We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

باب لاتحل لہ المسئلۃ و من تحل لہ

باب مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ یہاں مانگنے سے مراد ذلت و خواری کا مانگنا ہے یعنی بھیک مانگنا لہذاباپ کا اولاد سے یا آقا کا غلام سے یا اس کے برعکس یا ان سے کچھ مانگنا جن سے مانگنے میں عار نہ ہو جائز ہے،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے شفاعت اور انعام الہیہ اور اخروی نعمتوں کی بھیک مانگنا بادشاہوں کے لیے فخروعزت ہے۔اس پر علماء کا اتفاق ہے کہ بلاضرورت مانگنا ممنوع ہے،اس میں اختلاف ہے کہ مکروہ ہے یا حرام۔حق یہ ہے کہ حرام ہے،ضرورت سوال میں بہت تفصیل ہے جو آئندہ آرہی ہے۔خیال رہے کہ زکوۃ واجب ہونے کا نصاب اور ہے زکوۃ لینے کی حرمت کا نصاب اورمگر سوال حرام ہونے کا نصاب کچھ اور ہی ہے جس کے پاس دو وقت کھانے کو ہو یا کمانے پر قادر ہو وہ بھیک نہ مانگے الا بما ھو یجیئی عن قریب۔

1837 -[1]

عَن قبيصَة بن مُخَارق الْهِلَالِي قَالَ: تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فِيهَا. فَقَالَ: «أَقِمْ حَتَّى تَأْتِينَا الصَّدَقَة فنأمر لَك بهَا» . قَالَ ثُمَّ قَالَ: «يَا قَبِيصَةُ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّى يقوم ثَلَاثَة من ذَوي الحجى مِنْ قَوْمِهِ. لَقَدْ أَصَابَتْ فُلَانًا فَاقَةٌ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ فَمَا سِوَاهُنَّ من الْمَسْأَلَة يَا قبيصَة سحتا يأكلها صَاحبهَا سحتا» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت قبیصہ ابن مخارق سے فرماتے ہیں کہ میں ایک قرض کا ضامن بن گیا تھا ۱؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کے لیے کچھ مانگنے کو حاضر ہوا ۲؎  تو حضور نے فرمایا ٹھہرو حتی کہ صدقہ آجائے تو ہم اس کا تمہارے لیے حکم دے دیں گے۳؎ پھر فرمایا اے قبیصہ تین شخصوں کے سواء کسی کو مانگنا جائز نہیں ایک وہ جوکسی قرض کا ضامن ہوگیا ہو اسے مانگنا جائز ہے حتی کہ بقدر قرض پالے پھر باز رہے ۴؎ ایک وہ جس پر آفت آجائے جو اس کا مال برباد کردے اسے مانگنا حلال ہے ۵؎ حتی کہ زندگانی کا قیام پائے یا فرمایا کہ زندگی کی درستی پائے ۶؎ اور ایک وہ جسے فاقہ پہنچ جائے حتی کہ اس کی قوم کے تین عقل والے اٹھ کر کہہ دیں کہ فلاں فاقہ کو پہنچا ہے تو اسے مانگنا حلال ہے ۷؎ حتی کہ زندگی کا قیام یا زندگی کی درستی پائے،اے قبیصہ ان کے سواء مانگنا حرام ہے کہ مانگنے والا حرام کھاتا ہے ۸؎(مسلم)

۱؎ حمالہ یعنی اس ضمانت کی صورت یہ ہوتی ہے کہ دو قومیں دیت یا دوسرے مال قرض کی وجہ سے آپس میں لڑنے لگیں،کوئی ان میں صلح کرانے اور دفع شر کے لیے مقروض کا قرض یا منقول کی دیت اپنے ذمے لے لے یعنی دفع فساد یا صلح کرانے کے لیے مال کا ضامن بن جانا یا اپنے ذمہ لے لینا۔(مرقات و لمعات وغیرہ)

۲؎  تاکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مال عطا فرمادیں جس سے میں وہ قرض چکا دوں یا دیت ادا کردوں۔

 



Total Pages: 441

Go To