We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

باب صدقۃ الفطر

صدقہ فطر کاباب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ فطرہ یا افطار سے ہے یا فطرۃ سے،چونکہ یہ ماہ رمضان گزر جانے اوگر عید کے دن افطارکرنے پر واجب ہوتا ہے اس لیے فطرہ کہاجاتاہے یا بچہ پیدا ہوتے ہی اس کی طرف سے باپ پر ادا کرنا واجب ہوجاتاہے لہذا فطرہ ہے۔اصطلاح شریعت میں عید کے دن جو مالدار پر رمضان کا صدقہ واجب ہوتا ہے وہ فطرہ ہے۔احناف کے ہاں فطرہ واجب ہے،امام شافعی و احمد کے ہاں فرض،امام مالک کے ہاں سنت مؤکدہ،امام شافعی کے ہاں ہر اس امیروغریب پر جو ایک دن کی روٹی پر قادر ہو فطرہ فرض ہے،امام مالک کے ہاں نصاب پر فطرہ سنت مؤکدہ ہے نصاب نامی یعنی بڑھنے والا ہو یا نہ ہو۔نصاب میں احناف کا مذہب بھی یہ ہے۔فطرہ کے تفصیلی مسائل کتب فقہ میں دیکھو۔

1815 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى الْعَبْدِ وَالْحُرِّ وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى وَالصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاس إِلَى الصَّلَاة

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ایک صاع چھوہارے یا ایک صاع  ۱؎ جو ہر غلام،آزاد،مرد،عورت چھوٹے اور بڑے مسلمان پر ۲؎ مقرر فرمایا ۳؎ اور حکم دیا کہ لوگوں کے عید گاہ جانے سے پہلے ادا کردیا جائے ۴؎(مسلم،بخاری)

۱؎ صاع عرب شریف کا مشہور پیمانہ ہے(ٹوپا)جس سے دانے ماپ کر فروخت ہوتے ہیں جیسے ہمارے ہاں ہر علاقہ کا سیر مختلف ہے، ایسے ہی عراق،حجاز اور یمن کے صاع بھی مختلف ہیں،فطرہ میں حجازی صاع جو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مروج تھا معتبر ہے۔تحقیق یہ ہے کہ وہ صاع تین سوا اکیاون۳۵۱ روپیہ بھر ہے یعنی ہمارے پاکستانی اسی۸۰ روپیہ کے سیر کے چار سیر،ڈیڑھ پاؤ ایک تولہ لہذا اگر فطرہ میں جَو دےتو ایک شخص کی طرف سے اتنے دے اور اگر گیہوں دے تو آدھا صاع یعنی دو سیر تین چھٹانک چھ ماشہ۔اس کی تحقیق فتاویٰ رضویہ شریف میں ملاحظہ کریں۔

۲؎ خیال رہے کہ صدقہ فطر ایک اعتبار سے بدنی عبادت ہے کہ ایک بدنی عبادت روزے کی تکمیل کے لیے ہے اسی لیے غلام پربھی واجب ہوا جیسے نماز روزہ اور دوسرے لحاظ سے مالی عبادت ہے کہ وہ مال سے ادا ہوتا ہے اس لیے غلام کا فطرہ اس کے مولیٰ پر واجب ہوا نہ کو خود غلام پر،تیسری حیثیت سے یہ مالی ٹیکس  کی حیثیت رکھنا ہے جیسے پیداوار کا خراج  اس لیے نابالغ بچے پر بھی  واجب  ہوا  مگر بچے کا فطرہ باپ دے گا،ہاں اگر بچہ خود غنی ہو تو اس کے اپنے مال سے دیا جائے گا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جب بچے پر روزہ،نماز،زکوۃ فرض نہیں تو فطرہ کیوں واجب ہوا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ وجوب فطرہ کا سبب بدنی علم ہے نہ کہ مال،مسلم مال تو وجوب فطرہ کی شرط ہے کیونکہ اسے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے بندہ کی طرف نسبت دی۔

۳؎  اس حدیث سے امام شافعی رضی اللہ عنہ نے دو مسئلے ثابت فرمائے ہیں:ایک یہ کہ فطرہ فرض ہے کیونکہ یہاں لفظ فَرَضَ رَسُوْلُ اﷲِ ہے۔دوسرے یہ کہ ہر امیروغریب پر فرض ہے جس کے پاس ایک دن کے کھانے سے بچا ہوا ہو کیونکہ حضور انورصلی



Total Pages: 441

Go To