We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

باب الإنفاق وكراهية الإمساك

باب خرچ کرنا اور بخل کی برائی   ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ یعنی سخاوت کی تعریف اور بخل کی برائیاں اس باب میں بیان ہوں گی۔سخی وہ ہے جو اپنے مال سے خود بھی کھائے اوروں کو بھی کھلائے۔جوّاد وہ ہے جو خود نہ کھائے اوروں کو کھلائے اسی لیے رب تعالٰی کو سخی نہیں کہہ سکتے جوّاد کہتے ہیں۔بخیل وہ ہے جو اپنا مال خود کھائے دوسروں کا حق نہ دے۔ممسک وہ ہے جو نہ خود کھائے اور نہ کسی کو کھانے دے جوڑے اور چھوڑے۔شیخ نے فرمایا کہ یہاں امساک سے مراد بخل ہے اور انفاق سے مراد فرائض سے زیادہ نوافل میں خرچ کرنا ہے کیونکہ زکوۃ کے خرچ کا ذکر پہلے ہوچکا۔

1859 -[1]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا لَسَرَّنِي أَنْ لَا يَمُرَّ عَلَيَّ ثَلَاثُ لَيَالٍ وَعِنْدِي مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا شَيْءٌ أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اگر میرے پاس احد پہاڑ برابر سونا ہو تو مجھے یہ اچھا لگے گا کہ تین راتیں ایسی نہ گزریں کہ جن میں اس سونے سے کچھ بھی میرے پاس ہو بجز اتنے کے جسے ادائے قرض کے لیے رکھوں  ۱؎(بخاری)

۱؎ حدیث کا مطلب بالکل ظاہر ہے،یہ گفتگو ظاہر کے لحاظ سے ہے ورنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر چاہتے تو آپ کے ساتھ سونے کے پہاڑ چلاکرتےجیساکہ دوسری حدیث میں صراحۃً مذکور ہے۔اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ مقروض نفلی صدقہ نہ دے بلکہ پہلے قرض ادا کرے،نیز اتنی عظیم الشان سخاوت وہ کرسکتا ہے جس کے بال بچے بھی صابر شاکر ہوں ورنہ انہیں بھوکا مارکرنفلی خیرات نہ کرو۔حضرت صدیق اکبر نے جو سب کچھ خیرات کردیا اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے گھر والے بھی صابرین کے سردار تھے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ تم پر تمہاری بیوی کا حق بھی ہے اور تمہارے بچوں کا بھی کیونکہ وہاں ہم جیسوں کے لیے قانون کا ذکر ہے اور یہاں ان حضور داتا کے خصوصی کرم کا۔

1860 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ يَوْمٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيهِ إِلَّا مَلَكَانِ يَنْزِلَانِ فَيَقُولُ أَحَدُهُمَا: اللَّهُمَّ أطع مُنْفِقًا خَلَفًا وَيَقُولُ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ أَعْطِ مُمْسِكًا تلفا "

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کوئی دن نہیں جس میں بندے سویرا کریں اور دو فرشتے نہ اتریں جن میں سے ایک تو کہتا ہے الٰہی سخی کو زیادہ اچھا عوض دے اور دوسرا کہتا ہے الٰہی بخیل کو بربادی دے ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی سخی کے لیے دعاء اور کنجوس کے لیے بددعا روزانہ فرشتوں کے منہ سے نکلتی ہے جو یقینًا قبول ہے۔خیال رہے کہ خلف مطلقًا عوض کو کہتے ہیں دنیاوی ہو یا اخروی،حسی ہو یا معنوی مگر تلف دنیوی اور حسی بربادی کو کہا جاتا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَمَاۤ اَنۡفَقْتُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَہُوَیُخْلِفُہٗ"کا تجربہ دن رات ہورہا ہے کہ کنجوس کا مال حکیم ڈاکٹر،وکیل یا نالائق اولاد برباد کرتی ہے۔

 



Total Pages: 441

Go To