Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

1849 -[13]

وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَأَلَ مِنْكُمْ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عَدْلُهَا فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا» . رَوَاهُ مَالك وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت عطاءبن یسار سے وہ بنی اسد کے ایک شخص سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے جو مانگے حالانکہ اس کے پاس ایک اوقیہ یا اس کے برابر ہوں تو وہ زاری سے مانگتا ہے ۲؎(مالک و ابوداؤد،نسائی)

۱؎ عطاءابن یسار تابعی ہیں اور ان کے شیخ جن کا انہوں نے نام نہ لیا صرف یہ کہہ دیا کہ بنی اسد کے ایک صاحب وہ صحابی ہیں،چونکہ صحابہ سارے ہی عادل ہیں کوئی فاسق نہیں اس لیے ان کا نام یا حال معلوم نہ ہونا حدیث کی صحت کے لیے مضر نہیں،نہ ایسے صحابی کو مجہول کہا جاسکتا ہے نہ حدیث کو۔(مرقات)

۲؎  یعنی قرآن شریف میں جو وارد ہوا"لَا یَسْئَلُوۡنَ النَّاسَ اِلْحَافًا"۔اس الحاف میں بے ضرورت مانگنا بھی داخل ہے،اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے اس تعیین کی وجہ ابھی کچھ پہلے عرض کی جاچکی ہے۔

1850 -[14]

وَعَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ إِلَّا لِذِي فَقْرٍ مُدْقِعٍ أَوْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ وَمَنْ سَأَلَ النَّاسَ لِيُثْرِيَ بِهِ مَالَهُ: كَانَ خُمُوشًا فِي وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَرَضْفًا يَأْكُلُهُ مِنْ جَهَنَّمَ فَمَنْ شَاءَ فَلْيَقُلْ وَمَنْ شَاءَ فليكثر ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت حبشی ابن جنادہ سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نہ تو غنی کو سوال جائز ہے نہ درست اعضاء والے کو مگر زمین سے ملے ہوئے فقیر یا رسوائی والے مقروض کو ۲؎ اور جو لوگوں سے مال بڑھانے کے لیے مانگے تو یہ سوال قیامت کے دن اس کے چہرے کے کھرونچے ہوں گے اور دوزخ کے انگارے جسے وہ کھائے گا اب جو چاہے وہ کم کرے جو چاہے بڑھائے۳؎(ترمذی)

۱؎ ان کی کنیت ابو الجنوب ہے،قبیلہ بنی بکر ابن ہوازن سے ہیں،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں دیکھا،آپ کا شمار اہل کوفہ میں ہے۔

۲؎ یہ استفتاء صحیح الاعضاء سے ہے یعنی تندرست آدمی ان دونوں صورتوں میں مانگ سکتا ہے،ایک سخت فقیر جو اسے خاک نشین بنادے جس سے وہ نہ کہیں کاروبار کر سکے نہ کمانے کے لیے سفر،رب تعالٰی فرماتاہے:"اَوْ مِسْکِیۡنًا ذَا مَتْرَبَۃٍ"۔ایسا مقروض جس کے قرض خواہ اس کی آبرو کے درپے ہوگئے ہوں وہ اگرچہ تندرست ہے مگر ان مصیبتوں کے دفعیہ کے لیے مانگ سکتا ہے۔

۳؎یہ آخری جملہ اختیار دینے کے لیے نہیں بلکہ اظہار غضب کے لیے ہے،جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"فَمَنۡ شَآءَ فَلْیُؤْمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلْیَکْفُرْ رِضْفٌ رِضْفَۃٌ کی جمع ہے،رضفہ وہ تیز گرم پتھر ہے جس سے دودھ ابالا جاتاہے۔

1851 -[5]

