We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۲؎  بلال ابن حارث صحابی ہیں،مزنیہ کے وفد میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر اسلام لائے،اسی۸۰ سال عمر پائی،  ۶۰ھ؁  میں وفات ہوئی۔

۳؎  یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان بلال کو مقام فرع کے پاس جو مکہ و مدینہ منورہ کے درمیان ایک جگہ ہے مدینہ منورہ سے پانچ منزل پر ہے وہاں نمک کی کانیں تھیں عطا فرمائیں بطریق معانی جاگیر کہ وہاں سے سونا چاندی نکالیں اور اپنا گزارہ کریں،قیل بھی ایک جگہ کا نام ہے۔معلوم ہوا کہ بادشاہ اسلام کسی کو کوئی زمین بطور جاگیر دے سکتا ہے۔

۴؎  یعنی کان سے نکلنے والی دھات میں پانچواں حصہ واجب ہوتا ہے(خمس)مگر ان کانوں کے سونے چاندی میں خمس واجب نہیں ہوا بلکہ زکوۃ یعنی چالیسواں حصہ واجب ہوا۔خیال رہے کہ حضرت امام شافعی کے ہاں جاگیر کی کان سے جو برآمد ہو اس میں چالیسواں حصہ واجب ہے مگر امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک خمس ہی واجب ہے۔ امام شافعی کی دلیل یہ حدیث ہے،حضرت امام اعظم کی دلیل وہ گزشتہ حدیث کہ"وفی الرکاز الخمس"یہ حدیث منقطع ہے لہذا اس سے دلیل نہیں پکڑ ی جاسکتی۔(مرقات)یا یہ حضرت بلال کی خصوصیات میں سے ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

1813 -[20]

عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ فِي الْخَضْرَاوَاتِ صَدَقَةٌ وَلَا فِي الْعَرَايَا صَدَقَةٌ وَلَا فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ وَلَا فِي الْعَوَامِلِ صَدَقَةٌ وَلَا فِي الْجَبْهَةِ صَدَقَةٌ».قَالَ الصَّقْرُ:الْجَبْهَةُ الْخَيل وَالْبِغَال وَالْعَبِيد.رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيّ

روایت ہے حضرت علی سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ تو سبزیوں میں زکوۃ  ۱؎ ہے اور نہ عرایا(عاریۃً)میں۲؎  اور نہ پانچ وسق سے کم میں زکوۃ ۳؎ ہے نہ کام کاج کے جانور میں زکوۃ ہے۴؎ اور نہ پیشانیوں میں،امام صقر نے فرمایا کہ پیشانی سے مراد گھوڑے اور خچر اور غلام ہیں۵؎(دارقطنی)

۱؎ امام اعظم کے نزدیک سبزیوں میں عشر یا بیسواں حصہ ہے،صاحبین کے ہاں نہیں،یہ حدیث صاحبین کی دلیل ہے،امام اعظم قدس سرہ کے ہاں اس سے زکوۃ تجارت مراد ہے،اس کی بحث پہلے ہوچکی۔سبزیوں سے مراد تمام نہ ٹھہرنے والی چیزیں ہیں جیسے ترکاریاں،پھول،بینگن،کدو وغیرہ۔

۲؎ عرایا یا عریہ کی جمع ہے۔عریہ وہ درخت ہے جوکسی کو ایک دو فصلوں کے لیے عاریۃً دے دیا جاوے کہ وہ اس کے پھل کھایاکرے،اصل درخت مالک کا ہو،کبھی کسی سے خشک کھجوریں لےکر اس کے عوض درخت کی کھجوریں دے دیتے ہیں اسے بھی عریہ کہا جاتاہے۔اس کی پوری بحث کتاب البیوع میں ہوگی ان شاءاﷲ۔

۳؎  اس کی بحث پہلے ہو چکی کہ امام اعظم کے نزدیک یہاں زکوۃ سے تجارتی زکوۃ مراد ہے،چونکہ اس زمانہ میں ایک وسق چالیس درہم کا ہوتا تھا تو پانچ وسق دوسو درہم کے ہوئے اس لیے یہ ارشاد ہوا ورنہ پیداوار کی زکوۃ ہر تھوڑی بہت پر ہوگی۔دلائل اسی باب میں ابھی کچھ پہلے عرض کئے گئے۔

۴؎  یعنی کام کاج کے اونٹ گایوں وغیرہ میں زکوۃ نہیں کیونکہ یہ تجارتی مال نہیں اسی طرح علوفہ یعنی گھر کا چارہ کھانے والے جانوروں میں زکوۃ واجب نہیں،یہ مسئلہ بھی پہلے گزر چکا۔

 



Total Pages: 441

Go To