We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

1817 -[3]

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: فِي آخِرِ رَمَضَانَ أخرجُوا صَدَقَة صومكم. فرض رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ أَوْ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ مَمْلُوكٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ آپ نے رمضان کے آخر میں فرمایا کہ اپنے روزوں کا صدقہ نکالو یہ صدقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لازم فرمایا ہے ایک صاع کھجور یا جَو یا آدھا صاع گندم ۱؎  ہر آزاد یا غلام مردیا عورت چھوٹے یا بڑے پر ہے ۲؎ (ابوداؤد،نسائی)

۱؎ اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ عید کے دن سے پہلے میں فطرہ دے سکتے ہیں،دیکھو حضرت ابن عباس نے آخر رمضان میں ہی فطرہ نکالنے کا حکم دیا۔دوسرے یہ کہ گندم کا آدھا صاع فطرہ میں دیا جائے نہ کہ پورا لہذا یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے۔

۲؎ اس کی شرح پہلے ہوچکی کہ مملوک غلام کا فطرہ مولیٰ دے گا غلام مسلمان ہو یا کافر،اسی طرح چھوٹے بچے کا فطرہ باپ پر ہے اگر بچے کے پاس اپنا مال نہ ہو ورنہ خود بچے کے مال سے دیا جائے گا۔

1818 -[4]

وَعَن ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ طُهْرَ الصِّيَامِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ وَطُعْمَةً لِلْمَسَاكِينِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطرہ لازم فرمایا روزوں کو بے ہودگی اور فحش سے پاک کرنے اور مسکینوں کو کھانا دینے کے لیے ۱؎(ابوداؤد)

۱؎ یعنی فطرہ واجب کرنے میں دو حکمتیں ہیں:ایک تو روزہ دار کے روزوں کی کوتاہیوں کی معافی اکثر روزے میں غصہ بڑھ جاتا ہے تو بلاوجہ لڑ پڑتا ہے،کبھی جھوٹ،غیبت وغیرہ بھی ہوجاتے ہیں،رب تعالٰی اس فطرے کے برکت سے وہ کوتاہیاں معاف کردے گا کہ نیکیوں سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔دوسرے مساکین کی روزی کا انتظام۔بچوں پر اگرچہ روزے فرض نہیں مگر دوسری حکمت وہاں بھی موجود ہے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ پھر بچوں پر فطرہ کیوں ہے وہ تو روزہ رکھتے نہیں۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

1819 -[5]

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُنَادِيًا فِي فِجَاجِ مَكَّةَ: «أَلَا إِنَّ صَدَقَةَ الْفِطْرِ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ مُدَّانِ مِنْ قَمْحٍ أَوْ سِوَاهُ أَوْ صَاع من طَعَام» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کی گلیوں میں منادی بھیجا ۱؎ کہ خبرار رہو صدقہ فطر واجب ہے ہر مسلمان مرد،عورت، آزاد، غلام،چھوٹے بڑے پر گیہوں وغیرہ سے دو مد ۲؎ یا اس کے ماسوا غلہ کا ایک صاع۳؎(ترمذی)

۱؎ یہ اعلان فتح مکہ کے بعد ہوا کیونکہ اس سے پہلے وہاں اسلامی احکام کے اعلان کی کوئی صورت ہی نہ تھی،چونکہ مدینہ کے مسلمانوں کو ہر وقت صحبت محبوب میسر تھی اس لیے انہیں اس اعلان کی ضرورت نہ تھی،مکہ معظمہ کے اکثر مسلمان نو مسلم بھی تھے اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے دور بھی اس لیے یہ اعلان کرائے گئے۔

۲؎  ایک صاع چار مد کا ہوتا ہے تو دو مد کا آدھا صاع ہوا یعنی گندم سے فطرہ آدھا صاع فی کس واجب ہے اور کل مسلم سے مراد ہر صاحبِ نصاب غنی مسلمان ہے جیساکہ پہلے عرض کیا گیا کہ صدقہ غنی کے بغیر واجب نہیں ہوتا اور آزاد و غلام چھوٹے بڑے سے مراد بلاواسطہ اور بالواسطہ ہے یعنی بالغ آزاد غنی تو اپنا فطرہ خود دے اور غنی کے غلام و چھوٹے بچوں کا فطرہ وہ غنی دے لہذا یہ حدیث نہ تو دیگر احادیث کے خلاف ہے نہ احناف کے مخالف۔

 



Total Pages: 441

Go To