وَعَن أنس بن مَالك: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ فَقَالَ: «أَمَا فِي بَيْتك شَيْء؟» قَالَ بَلَى حِلْسٌ نَلْبَسُ بَعْضَهُ وَنَبْسُطُ بَعْضَهُ وَقَعْبٌ نَشْرَبُ فِيهِ مِنَ الْمَاءِ. قَالَ: «ائْتِنِي بِهِمَا» قَالَ فَأَتَاهُ بِهِمَا فَأَخَذَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ وَقَالَ: «مَنْ يَشْتَرِي هَذَيْنِ؟» قَالَ رَجُلٌ أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمٍ قَالَ: «مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ؟» مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ رجل أَنا آخذهما بِدِرْهَمَيْنِ فَأَعْطَاهُمَا إِيَّاه وَأخذ الدِّرْهَمَيْنِ فَأَعْطَاهُمَا الْأَنْصَارِيُّ وَقَالَ: «اشْتَرِ بِأَحَدِهِمَا طَعَامًا فانبذه إِلَى أهلك واشتر بِالْآخرِ قدومًا فأتني بِهِ» . فَأَتَاهُ بِهِ فَشَدَّ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُودًا بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ لَهُ اذْهَبْ فَاحْتَطِبْ وَبِعْ وَلَا أَرَيَنَّكَ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا ". فَذهب الرجل يحتطب وَيبِيع فجَاء وَقَدْ أَصَابَ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ فَاشْتَرَى بِبَعْضِهَا ثَوْبًا وَبِبَعْضِهَا طَعَامًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَجِيءَ الْمَسْأَلَةُ نُكْتَةً فِي وَجْهِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَصْلُحُ إِلَّا لِثَلَاثَةٍ لِذِي فَقْرٍ مُدْقِعٍ أَوْ لِذِي غُرْمٍ مُفْظِعٍ أَوْ لِذِي دَمٍ مُوجِعٍ».رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى ابْن مَاجَه إِلَى قَوْله: «يَوْم الْقِيَامَة»

روایت ہے حضرت انس سے کہ ایک انصاری شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مانگنے کے لیے آیا ۱؎ آپ نے فرمایا کہ کیا تیرے گھر میں کچھ نہیں ۲؎ عرض کیا ہاں ایک ٹاٹ ہے جو ہم کچھ بچھالیتے ہیں کچھ اوڑھ لیتے ہیں۳؎ اور ایک پیالہ جس میں پانی پیتے ہیں اور فرمایا وہ دونوں ہمارے پاس لے آؤ وہ یہ دونوں چیزیں حاضر لائے انہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا یہ کون خریدتا ہے۴؎ ایک شخص نے کہا ایک درہم میں مَیں لیتا ہوں آپ نے دو یا تین بار فرمایا ایک درہم سے زیادہ کون دیتا ہے۵؎ ایک صاحب بولے کہ میں دو درہم میں لیتا ہوں آپ نے فرمایا یہ دونوں چیزیں انہیں دے دو ۶؎ اور دو درہم ان انصاری کو دیئے اور فرمایا ان میں سے ایک کا غلہ خریدکر اپنے گھر میں ڈال دے اور دوسرے کی کلہاڑی خرید کر میرے پاس  لا ۷؎  وہ حضور  کے پاس کلہاڑی لائے حضورانور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ اقدس سے اس میں دستہ ڈالا۸؎ پھر فرمایا جاؤ لکڑیاں کاٹو اور بیچو اور اب میں تمہیں پندرہ دن نہ دیکھوں۹؎ پھر وہ صاحب لکڑیاں کاٹتے اور بیچتے رہے پھرحاضرہوئے اور دس درہم کما چکے تھے اس نے کچھ درہموں سے کپڑا اور کچھ سے غلہ خریدا ۱۰؎ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لیے یہ اس سے بہتر ہے کہ سوالات قیامت کے دن تمہارے منہ میں داغ بن کر آئیں ۱۱؎ تین شخصوں کے سواء کسی کو سوال جائز نہیں کمر توڑ فقیری یا رسوا کن قرض یا تکلیف دہ خون سے ۱۲؎(ابوداؤد)اور ابن ماجہ نے یوم القیامت تک روایت کی۔

 



Total Pages: 441

Go To