We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

باب من لا تحل لہ الصدقۃ

باب جن لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں   ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ یعنی کن شخصوں کو صدقہ واجبہ،زکوۃ،ہدیہ،فطرہ نہیں دے سکتے۔یہاں چند مسائل خیال میں رکھنے چاہئیں: ایک یہ کہ صدقہ وہ مال ہے جو محض ثواب کے لیے کسی کو دیا جائے اور ہدیہ وہ مال ہے جو کسی کے احترام و رضاء کے لیے اسے دیا جائے،صدقہ میں دوسرے پر رحم ہے اور ہدیہ میں اس کی تعظیم، دوسرے یہ کہ چند شخصوں کو زکوۃ وغیرہ منع ہے:کافر،غنی مسلمان،بنی ہاشم،اپنی اولاد،اپنے اصولی یعنی صدقہ دینے والا جن کی اولاد میں ہے،شوہر یا زوجہ کو۔تیسرے یہ کہ کافر ذمی کو صدقہ واجبہ نہیں دے سکتے صدقہ نفلی دے سکتے ہیں اگرچہ وہ بھی مسلمان فقیر کو دینا بہتر ہے،چونکہ زکوۃ نہ لے سکنے والوں کو بتادینے سے لے سکنے والوں کا پتہ خودبخود لگ جاتا ہے اس لیے نہ لینے والوں کا ذکرکیا کہ یہ تھوڑے ہیں۔چوتھے یہ کہ ہدیہ کی تین قسمیں ہیں: نذرانہ جو چھوٹا بڑے کو دے،عطیہ جو بڑا چھوٹے کو دے،ہدیہ جو برابر والا دے۔

1821 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرَةٍ فِي الطَّرِيقِ فَقَالَ: «لَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ تَكُونَ مِنَ الصَّدَقَةِ لأكلتها»

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  راستہ میں ایک کھجور پر سے گزرے تو فرمایا کہ مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کا ہوگا تو میں اسے کھالیتا ۱؎ (مسلم، بخاری)

۱؎  یعنی خطرہ یہ ہے کہ یہ کھجور زکوۃ کی ہو جو مالک کے ہاتھ سے گر گئی ہو اس لیے ہم اسے نہیں کھاتے،اگر یہ خطرہ نہ ہوتا تو ہم اسے کھالیتے۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اولاد پر تاقیامت زکوۃ لینا حرام ہے کیونکہ یہ لوگوں کے ہاتھ و مال کا میل ہے ان ستھروں کو کیونکر جائز ہوسکتاہے جیساکہ آگے عرض ہوگا۔دوسرے یہ کہ لقطہ یعنی پڑی ہوئی چیز اگر معمولی ہوجس کی تلاش مالک نہ کرے گا نہ اس کے مالک کو ڈھونا ضروری ہے نہ اس کے سنبھالنے اور اعلان کرنے کی ضرورت ہے بلکہ فورًا اپنے استعمال میں لانا جائز ہے۔لقطہ کی احادیث قیمتی چیز کے متعلق ہیں جن کی مالک تلاش کرے۔ تیسرے یہ کہ فتویٰ اور تقویٰ میں فرق ہے فتویٰ محرمات سے بچنے کا ہے مگر تقویٰ یہ ہے کہ شبہات سے بھی بچے مگر شبہ اور وہم میں فرق ہے وہمیات کا اعتبار نہیں۔ولایتی کپڑے کے تھان بازار میں فروخت ہوتے ہیں ان میں شبہ کرنا یہ گندے پانی سے دھوئے گئے ہوں گے تقویٰ نہیں وہم ہے، صحابہ کرام غنیمت میں کفار کے لباس پاتے تھے اور بے تکلف استعمال کرتے تھے،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار بادشاہوں کے ہدیے لیے اور استعمال فرمائے۔خیال رہے کہ یہاں تعلیم امت کے لیے یہ ارشادہے کہ متشابہات سے بچو ورنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو ہر ایک چیز کی حقیقت و اصلیت سے خبردار ہیں جیساکہ ہم بار ہا اسی شرح میں اور اپنی کتاب "جاءالحق"حصہ اول میں ثابت کرچکے ہیں۔

1822 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَخَذَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كِخْ كِخْ» لِيَطْرَحَهَا ثُمَّ قَالَ: «أما شَعرت أَنا لَا نَأْكُل الصَّدَقَة؟»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ حضرت حسن ابن علی نے صدقہ کے چھوہاروں میں سے ایک چھوہارا لےکر اپنے منہ میں ڈال لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اخ  اخ تاکہ وہ اسے تھوک دیں پھر فرمایا کہ کیا تمہیں خبر نہیں کہ ہم صدقے نہیں کھایا کرتے ۱؎(مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 441

Go To