We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۲؎ صدقہ سے مراد زکوۃ ہے جیساکہ آئندہ جواب سے معلوم ہورہا ہے۔حضو ر انور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غنی صحابہ اپنی زکوتیں خیرات کو دے جاتے تھے،حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم پر زکوۃ فرض نہ تھی،یہاں وہ زکوٰتیں مراد ہیں۔

۳؎ یعنی رب تعالٰی نے براہ راست جس قدر تفصیل زکوۃ کے مصارف کی فرمائی اتنی تفصیل دوسرے احکام کی نہ کی حتی کہ خود زکوۃ و نماز کا اجمالی ذکر ہی فرمایا،نبی کے بیان پر کفایت نہ فرمائی۔عدم رضا سے مراد عدم کفایت ہے اس لفظ سے دھوکا نہ کھانا چاہیے اﷲ تعالٰی اپنے محبوب اور ان کے سارے احکام سے راضی ہے،ان کے غلاموں کے بارے میں فرماتا:"رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوۡا عَنْہُ"۔ان کی شان تو بہت اعلیٰ ہے۔

۴؎ اس کلام کا منشاء یہ ہے کہ تم ان آٹھ میں سے نہیں ہو لہذا تم زکوۃ نہیں لے سکتے،یہ گفتگو عتابانہ ہوتی ہے لہذا اس کی وجہ سے یہ نہیں کہا جاتا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے اندرونی حالات سے بے خبرہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جو کچھ تم گھروں میں کھاتے بچاتے ہو میں تمہیں یہاں بتاسکتا ہوں،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے دفن شدہ مردوں کے متعلق فرمایا یہ چغل خور تھا،یہ پیشاب کی چھینٹوں سے نہ بچتا تھا۔خیال رہے کہ احناف کے ہاں زکوۃ تمام مصارف پرتقسیم کرنا ضروری نہیں صرف ایک مصرف کو بھی دے سکتے ہیں یہ حدیث احناف کے خلاف نہیں۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

1836 -[16]

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ: شَرِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَبَنًا فَأَعْجَبَهُ فَسَأَلَ الَّذِي سَقَاهُ: مِنْ أَيْنَ هَذَا اللَّبَنُ؟ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَرَدَ عَلَى مَاءٍ قَدْ سَمَّاهُ فَإِذَا نَعَمٌ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ وَهُمْ يَسْقُونَ فَحَلَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا فَجَعَلْتُهُ فِي سِقَائِي فَهُوَ هَذَا: فَأدْخل عمر يَده فاستقاءه. رَوَاهُ مَالِكٌ وَ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ

روایت ہے حضرت زید ابن اسلم سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ابن خطاب نے دودھ پیا تو آپ کو پسند آیا تو پلانے والے سے پوچھا کہ یہ دودھ کہاں سے لایا۲؎ اس نے بتایا کہ وہ ایک گھاٹ پر گیا تھا جس کا اس نے نام لیا تو وہاں صدقہ کے جانور تھے وہ پانی پلارہے تھے انہوں نے ان جانوروں کا دودھ دوھا تو میں نے اپنے مشکیزہ میں ڈال لیا۳؎ یہ وہ  دودھ ہے تو حضرت عمر نے منہ میں ہاتھ ڈالا اور قے کردی۴؎(مالک،بیہقی شعب الایمان)

۱؎ آپ تابعی ہیں،حضرت عمرفاروق کے آزاد کردہ غلام ہیں،بڑے فقیہ و عابد تھے،آپ کے درس میں چالیس فقہاء بیٹھتے تھےحتی کہ حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ آپ کے درس میں شرکت فرماتے تھے۔(اشعۃ اللمعات)

۲؎  مرقات نے فرمایا کہ یہ حضرت عمر کی فراست ہے،آپ نے محسوس فرمایا کہ روزانہ ہم دودھ پیتے تھے نفس اس قدر خوش نہ ہوتا تھا آج اتنا پسند کیوں کرتا ہے،نفس اس سے اتنا راضی و خوش کیوں ہوا اس میں کچھ راز ہے،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مؤمن کی فراست سے ڈرو وہ اﷲ کے نور سے دیکھتا ہے۔

۳؎  یعنی زکوۃ کے اونٹ کنوئیں یا گھاٹ پر پانی پینے آتے تھے ان کا دودھ خیرات کیا گیا میں نے بھی وہ خیراتی دودھ لے لیا کیونکہ میں فقیر ہوں۔عرب میں جب جانور پانی پلانے کے لیے جمع ہوتے تھے تو فقراء جمع ہوجاتے تھے جن کو دودھ خیرات کے طور پر دیا جاتا تھا۔

 



Total Pages: 441

Go To