Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۲؎  ظاہر یہ ہے کہ تینوں ہی الفاظ أو کے ساتھ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ہیں،راوی کا شک نہیں اور ان تینوں کے الگ الگ معنی ہیں ہر دوسرے لفظ میں پہلے سے ترقی زیادہ ہےجیساکہ ہم نے ترجمہ میں ظاہر کردیا،چونکہ بے ضرورت بھکاری تین قسم کے تھے معمولی کبھی کبھی مانگ لینے والے اور ہمیشہ کے بھکاری ضدی و ہٹ دھرم بھکاری اسی لیے ان کے چہروں کے آثار بھی تین طرح کے ہوئے جیسی بھیک ویسا اس کا اثر لہذا أو تقسیم کے لیے ہے شک کے لیے نہیں۔

۳؎  خیال رہے کہ جس نصاب سے سوال حرام ہوتا ہے اس کی مقداریں مختلف آئی ہیں۔یہ تو پچاس درہم یعنی قریبًا ساڑھے بارہ روپے ارشاد ہوئے،دوسری روایت میں ایک اوقیہ ارشاد ہوا یعنی چالیس درہم تقریبًا دس روپے،تیسری روایت میں دن رات کا کھانا ارشاد ہوا جیساکہ آگے آرہا ہے،لہذا بعض شارحین نے ان دونوں حدیثوں کو دن رات کے کھانے والی حدیث سے منسوخ مانا لیکن چونکہ ہرشخص کی حاجت مختلف ہوتی ہے، بڑے کنبے والے کا روزانہ خرچ زیادہ ہوتا ہے درمیانی کنبے والے کا درمیانہ اور اکیلے آدمی کا خرچہ بھی بہت معمولی،سرکار کے یہ تین ارشاد تین قسم کے لوگوں کے لحاظ سے ہیں جیسا موقعہ اور جیسا مسئلہ پوچھنے والا ویسا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب۔حکیم کی ہر بات حکمت سے ہوتی ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں اور ممکن ہے کہ حرمت سوال کا حکم تدریجًا  آہستگی سے وارد ہوا ۔اولًا پچاس درہم والوں کو روکا گیا،پھر چالیس والوں کو،آخر میں دن رات کے کھانے پر قدرت رکھنے والے کو جیسے شراب کی حرمت کا حال ہوا کیونکہ اہل عرب سوال کے عادی تھے ایک دم سوال چھوڑنہ سکتے تھے اس لیے یہ ترتیب برتی گئی۔

1848 -[12]

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَأَلَ وَعِنْدَهُ مَا يُغْنِيهِ فَإِنَّمَا يَسْتَكْثِرُ مِنَ النَّارِ» . قَالَ النُّفَيْلِيُّ. وَهُوَ أَحَدُ رُوَاتِهِ فِي مَوْضِعٍ آخر: وَمَا الْغنى الَّذِي لَا يَنْبَغِي مَعَهُ الْمَسْأَلَةُ؟ قَالَ: «قَدْرُ مَا يُغَدِّيهِ وَيُعَشِّيهِ» . وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: «أَنْ يَكُونَ لَهُ شِبَعُ يَوْمٍ أَوْ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت سہل ابن حنظلیہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو مانگے حالانکہ اس کے پاس بقدرغنا ہو تو وہ آگ بڑھاتا ہے ۱؎ نفیلی نے فرمایا جو دوسری جگہ اس حدیث کے ایک راوی ہیں ۲؎ وہ غنا کیا ہے جس کے ہوتے سوال مناسب نہیں فرمایا اس قدر کہ صبح شام کھائے اور دوسری جگہ فرمایا کہ اس کے پاس ایک دن یا ایک دن و رات کی سیری ہو۳؎(ابوداؤد)

۱؎ اس سے معلوم ہورہا ہےکہ بلاضرورت سوال حرام ہےکیونکہ خصوصیت سےسخت عذاب کی وعید وارد ہوئی۔ آگ بڑھانے سے مراد آگ کی تیزی،بھڑک،شعلے بڑھانا۔

۲؎  نفیلی کا نام عبداﷲ ابن محمد ہے،ابوداؤد سجستانی کے استاد ہیں،نفیل ان کے کسی دادا کا نام ہے۔

۳؎ ا س کی شرح ابھی گزر گئی کہ دن رات کی خوراک کی حد ہرشخص کے لیے جداگانہ ہے،بڑے کنبہ والے کے لیے زیادہ مال ہے درمیانے کے لیے درمیانہ ایک دو آدمیوں کے لیے معمولی یہاں خاص آفت زدہ مستثنٰی ہے،مقروض،ضامن یا جس کا مال ہلاک ہوگیا اس کے لیے سوال جائز ہے اگرچہ دن رات کے کھانے کا مالک ہو لہذا یہ حدیث گزشتہ احادیث کے خلاف نہیں۔خیال رہے کہ یہ مانگنے کا ذکر ہے۔رہا زکوۃ لینا اس کے متعلق یہاں مرقات نے فرمایا کہ فقیر اپنے اور اپنے بال بچوں کے ایک سال کا خرچ زکوۃ سے جمع کرسکتا ہے خرچ سے مراد کھانا اور کپڑا دونوں ہی ہیں۔

1849 -[13]

وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَأَلَ مِنْكُمْ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عَدْلُهَا فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا» . رَوَاهُ مَالك وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت عطاءبن یسار سے وہ بنی اسد کے ایک شخص سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے جو مانگے حالانکہ اس کے پاس ایک اوقیہ یا اس کے برابر ہوں تو وہ زاری سے مانگتا ہے ۲؎(مالک و ابوداؤد،نسائی)

 



Total Pages: 441

Go To