We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

ان کے پاس بھیجیں بنان نے قبول کرلیں،کسی نے امام احمد سے بنان کے اس رویّہ کی وجہ پوچھی کہ انہوں نے پہلے کیوں نہ لیں پھر کیوں لے لیں،امام نے فرمایا کہ وہ مرد متقی ہے پہلے ان کے نفس میں انتظار پیدا ہوچکا تھا نہ لیں،لوٹ جانے کے بعد مایوس ہوگئے تھے پھر لے لیں اور آپ نے یہی حدیث پڑھی۔(مرقات)

الفصل الثانی

دوسری فصل

1846 -[10]

عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَسَائِلُ كُدُوحٌ يَكْدَحُ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ فَمَنْ شَاءَ أَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ ذَا سُلْطَانٍ أَوْ فِي أَمْرٍ لَا يَجِدُ مِنْهُ بُدًّا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سوال کھرونچے ہیں جن سے آدمی اپنا منہ کھرچتا ہے تو جو چاہے اپنے منہ پر یہ کھرونچے رکھے اور جو چاہے اس سے بچے ۲؎  مگر یہ کہ آدمی حکومت والے سے کچھ مانگے یا ایسی چیز کہ اس کے بغیر چارہ نہ پائے ۳؎ (ابوداؤد، ترمذی،نسائی)

۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں،آپ کے شاگردوں میں سے بڑے شاگرد ابن سیرین اور امام شعبی ہیں،بصرہ میں قیام رہا،  ۵۵ھ؁  میں وہیں وصال ہوا۔

۲؎  منہ کے کھرونچوں سے مراد ذلت کا اثر   ہے کہ  جیسے منہ کے زخم دور سے نظر آتے ہیں ایسے ہی بھکاری دور سے پہچانا  جاتا ہے اس  کے چہرے پر نہ رونق ہوتی ہے   نہ  وقار  بلکہ   یہ  آثار ذلت قیامت میں بھی اس پر ہوں گے جیساکہ پہلے حدیث شریف میں آچکا۔

۳؎ یعنی یہ دو سوال جائز ہیں:مستحق کا حاکمِ وقت سے اپنے وظیفہ مقرر کرانا کہ یہ بھیک نہیں بلکہ اپنے حق کا مطالبہ ہے۔دوسرے سخت ضرورت کے وقت جب شرعًا اسے مانگنا جائز ہو تو کچھ مانگ لینا۔امام غزالی نے فرمایا کہ جس مالدار پر حج فرض ہوا اور بلا وجہ حج نہ کرے پھر غریب ہوجائے تو اس پر واجب ہے کہ حج کا خرچہ مانگے اور حج کو جائے کہ اس میں اپنے کو فسق سے نکالنا ہے،جب مجبورًا بھوک یا برہنگی دفع کرنے کے لیے سوال واجب ہے تو یہ بھی ضروری ہے۔(مرقات)

1847 -[11]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من سَأَلَ النَّاسَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَسْأَلَتُهُ فِي وَجْهِهِ خُمُوشٌ أَوْ خُدُوشٌ أَوْ كُدُوحٌ» . قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا يُغْنِيهِ؟ قَالَ: «خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ قِيمَتُهَا مِنَ الذَّهَبِ».رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو لوگوں سے مانگے حالانکہ اس کے پاس بقدر دفع حاجت ہے ۱؎ تو قیامت میں اس طرح آئے گا کہ اس کے سوال اس کے چہرے میں کھروچن یا خارش یا زخم ہوں گے۲؎ عرض کیا گیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم قدر غنا کیا ہے فرمایا پچاس درہم یا اس قیمت کا سونا ۳؎(ابوداؤد، ترمذی،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)

۱؎ یعنی اس کے پاس روز مرّہ کی ضروریات کھانا،کپڑا ہے اور کوئی خاص ضرورت درپیش نہیں لہذا یہ حدیث گزشتہ اس حدیث کے خلاف نہیں جہاں تھا کہ ضامن بن جانے والا سوال کرسکتا ہےکہ ضمانت نے اسے سوال کی ضرورت ڈال دی۔

 



Total Pages: 441

Go To