We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ عالی میں مال و اعمال کے ثوابوں کا ہدیہ کرتے رہیں۔یہاں کراع سے مراد کُھرے(گائے بکری کے پائے) ہیں نہ کہ کراع العمیم منزل جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا۔یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اگر کوئی فقیر صدقہ کا معمولی مال بھی لے کر ہماری دعوت کردے تو ہم قبول فرمالیں گے کیونکہ صدقہ اس پر ختم ہوچکا اسی لئے یہ حدیث اس باب میں لائی گئی۔

1828 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ وَلَا يُفْطَنُ بِهِ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ وَلَا يَقُومُ فَيَسْأَلَ النَّاس»

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکین وہ نہیں جو لوگوں پر چکر لگاتا پھرے اسے ایک دو لقمے یا ایک دو چھوہارے لوٹادیں لیکن مسکین وہ ہے جو غنا بھی نہ پائے جس کو لوگوں سے لاپرواہ ہوجائے اور اسے پہچانا بھی نہ جائے تاکہ اسے صدقہ دیدیا جائے اور نہ اٹھ کر لوگوں سے سوال کرے ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎  یعنی جس مسکینیت پر ثواب ہے اور صابروں کے زمرہ میں داخل ہے وہ یہ بھکاری فقیر نہیں ہے بلکہ یہ تو عام حالات میں اسی سوال پر گنہگار ہےکہ جب وہ بھیک مانگنےکے لئے اتنی دوڑ دھوپ کرسکتا ہے تو وہ کمانے کے لیے بھی کرسکتا ہے،ہاں صابر وہ مسکین ہے  جو  حاجتمند ہو مگر  پھر کسی پر اپنی حاجت ظاہر نہ کرے،اپنے فقر کو چھپانے کی کوشش کرے،اسی مسکین کی رب تعالٰی نے قرآن پاک میں تعریف فرمائی ہے کہ فرمایا:"لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیۡنَ اُحۡصِرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ"الآیۃ۔یہ خیال رہے کہ جس مسکینیت کی  دعا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگی ہے وہ مسکینیت دل ہے یعنی دل میں عجز وانکسار ہونا،تکبر وغرور  نہ ہونا،ایسا شخص اگر مالدار بھی ہو تو مبارک مسکین ہےاور جن احادیث میں فقر و مسکینیت سے پناہ مانگی گئی ہے وہ ایسی تنگدستی ہے جو فتنہ میں مبتلا کردے لہذا  احادیث میں تعارض نہیں اور  نہ  یہ  اعتراض  ہے  کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے تومسکینیت کی دعا کی مگر رب تعالٰی نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو بادشاہ بنادیا یہ دعا قبول نہ ہوئی۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1829 -[9]

عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ عَلَى الصَّدَقَةِ فَقَالَ لِأَبِي رَافِعٍ: اصْحَبْنِي كَيْمَا تُصِيبُ مِنْهَا. فَقَالَ: لَا حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ. فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: «إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لَنَا وَإِنَّ مَوَالِيَ الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت ابو رافع سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو صدقہ پر مقر ر کرکے بھیجا اس نے ابو رافع سے کہا کہ تم بھی ہمارے ساتھ چلو کہ تم بھی کچھ پالو ۱؎  وہ بولے نہیں حتی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھ لوں۲؎  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ ہم کو صدقہ حلال نہیں اور قوم کا غلام ان ہی میں سے ہوتا ہے۳؎ (ترمذی،ابوداؤد، نسائی)

 



Total Pages: 441

Go To