Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

ہے جہاں پہنچ کر انسان کھلے دل سے صدقہ کرنے لگتا ہے ہر عبادت کا یہی حال ہے کہ پہلے نفس امارہ روکا کرتا ہے مگر جب اس کی نہ مانی جائے تو پھر روکنا چھوڑ دیتا ہے،نفس کی مثال شیر خوار بچے کی سی ہےجو دودھ چھوڑتے وقت ماں کو بہت پریشان کرتا ہےمگر جب ماں اس کی ضد کی پرواہ نہیں کرتی تو وہ پھر دودھ نہیں مانگتا۔

1865 -[7]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اتَّقُوا الظُّلْمَ فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَاتَّقُوا الشُّحَّ فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ: حَمَلَهُمْ عَلَى أَنْ سَفَكُوا دِمَاءَهُمْ وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمهمْ ". رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ظلم سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیریاں ہوگا ۱؎ اور کنجوسی سے بچو کیونکہ کنجوسی نے تم سے پہلے والوں کو ہلاک کردیا کنجوسی نے انہیں رغبت دی کہ انہوں نے خون ریزی کی حرام کو حلال جانا ۲؎(مسلم)

۱؎ ظلم کے لغوی معنے ہیں کسی چیز کو بے موقعہ استعمال کرنا اورکسی کا حق مارنا۔اس کی بہت قسمیں ہیں: گناہ کرنا اپنی جان پر ظلم ہے،قرابت داروں یا قرض خواہوں کا حق نہ دینا ان پر ظلم،کسی کو ستانا ایذاء دینا اس پرظلم،یہ حدیث سب کو شامل ہے اور حدیث اپنے ظاہری معنے پر ہے یعنی ظالم پلصراط پر اندھیریوں میں گھرا ہوگا،یہ ظلم اندھیری بن کر اس کے سامنے ہوگا جیسے کہ مؤمن کا ایمان اور اس کی نیک اعمال روشنی بن کر اس کے آگے چلیں گے،رب تعالٰی فرماتاہے:"یَسْعٰی نُوۡرُہُمۡ بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمْ"چونکہ ظالم دنیا میں حق ناحق میں فرق نہ کرسکا اس لیے اندھیرے میں رہا۔

۲؎  عربی میں شح بخل سے بدتر ہے،بخل اپنا مال کسی کو نہ دینا ہے اور شح اپنا مال نہ دینا اور دوسرے کے مال پر ناجائز قبضہ کرنا ہے۔غرضکہ شح بخل،حرص اور ظلم کا مجموعہ ہے اسی لیے یہ فتنوں فساد،خون ریزی و قطع رحمی کی جڑ ہے،جب کوئی دوسروں کا حق ادا نہ کرے بلکہ ان کے حق اور چھیننا چاہے تو خواہ مخواہ فساد ہوگا۔

1866 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تصدقوا فَإِنَّهُ يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يَمْشِي الرَّجُلُ بِصَدَقَتِهِ فَلَا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا يَقُولُ الرَّجُلُ: لَوْ جِئْت بهَا بِالْأَمْسِ لَقَبِلْتُهَا فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلَا حَاجَةَ لِي بهَا "

روایت ہے حضرت حارثہ ابن وہب سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کرو کیونکہ تم پر ایک زمانہ ایسا آئے گا ۲؎ کہ کوئی شخص اپنا صدقہ لے کر چلے گا تو کوئی اس کا قبول کرنے والا نہ ملے گا آدمی کہیں گے کہ اگر تم کل لاتے تو میں لے لیتا آج مجھے اس کی ضرورت نہیں۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎ آپ صحابی ہیں،حضرت عمر ابن خطاب کے سوتیلے بیٹے حضرت عبداﷲ بن عمر کے اخیافی بھائی،کوفہ میں قیام رہا۔

۲؎  کُمْ سے مراد ساری امت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہے نہ کہ صحابہ کیونکہ مال کی یہ فراوانی قریب قیامت حضرت امام مہدی کے زمانہ میں ہوگی اور ہوسکتا ہے کہ صحابہ سے ہی خطاب ہو اور سیدنا خضر علیہ السلام اس میں داخل ہوں کہ وہ بھی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اور وہ یہ زمانہ پائیں گے کہ ان کی وفات بالکل قیامت سے متصل ہوگی۔

 



Total Pages: 441

Go To