ہو وہاں پہنچائے۔واقعی ایسی توفیق والے تھوڑے مالدار ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے: "وَقَلِیۡلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوۡرُ"۔عمومًا مالداروں پر فضول خرچیوں،بدکاریوں اور عیاشیوں کے دروازے کھل جاتے ہیں، اﷲ تعالٰی عثمان غنی کے خزانہ کا پیسہ عطا فرمائے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1869 -[11]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «السَّخِيُّ قَرِيبٌ مِنَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِنَ الْجَنَّةِ قَرِيبٌ مِنَ النَّاسِ بَعِيدٌ مِنَ النَّارِ. وَالْبَخِيلُ بَعِيدٌ مِنَ اللَّهِ بَعِيدٌ مِنَ الْجَنَّةِ بَعِيدٌ مِنَ النَّاسِ قَرِيبٌ مِنَ النَّارِ. وَلَجَاهِلٌ سَخِيٌّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ عَابِدٍ بَخِيلٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ر وایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سخی اﷲ سے قریب ہے جنت سے قریب ہے لوگوں سے قریب ہے آگ سے دور ہے ۱؎ اور کنجوس اﷲ سے دور ہے  جنت سے دور ہے لوگوں سے دور ہے آگ کے قریب ہے اور یقینًا جاہل سخی کنجوس عابد سے افضل ہے ۲؎(ترمذی)

۱؎ ہم سخی اور جوّاد کا فرق پہلے بیان کرچکے ہیں۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ حقیقی سخی وہ ہے جو غنا پر رب تعالٰی کی رضا کو ترجیح دے۔ اس کے تین قرب بیان ہوئے اور ایک دوری،اللہ تعالٰی تو ہر ایک سے قریب ہے لیکن اس سے قریب کوئی کوئی ہے۔شعر

یار نزدیک تراز بمعن است                                       دین عجب ہیں کہ من ازوے دُورم

اس حدیث میں اشارۃً فرمایا گیا کہ سخاوت مال حسن مال یعنی انجام بخیر کا ذریعہ ہے سخی سے مخلوق خود بخود راضی رہتی ہے۔

 



Total Pages: 441

Go To