Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

1843 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَذْكُرُ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ عَنِ الْمَسْأَلَةِ: «الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَالْيَد الْعليا هِيَ المنفقة وَالْيَد السُّفْلى هِيَ السائلة»

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر فرمایا جب کہ آپ صدقہ کا اور مانگنے سے باز رہنے کا ذکر فرمارہے تھے ۱؎ کہ اونچا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے،اونچا ہاتھ دینے والا ہے اور نیچا ہاتھ مانگنے والا ۲؎ (مسلم،بخاری)

۱؎  یعنی مالداروں کو صدقہ دینے کی رغبت دے رہے تھے اور فقیروں کو صبر اور مانگنے سے باز رہنے کا حکم دے رہے تھے۔

۲؎  الحمدﷲ! اس حدیث نے فقیر کی گزشتہ شرح کی تائید فرمادی یعنی بھکاری دینے والے سے نیچا ہے،ہر لینے والا نیچا نہیں بہت مرتبہ دینے والا خادم ہوتا ہے لینےوالامخدوم جس کی مثالیں بھی عرض کی جاچکیں۔ظاہر یہ ہے کہ یہ تفسیر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ہے نہ کہ سیدنا ابن عمر کی جیساکہ بعض شارحین نے سمجھا۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ بھکاری اس لیے مفضول ہوا کہ وہ اس مانگنے سے مائل بغنی ہے اور سخی اس لیے افضل ہوا کہ وہ مائل بفقر ہے یعنی فقیر مال لے رہا ہے اور سخی مال دے کر کم کررہا ہے لہذا اس حدیث سے یہی ثابت ہوا کہ غنا سے فقر افضل۔

1844 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: إِنَّ أُنَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُمْ ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ حَتَّى نَفِدَ مَا عِنْدَهُ. فَقَالَ: «مَا يَكُونُ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ وَمَنْ يَسْتَعِفَّ يُعِفَّهُ اللَّهُ وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً هُوَ خَيْرٌ وَأَوْسَعُ مِنَ الصَّبْرِ»

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ کچھ انصاری لوگوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا ۱؎ حضور نے انہیں دیا پھر مانگا حضور نے پھر دیا حتی کہ جو آپ کے پاس تھا ختم ہوگیا ۲؎ پھر فرمایا جو کچھ مال میرے پاس ہوگا وہ تم سے ہرگز بچا نہ رکھوں گا۳؎  جو سوال سے بچنا چاہے اﷲ اسے بچائے گا اور جو غنا چاہے گا اﷲ اسے غنا دے گا اور جو صبر چاہے گا اﷲ اسے صبر دے گا ۴؎ اورکسی کو صبر سے بہتر اور وسیع کوئی چیز نہ ملی۵؎(مسلم،بخاری)

۱؎  ظاہر یہ ہے کہ یہ مانگنا بلاضرورت تھا جیساکہ اگلے فرمان سے معلوم ہورہا ہے۔ضرورۃً مانگنے والوں کو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی دیتے تھے اوروں سے بھی دلواتے تھے۔

۲؎  یعنی وہ حضرات مانگتے رہے اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم دیتے رہے انہیں سب کچھ دے کر پھر مسئلہ بتایا اس میں تبلیغ بھی ہے اور سخاوت مطلقہ کا اظہار بھی۔معلوم ہوا کہ بلاضرورت مانگنے والوں کو دینا حرام نہیں اگرچہ انہیں مانگنا ممنوع ہے۔خیال رہے کہ جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ خوش ہوکر دیا ہے وہ بہت عرصہ تک ختم نہ ہوا۔چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو تھوڑے تھوڑے جو عطا فرمائے تھے جو ان بزرگوں نے سالہا سال کھائے اور کھلائے،پھر جب تولے تو اتنے ہی تھے مگر تولنے سے ختم ہوگئے،حضرت طلحہ کے ہاں ساڑھے چار سیر جَو کی روٹی پرسینکڑوں آدمیوں کی دعوت فرمادی جیساکہ باب المعجزات میں آئے گا،لہذا اس ختم ہونے سے کوئی دھوکا نہ کھائے،یار کے رنگ مختلف ہیں جب خوشی سے دیں تو سب کچھ ہے اور اگر کوئی ناخوش کرکے لے تو اس میں برکت نہیں۔

 



Total Pages: 441

Go To