Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۱؎ مشکوٰۃ شریف کے عام نسخوں اور مرقا ت میں بھی قال اﷲ تعالٰی نہیں ہے مگر اشعۃ اللمعات میں یہ جملہ موجود ہے۔شیخ نے بھی فرمایا کہ ظاہر یہی ہے کہ یہ حدیث بھی قدسی ہے اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ابن آدم سے خطاب فرماسکتے ہیں۔

۲؎  یعنی اپنی ضروریات سے بچا ہوا مال خیرات کردینا خود تیرے لیے ہی مفید ہے کہ اس سے تیرا کوئی کام نہ رکے گا اور تجھے دنیا و آخرت میں عوض مل جائے گا اور اسے روکے رکھنا خود تیرے لیے ہی برا ہے کیونکہ وہ چیز سڑ گل یا اور طرح ضائع ہوجائے گی اور تو ثواب سے محروم ہوجائے گا اسی لیے حکم ہے کہ نیا کپڑا پاؤ تو پرانا بیکار کپڑا خیرات کردو نیا جوتا رب تعالٰی دے تو پرانا جوتا جو تمہاری ضرورت سے بچا ہے کسی فقیر کو دے دو کہ تمہارے گھر کا کوڑا نکل جائے گا اور اس کا بھلا ہوجائے گا۔

۳؎ اس میں دو حکم بیان ہوگئے:ایک یہ کہ جو مال اس وقت تو زائد ہے کل ضرورت پیش آئے گی اسے جمع رکھ لو آج نفلی صدقے دے کر کل خود بھیک نہ مانگو۔دوسرے یہ کہ خیرات پہلے اپنے عزیز غریبوں کو دو پھر اجنبیوں کو کیونکہ عزیزوں کو دینے میں صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی اس کا ذکر آئندہ بھی آئے گا۔

1864 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ قَدِ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَى ثُدُيِّهِمَا وَتَرَاقِيهِمَا فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدقَة انبسطت عَنهُ الْبَخِيلُ كُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلقَة بمكانها»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کنجوس اور سخی کی کہاوت ان دو شخصوں کی سی ہے جن پر لوہے کی دو زرہ ہوں ۱؎جنہوں نے ان کے دونوں ہاتھ ان کے پستانوں اور گلے سے باندھ دیئے ہوں۲؎ سخی جب خیرات کرنے لگے تو زرہ پھیل جائے اور کنجوس جب خیرات کا ارادہ بھی کرے تو زرہ اور تنگ ہوجائے اور ہر کڑی اپنی جگہ چمٹ جائے ۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یہ تشبیہ مرکب ہے جس میں دو شخصوں کی پوری حالتوں کو دوسرے دو شخصوں کے پورے حال سے تشبیہ دی گئی ہے یعنی کنجوس اور سخی کی حالتیں ان دو شخصوں کی سی ہیں جن کے جسم پر دو لوہے کی زر ہیں ہیں،انسان کی خلقی اور پیدائشی محبت مال اور خرچ کرنے کو دل نہ چاہنے کو زرہوں سے تشبیہ دی گئی کہ جیسے زرہ جسم کو گھیرے اور چمٹی ہوتی ہے ایسی محبت مال انسان کے دل کو چمٹی ہوتی ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَمَنۡ یُّوۡقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوۡنَ"۔بعض لوگوں نے اسے جبتان ب سے پڑھا مگر جنتان صحیح ہے ن سے۔

۲؎  تراقی ترقوت کی جمع ہے۔ترقوت وہ ہڈی ہے جو سینہ سے اوپر اور گردن کے نیچے ہے،چونکہ یہ ہڈیاں گردن کے دو طرفہ ہوتی ہیں اس لیے دو آدمیوں کی چار ہڈیاں ہوں گی اس لحاظ سے تراقی جمع ارشاد ہوا۔اِضْطُرَّتْ مجہول فرماکر اشارۃً یہ بتایا کہ انسان کا یہ بخل قدرتی ہے اختیاری نہیں۔

۳؎  سبحان اﷲ! کیا نفیس تشبیہ ہے یعنی بخیل بھی کبھی خیرات کرنے کا ارادہ تو کرتا ہے مگر اس کے دل کی ہچکچاہٹ اس کے ارادہ پر غالب آجاتی ہے اور وہ خیرات نہیں کرتا اور سخی کو بھی خیرات کرتے وقت ہچکچاہٹ تو ہوتی ہے  مگر  اس  کا  ارادہ  اس  پر  غالب  آجاتا ہے  اسی غلبہ  پر سخی ثواب پاتا ہے پھر سخاوت کرتےکرتےنفس امارہ اتنا دب جاتا ہے کہ اس کو کبھی خیرات پرہچکچاہٹ پیدا ہی نہیں ہوتی،یہ بہت بلند مقام



Total Pages: 441

Go To