Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۳؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ قبول نہ کرناغنا کی وجہ سے ہوگا کہ سارے لوگ اتنے مالدار ہوجائیں گے کہ آسانی سے کوئی زکوۃ لینے والا نہ ملے گا۔اس حدیث کی روش سےمعلوم ہورہا ہے کہ اس وقت بھی فقیر ملیں گے تو مگر بہت تلاش اور دشواری سے ورنہ مالداروں پر زکوۃ فرض نہ رہتی جیسے جس کے اعضائے وضو ایسے زخمی ہوں جن پر نہ پانی پہنچے سکے نہ تیمم کا ہاتھ پھیر سکےتو اس پر وضو اور تیمم دونوں معاف ہوجاتے ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فقراء کا ہونا بھی اﷲ کی رحمت ہے کہ ان کے ذریعہ ہم بہت سے فرائض سے سبکدوش ہوجاتے ہیں۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ اس زمانے کے لوگ زاہد،صابر اور تارک الدنیا ہوجائیں گے جو زکوۃ لینا پسند کریں گے ہی نہیں۔واﷲ اعلم!

1867 -[9] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ أَجْرًا؟ قَالَ: " أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَخْشَى الْفَقْرَ وَتَأْمُلُ الْغِنَى وَلَا تُمْهِلَ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ قُلْتَ: لِفُلَانٍ كَذَا وَلِفُلَانٍ كَذَا وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ "

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کون سے صدقہ کا بڑا ثواب ہے ۱؎ فرمایا یہ کہ تم اپنی تندرستی اور بخل کی حالت میں صدقہ کرو جب کہ تمہیں فقیری کا ڈر اور امیری کی امید ہو۲؎ اور اتنی دیر نہ لگاؤ کہ جب جان گلے میں پہنچے تو تم کہو کہ فلاں کو اتنا دینا اور فلاں کو اتنا۳؎ حالانکہ وہ فلاں کا ہو ہی چکا ۴؎(مسلم،بخاری)

۱؎  ظاہر یہ ہے کہ صدقہ سے مراد صدقہ نفلی ہے،چونکہ یہ بہت سی قسم کا ہوتا ہے اور اس کے مختلف حالات ہوتے ہیں اس لیے انہوں نے یہ سوال کیا یعنی کس وقت کی کون سی خیرات بہتر ہے مسجد بنانا کنواں یا سرائے تیار کرنا یا کسی کو کھانا یا کپڑا دینا وغیرہ۔

۲؎ نہایت حکیمانہ جواب ہے یعنی تندرستی کا ہر صدقہ افضل ہے کیونکہ اس وقت خود اپنے کو بھی مال کی ضرورت ہوتی ہے۔بخل سے مراد فطری محبت مال ہے یعنی تندرستی میں جب تمہیں خودبھی ضرورت ہے اپنی ضرورت پر دیں یا فقیر کی ضرورت کو مقدم رکھنا بڑی ہمت ہے اور اس کی بارگاہ الٰہی میں بڑی قدر ہے،شیطان بھی اسی وقت بہکاتاہے کہ ارے تیرے سامنے اتنے خرچ ہیں مت خیرات کر۔

۳؎ ظاہر یہ ہے کہ فلاں سے مراد موصیٰ لہ ہے جس کے لیے وصیت کی جائے اور اتنے سے مراد مال کی مقدار ہے یعنی تم وارثوں سے کہو کہ میرا اتنا مال میرے بعد فلاں فلاں جگہ خرچ کرنا اور ممکن ہے کہ فلاں سے مراد مقرلہ ہو یا وارث کیونکہ وارث کو وصیت جائز ہے جب کہ دوسرے ورثاء راضی ہوں۔ (اشعہ وغیرہ)

۴؎ یہاں فلاں سے مراد وارثین ہیں یعنی اب تم وصیت کرو یا نہ کرو تمہارے پاس سے مال چلدیا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مرض الموت کی حالت ہی میں بیمار کے مال میں وارثوں کا حق ہوجاتا ہے اسی لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ بیمار صرف تہائی مال کی وصیت کرسکتا ہے،یہ بھی معلوم ہوا کہ اس حالت کے صدقہ و خیرات کا ثواب بہت کم ہےکیونکہ اب خود اسے ضرورت نہ رہی انسان کو چاہیے کہ تندرستی اور زندگی کو غنیمت سمجھے جو ہوسکے نیکیاں کرلے۔شعر

توشۂ اعمال  اپنا    ساتھ  لے  جاؤ     ابھی                         کون پیچھے قبر میں بھیجے گا سوچو تو سہی

بعد مرنے کے تمہیں اپنا پرایا بھول جائے                                فاتحہ کو قبر پر پھر کوئی آئے یا نہ آئے

1868 -[10] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: «هُمُ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ» فَقُلْتُ: فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي مَنْ هُمْ؟ قَالَ: " هُمُ الْأَكْثَرُونَ أَمْوَالًا إِلَّا مَنْ قَالَ: هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا مِنْ بَين يَدَيْهِ وَمن خَلفه وعني مينه وَعَن شِمَاله وَقَلِيل مَا هم "

روایت ہے حضرت ابو ذر سے فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا حضور کعبہ کے سایہ میں جلوہ گر تھے جب حضور نے مجھے دیکھا تو فرمایا رب کی قسم وہ لوگ بڑے خسارے میں ہیں ۱؎ میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر فدا وہ کون لوگ ہیں فرمایا بڑے مالدار لوگ بجز اس کے جو یوں اور یوں اور یوں  دے۲؎ یعنی آگےپیچھے دائیں بائیں اور وہ ہیں بہت تھوڑے ۳؎(مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 441

Go To