Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی رہے کبھی جدا نہ ہوئے،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مدینہ میں دل نہ لگا شام چلے گئے،مقام املہ میں کچھ دن رہے،پھر مقام حمص میں رہے،وہیں   ۵۴ھ؁ وفات پائی،بہت مخلوق نے آپ سے احادیث لی ہیں۔

۲؎  یعنی جو مجھ سے بھیک نہ مانگنے کا عہد کرے تو میں اس کی چار چیزوں کا ذمہ دار ہوتا ہوں،زندگی تقویٰ پر، موت ایمان پر ،کامیابی قبر میں،چھٹکارا حشر میں کیونکہ جنت ان چار چیزوں کے بعد نصیب ہوگی۔اس سے معلوم ہوا کہ اﷲ تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جنت کا مالک و مختار بنایا ہے کیونکہ بغیر اختیار ضمانت کیسی۔یہ بھی معلوم ہوا کہ سوال سے بچنے والے کو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امان میں لے لیتے ہیں،پھر اس پر نہ شیطان کا داؤ چلے نہ نفس امارہ قابو پائے،جسے وہ اپنے دامن میں چھپا لیں اس کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا تصرف اور حضور علیہ السلام کی امن و امان عالم میں قیامت تک جاری ہے کیونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ضمانت صرف صحابہ کے لیے نہیں تا قیامت ہر سوال سے بچنے والے مومن کے لیے ہے۔شعر

ڈھونڈا ہی کریں صدر قیامت کے سپاہی                   وہ کس کو ملے جو ترے دامن میں چھپا ہو

یہاں شیخ نے فرمایا کہ انبیاءکرام کی یہ ضمانتیں باذن الٰہی ہیں اور برحق ہیں حتی کہ ایک پیغمبر کا نام ہی ذی الکفل ہے کیونکہ وہ اپنی امت کے لیے جنت کے کفیل ہوگئے تھے۔

۳؎  یعنی سب سے پہلے اس حدیث پر خود حضرت ثوبان نے ایسا عمل کیا کہ وفات تک کسی سے کچھ نہ مانگا۔ معلوم ہوا کہ علم پر عالم پہلے خود عمل کرے۔

1858 -[22]

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَشْتَرِطُ عَلَيَّ: «أَنْ لَا تَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا» قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: «وَلَا سَوْطَكَ إِنْ سَقَطَ مِنْكَ حَتَّى تنزل إِلَيْهِ فتأخذه» . رَوَاهُ أَحْمَدُ

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط کے لیے بلایا کہ لوگوں سے کچھ نہ مانگنا ۱؎ میں نے عرض کیا ہاں فرمایا اگر تمہارا کوڑا گر جائے تو وہ بھی نہ مانگنا حتی کہ خود اتر کر لینا۲؎(احمد)

۱؎ یعنی مجھ سے اس پر بیعت لی کبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص خاص احکام پر بھی بیعتیں لی ہیں ان میں سے یہ بھی ہے۔

۲؎  ظاہر یہ ہے کہ یہ حکم ان ہی کے لیے خاص تھا ورنہ گرا ہوا کوڑا کسی سے اٹھوا لینا ناجائز نہیں،بعض بزرگوں کے لیے بعض جائز چیزیں ناجائز کردی جاتی ہیں جیسے حضرت علی مرتضٰی کے لیے فاطمہ زہراء کی موجودگی میں دوسرا نکاح اور بعض بزرگوں کے لیے کچھ ناجائز چیزیں جائز کردی جاتی ہیں جیسے صدیق اکبر کے لیے بحالت جنابت مسجد سے گزرنا،بعض نے فرمایا کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مبالغۃً ہے مگر پہلی بات زیادہ قوی معلوم ہوتی ہے۔


 



Total Pages: 441

Go To