Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۳؎  خیر سے مراد مال ہے،چونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم مال حلال ہی لیتے تھے اس لیے اسے خیر فرمایا۔ اس فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مال جمع نہ کیا اور نہ بعد وفات کچھ وراثۃً چھوڑا جو باغ وغیرہ تھے وہ سب مسلمانوں پر وقف رہے۔

۴؎ یہ حدیث اس حدیث قدسی کی شرح ہے"اَنَا عِنْدَظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ"یعنی رب تعالٰی فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے قریب رہتا ہوں اس کا ظہور آخرت میں تو ہوگا ہی کہ اگر بندہ معافی کی امیدکرتا ہوا مرجائے تو ان شاءاﷲ اسے معافی ہی ملے گی،اکثر دنیا میں بھی ہوجاتا ہے کہ جو قرض نہ لینے یا نہ مانگنے کا خدا کے بھروسے پر پورا ارادہ کرلے تو اﷲ تعالٰی اسے ان سے بچا ہی لیتا ہے اور جو یہ کوشش کرے کہ دنیا والوں سے لاپرواہ رہوں تو بہت حد تک اﷲ اسے لاپرواہ ہی رکھتا ہے مگر یہ فقط زبانی دعویٰ نہ ہو عملی کوشش بھی ہو کہ کمانے میں مشغول رہے،خرچ درمیانہ رکھے،گُلچھرّے نہ اڑائے،اﷲ رسول سچے ہیں ان کے وعدے حق، غلطی ہم کرجاتے ہیں۔

۵؎  یعنی رب تعالٰی کی عطاؤں میں سے بہترین اور بہت گنجائش والی عطا صبرہے کہ رب تعالٰی نے اس کا ذکر نماز سے پہلے فرمایا:"اسْتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ"اور صابر کے ساتھ اﷲ ہوتا ہے،نیز صبر کے ذریعہ انسان بڑی بڑی مشقتیں برداشت کرلیتا ہے اور بڑے بڑے درجے حاصل کرلیتا ہے،رب تعالٰی نے ایوب علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:"اِنَّا وَجَدْنٰہُ صَابِرًا"ہم نے انہیں بندہ صابر پایا،صبر ہی کی برکت سے حضرت حسین علیہ السلام سید الشہداء ہوئے۔

1845 -[9] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي. فَقَالَ: «خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ وَتَصَدَّقْ بِهِ فَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخذه. ومالا فَلَا تتبعه نَفسك»

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطیہ دینا چاہتے تو میں عرض کرتا کہ یہ مجھ سے زیادہ حاجت مندکو عطا فرمائیے  ۱؎ تو آپ فرماتے یہ لے لو اسے مال بنا لو اس کو صدقہ کرو تمہیں جو مال بغیر طمع اور بغیر مانگے ملے اسے لے لیا کرو اور جو نہ ملے اس کے پیچھے اپنے کو نہ لگاؤ ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ صحبت پاک مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تاثیر تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ  عنہ صرف غنی نہیں بلکہ غنی تر وغنی گر ہوگئے،مانگنا تو کیا بغیر مانگے آتی ہوئی چیز میں بھی ایثار ہی کرتے ہیں اور دوسروں کو اپنے پر ترجیح دیتے ہیں،اپنے دور خلافت میں جب فارس اور روم کے خزانے مدینہ میں لاتے ہیں تو اس وقت بھی خود ایک قمیض ہی دھو دھو کر پہنتے ہیں رضی اللہ تعالٰی عنہ۔

۲؎  سبحان اﷲ! کیا بے مثال تعلیم ہے۔مقصد یہ ہے کہ جو بغیر مانگے اور بغیر طمع کے ملے وہ رب تعالٰی کا عطیہ ہے اسے نہ لینا گویا اس عطیہ کی بے قدری ہے دنیا والوں سے استغناء اچھا اور اﷲ و رسول کا ہمیشہ محتاج رہنا اچھا۔مشائخ کرام معمولی نذرانہ بھی قبول کرلیتے ہیں،ان کا ماخذ یہ حدیث ہے پھر کیا خوب فرمایا کہ تم خود لے کر صدقہ کردو تاکہ تمہیں لینے کا بھی ثواب  ملے اور دینے کا بھی۔

حکایت: حضرت بنان حمّالی کا پیشہ کرتے تھے ایک بار امام احمد بن حنبل کا کچھ سامان اجرت پر گھر پہنچایا وہاں تنور سے روٹیاں نکلتی دیکھیں،امام احمد نے اپنے بیٹے سے کہا کہ دو روٹیاں بنان کو بھی دے دو بنان نے انکار کردیا جب چلے گئے تو امام نے پھر دو روٹیاں



Total Pages: 441

Go To