We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

اللہ علیہ وسلم نے یہاں غنی کی قید نہ لگائی۔امام اعظم ابوحنیفہ پہلے مسئلہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہاں فرض  لغوی معنے میں ہے یعنی مقرر فرمائی،رب تعالٰی فرماتاہے:"قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیۡہِمْ فِیۡۤ اَزْوٰجِہِمْ"۔اور اگر شرعی فرض ہی مراد ہو یعنی لازم کردینا تب بھی حدیث ظنی ہے اور فرضیت کے لیے دلیل قطعی چاہیئے،لہذا اس فرض سے وجوب ثابت ہوگا نہ کہ فرضیت اور دوسرے مسئلہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس اطلاق سے تو یہ حدیث تمہارے بھی خلاف ہےکیونکہ یہاں ایک دن کی روٹی ہے زائد ملکیت کا بھی ذکر نہیں چاہیے کہ ہر آزاد و غلام پر فطرہ واجب ہو حتی کہ فقیر بے نوا بے دست و پا بھیک مانگ کر فطرہ دے،پھر لطف یہ ہے کہ جب ہر فقیر پر فطرہ دینا فرض ہوا تو فطرہ لے گا کون، امام اعظم کی دلیل وہ حدیث ہے جو امام احمد نے اپنی مسند میں اور امام بخاری نے تعلیقًا بخاری شریف میں نقل فرمائی کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"لاصدقۃ الا عن ظھر غنی" صدقہ تو نگری سے واجب ہوتا ہے اب تو نگری کی کوئی حد ہونا چاہیے وہ نصاب کی ملکیت ہے۔

۴؎ یہ حکم استحبابی ہے۔بہتر یہ ہے کہ فطرہ عید کے دن نکالے اور عید گاہ جانے سے پہلے دے،اگر نماز عید کے  بعد دیا تب بھی جائز ہے اور اگر عید سے ایک دو دن پہلے دے دیا جب بھی درست ہے۔چنانچہ بخاری شریف میں حضرت ابن عمر کی ایک دراز روایت نقل کی جس کے آخر میں"وکانوا یعطون قبل الفطر بیوم اویومین"یعنی صحابہ عید سے ایک دو دن پہلے فطرہ دے دیتے تھے مگر عید کے دن نماز سے پہلے دینا بہتر ہے تاکہ فقراء بھی عید منالیں۔(ازمرقات وغیرہ)

1816 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَو صَاعا من شعير أَو صَاعا من تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مَنْ أَقِطٍ أَوْ صَاعًا من زبيب

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ ہم صدقہ فطر ایک صاع غلہ ۱؎ یا ایک صاع جو یا ایک صاع چھوہارے یا ایک صاع پنیر یا ایک صاع کشمش نکالتے تھے ۲؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ حق یہ ہے کہ یہاں طعام سے مراد گندم کے علاوہ دوسرا غلہ ہے جوار،باجرہ،مکئی وغیرہ کیونکہ گندم کا آدھا صاع فطرہ ہوتا ہے نہ کہ پورا صاع اور اگر گندم مراد ہو تو آدھا صاع فطرہ ہوگا اور آدھا صدقہ نفلی لہذا یہ حدیث نصف صاع گندم کی احادیث کے خلاف نہیں۔شیخ نے اشعہ میں فرمایا کہ اس زمانہ میں حجاز میں جوار کا زیادہ استعمال تھا۔

۲؎ یہ اَوْ اختیار دینے کے لیے ہے جس سے معلوم ہوتاہے کہ دینے والے کوا ختیار ہے کہ فطرہ ان میں سے کسی چیز سے دے لیکن اگر پیسے یا کپڑا یا صابن وغیرہ فطرہ میں دے تو سوا دو سیر گندم کی قیمت کا اعتبار کرے،اس قیمت کی یہ چیزیں دے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1817 -[3]

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: فِي آخِرِ رَمَضَانَ أخرجُوا صَدَقَة صومكم. فرض رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ أَوْ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ مَمْلُوكٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ آپ نے رمضان کے آخر میں فرمایا کہ اپنے روزوں کا صدقہ نکالو یہ صدقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لازم فرمایا ہے ایک صاع کھجور یا جَو یا آدھا صاع گندم ۱؎  ہر آزاد یا غلام مردیا عورت چھوٹے یا بڑے پر ہے ۲؎ (ابوداؤد،نسائی)

 



Total Pages: 441

Go To