We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۱۰؎  اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرت پندرہ دن تک مسجد میں قطعًا حاضر نہ ہوئے ورنہ اگر اس دوران میں جماعت عشاء کے لیے بھی کبھی آئے ہوتے تو اس کا ضرور یہاں ذکر ہوتا اور سرکار صلی اللہ علیہ وسلم ان سے روزانہ کا حساب پوچھتے،یہ ان کی خصوصیت میں سے ہے،اب کسی تاجر یا پیشہ ور کو یہ جائز نہیں کہ کاروبار میں مشغول ہو کر جماعت ترک کرے۔

۱۱؎ یعنی حلال پیشہ خواہ کتنا ہی معمولی ہو بھیک مانگنے سے افضل ہے کہ اس میں دنیا و آخرت میں عزت ہے۔افسوس آج بہت سے لوگ اس تعلیم کو بھول گئے،مسلمانوں میں صدہا خاندان پیشہ وربھکاری ہیں۔

۱۲؎  تکلیف دہ فقیری میں فاقہ اور فقیر کی معذوری یعنی بے دست و پا ہونا دونوں شامل ہیں اور رسوا کن قرض سے وہ قرض مراد ہے جس میں قرض خواہ مہلت نہ دے،مقروض کی آبرو ریزی پر تیار ہو۔تکلیف دہ خون سے یہ مراد ہے کہ اس نے کسی کو قتل کردیا جس کی دیت اس پر لازم ہوئی،اس کے پاس نہ مال ہے نہ اہل قرابت،یہ تینوں آدمی بقدر ضرورت سوال کرسکتے ہیں۔خیال رہے کہ یہ پابندیاں مانگنے کے لیے ہیں زکوۃ لینے کے لیے نہیں۔

1852 -[16]

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ فَأَنْزَلَهَا بِالنَّاسِ لَمْ تُسَدَّ فَاقَتُهُ. وَمَنْ أَنْزَلَهَا بِاللَّه أوشك الله لَهُ بالغنى إِمَّا بِمَوْتٍ عَاجِلٍ أَوْ غِنًى آجِلٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جسے فاقہ پہنچے وہ اسے لوگوں پر پیش کرے تو اس کا فاقہ بند نہ ہوگا ۱؎  اور جو اسے اﷲ پر پیش کرے اسے بہت جلد غنی کر دے گا یا فوری موت سے یا آئندہ غنا سے۲؎ (ابوداؤد،ترمذی)

۱؎  یعنی اپنی غریبی کی شکایت لوگوں سے کرتا پھرے اور بے صبری ظاہر کرے اور لوگوں کو اپنا حاجت رواں جان کر ان سے مانگنا شروع کردے تو اس کا انجام یہ ہوگا کہ اسے مانگنے کی عادت پڑ جائے گی جس میں برکت نہ ہوگی اور ہمیشہ فقیر ہی رہے گا۔

۲؎ یعنی جو اپنا فاقہ لوگوں سے چھپائے،رب تعالٰی کی بارگاہ میں دعائیں مانگے اور حلال پیشہ میں کوشش کرے تو رب تعالٰی اسے مانگنے کی ضرورت ڈالے گا ہی نہیں،اگر اس کے نصیب میں دولت مندی نہیں ہے تو اسے ایمان پر موت نصیب کرکے جنت کی نعمتیں عطا فرمائے گا اور اگر دولتمندی نصیب میں ہے تو وہ جلدی نہ سہی دیر سے ہی عطا فرمادے گا کہ اس کی کمائی میں برکت دے گا۔ہماری اس تقریر سے یہ اعتراض اٹھ گیا کہ موت سے غنا کیسے حاصل ہوتی ہے کیونکہ پہلے غنا سے مراد مالداری نہیں بلکہ لوگوں سے بےنیازی ہے۔ خیال رہے کہ آدمی مرکر لوگوں کے مال سے بے نیاز ہوجاتا ہے اگرچہ ان کے ایصال ثواب کا منتظر رہتا ہے، یہاں مالی غنا مراد ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

1853 -[17]

عَنِ ابْنِ الْفِرَاسِيِّ أَنَّ الْفِرَاسِيَّ قَالَ: قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا وَإِن كنت لابد فسل الصَّالِحين» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے ابن فراسی ۱؎ سے کہ فراسی فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اﷲ میں مانگ سکتا ہوں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں اور اگر مانگنا پڑ جائے تو نیکیوں سے مانگو ۲؎ (ابوداؤد،نسائی)

 



Total Pages: 441

Go To