Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

1810 -[17]

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَلْبَسُ أَوْضَاحًا مِنْ ذَهَبٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَنْزٌ هُوَ؟ فَقَالَ: «مَا بلغ أَن يُؤدى زَكَاتُهُ فَزُكِّيَ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں کہ  میں سونے کے کنگن پہناکرتی تھی میں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ بھی خزانہ کرنا ہے ۱؎ فرمایا جو وجوب زکوۃ کی حدکو پہنچے تو تم اس کی زکوۃ دیتی رہو تو خزانہ نہیں ۲؎(مالک وابوداؤد)

۱؎  خزانہ سے مراد وہ خزانہ ہے جس کی برائی قرآن کریم میں ہے"وَالَّذِیۡنَ یَکْنِزُوۡنَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ"الایہ۔سوال یہ فرما رہی ہیں کہ اس سونے کی تجارت تو کرنا نہیں ہے صرف پہننے کے لیے ہے تو کیا یہ بھی اس آیت کریمہ کی زد میں آیا ہے،وہ سمجھی یہ تھیں کہ جیسے پہننے کےکپڑوں میں زکوۃ نہیں تو ہوسکتا ہے کہ پہننے کے زیور میں بھی نہ ہو،انہیں یہ خیال نہ رہا کہ کپڑا ضروریات زندگی کی چیز ہے زیور ایسا نہیں۔

۲؎ اس حدیث سے بھی ثابت ہوا کہ استعمالی زیور پر زکوۃ ہے یہ حدیث بالکل صحیح ہے۔میرک نے فرمایا کہ اس کے راوی امام بخاری کے شیوخ میں سے ہیں،اسے حاکم اور ابن قطان نے بھی نقل فرمایا ابن قطان نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ (مرقاۃ)مطلب یہ ہے کہ اگر زیور کی زکوۃ نہ دی جائے تو یہ بھی کنز میں داخل ہے جس پر قرآن کریم میں سخت وعید آئی اگر زکوۃ دی جائے تو کنز نہیں۔

1811 -[18]

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نُخْرِجَ الصَّدَقَةَ مِنَ الَّذِي نُعِدُّ لِلْبَيْعِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو حکم دیتے تھے کہ اس مال کی زکوۃ دیں جو تجارت کے لیے رکھتے ہیں ۱؎(ابوداؤد)

۱؎ یعنی سونے چاندی میں تو بہرحال زکوۃ ہے تجارت کے لیے ہو یا پہننے کے لیے یا کسی اور مقصد کے لیے مگر ان دونوں کے علاوہ دوسرے مالوں میں زکوۃ جب ہوگی کہ تجارت کے لیے ہوں اس قاعدہ کلیہ میں تمام مال داخل ہیں حتی کہ کپڑے،زمین،غلہ،جانور بھی۔خیال رہے کہ جانوروں میں سائمہ کی زکوۃ اور ہے تجارتی کی زکوۃ کچھ اور،سائمہ کی زکوۃ تو وہ ہے جو پہلے ذکر ہوئی کہ پانچ اونٹ میں ایک بکری،دس میں دو الخ،مگر تجارتی اونٹ میں قیمت اگر دو سو درہم تک پہنچے تو چالیسواں حصہ،اسی طرح پیداوار کی زکوۃ اور ہے مگر دانہ،پھلوں کی زکوۃ کچھ اور۔پیداوار کی زکوۃ بیان ہوچکی کہ تھوڑی یا بہت زکوۃ واجب ہے دسواں یا بیسواں حصہ مگر ان کی تجارتی زکوۃ چالیسواں حصہ ہوئی جب کہ دوسو درہم کو پہنچیں لہذا یہ حدیث گزشتہ احادیث کے خلاف نہیں کہ یہاں تجارتی زکوۃ مراد ہے۔

1812 -[19]

وَعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ لِبِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ معادن الْقبلية وَهِيَ مِنْ نَاحِيَةِ الْفُرْعِ فَتِلْكَ الْمَعَادِنُ لَا تُؤْخَذُ مِنْهَا إِلَّا الزَّكَاةُ إِلَى الْيَوْمِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ربیعہ ابن ابی عبدالرحمن سے وہ چند راویوں سے راوی ۱؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال ابن حارث مزنی کو ۲؎ قبیلہ کی کانیں جاگیر دیں۳؎ قبیلہ مقام فرع کے اطراف میں واقع ہے تو ان کانوں سے آج تک زکوۃ کے سوا کچھ نہیں لیا جاتا ہے۴؎(ابوداؤد)

۱؎  یعنی حضرت ربیعہ ابن ابی عبدالرحمن نے جو بڑے مشہور تابعی ہیں جن کا لقب ربیعہ رائے ہے بہت سے صحابہ سے یہ حدیث نقل فرمائی۔

 



Total Pages: 441

Go To