We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۳؎ معلوم ہوا کہ جنگل کی چڑیاں اور ان کے بچے کسی کی ملک نہیں ہر شخص انہیں پکڑ سکتا ہے۔کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس فعل پر انہیں تنبیہ نہ فرمائی،وہاں ایسے بچوں کو ماں سے جدا نہ کیا جائے بلکہ انہیں مع ماں کے اپنے گھر میں پال لے یا ان کی جگہ پہنچادے،مگر کسی کا پالتو جانور اور اس کے بچے دوسرا آدمی نہیں پکڑ سکتا اگر پکڑے گا تو مجرم ہوگا۔

۴؎  صوفیاء فرماتے ہیں کہ عشق بے خوفی پیدا کرتا ہے اسی عشق سے دل میں قوت،بدن میں طاقت،طبیعت میں ہمت و جراءت پیدا ہوتی ہے۔دیکھو چڑیا انسان سے ڈرتی ہے مگر بچوں کے عشق نے اس کے دل سے ڈر،نفرت سب نکال دیا،بلکہ کبھی ایسی چڑیا انسان پر حملہ کردیتی جب دنیا کے عشق کا یہ حال ہے تو جسے اﷲ تعالٰی عشق مصطفی نصیب کرے اس میں دلیری کیوں نہ پیدا ہو جائے۔کربلا میں حسینی قافلہ بہتّر۷۲ آدمیوں پر مشتمل تھا اور مقابلہ میں بائیس ہزار یزیدی مگر،حسینی قافلہ کی ہمت شجاعت دلیری آج تک مشہور ہے یہ دلیری کہاں سے آئی انہی حضرت عشق کی کرشمہ سازی تھی۔

۵؎ یعنی اپنا کمبل زمین پر رکھ کر انہیں کھول دو تاکہ یہ نظارہ ہم سب بھی دیکھیں،معلوم ہوا کہ جانوروں کی حرکات کا تماشا دیکھنا اگر لہوو لعب کی نیت سے نہ ہو بلکہ عبرت حاصل کرنے کی نیت سے ہو تو جائز ہے۔حرکتوں سے مراد ان کا ناچ و کود نہیں،بلکہ وہ تو محض کھیل کود ہے۔

۶؎  یعنی لوگوں کا اتنا مجمع دیکھ کر بھی اپنے بچوں سے نہ بھاگی بلکہ اپنی جان پر کھیل کر انہیں اپنے پروں میں چھپائے رہی۔

۷؎  بندوں سے مراد سارے بندے ہیں مؤمن ہوں یا کافر متقی ہوں یا فاجر پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ بارگاہ الٰہی میں گناہوں سے نفرت ہے نہ گنہگار سے اسی رحمت کی بنا پر رب تعالٰی نے بندوں میں انبیاء و اولیاء بھیجے کا فریا مجرم خود اپنے کو مستحق کرلیتے ہیں رب تعالٰی ان کے جہنم میں جانے سے راضی نہیں مولانا عطار فرماتے ہیں۔شعر

خلق ترمبد از تو من تو سم ز خود                              کر تو نیکی دیدہ ام وزخویش

۸؎  اس عبارت کی دو قرأتیں ہیں اُمُّھُنَّ کا رفع اور زبر مرقات اور اشعۃ اللمعات نے پہلی قرأت اختیار کی اور اس جملہ کو حال قرار دیا یعنی ان چوزوں کی ماں ان چوزوں کے ساتھ رہی،دوسری قرأت کی بناء پر معنی یہ ہوں گے کہ ان بچوں کے ساتھ ان کی ماں کو بھی رکھ آؤ،اس سے معلوم ہوا کہ جانوروں کے چھوٹے بچوں کو ان کی ماں سے الگ نہ کیا جائے اسلام نے جانوروں پر بھی رحم کرنے کا حکم دیا۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

2378 -[15]

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ غَزَوَاتِهِ فَمَرَّ بِقَوْمٍ فَقَالَ: «مَنِ الْقَوْمُ؟» قَالُوا: نَحْنُ الْمُسْلِمُونَ وَامْرَأَةٌ تَحْضِبُ بِقِدْرِهَا وَمَعَهَا ابْنٌ لَهَا فَإِذَا ارْتَفَعَ وَهَجٌ تَنَحَّتْ بِهِ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَتْ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَلَيْسَ اللَّهُ أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ؟ قَالَ: «بَلَى» قَالَتْ: أَلَيْسَ اللَّهُ أَرْحَمَ بِعِبَادِهِ مِنَ الْأُم على وَلَدهَا؟ قَالَ: «بَلَى» قَالَتْ: إِنَّ الْأُمَّ لَا تُلْقِي وَلَدَهَا فِي النَّارِ فَأَكَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهَا فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ مِنْ عِبَادِهِ إِلَّا الْمَارِدَ الْمُتَمَرِّدَ الَّذِي يَتَمَرَّدُ عَلَى اللَّهِ وَأَبَى أَنْ يَقُولَ: لَا إِلَهَ إِلَّا الله ". رَوَاهُ ابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں ہم بعض جہادوں میں نبی کریم کے ساتھ تھے حضور انور ایک قوم پر گزرے پوچھا تم کون قوم۱؎ ہو وہ بولے ہم لوگ مسلمان ہیں ایک عورت ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہی تھی ۲؎ جس کے ساتھ اس کا بچہ تھا جب آگ بھڑک کر اونچی ہوتی تو عورت بچہ کو دور ہٹا دیتی ۳؎ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئی بولی کیا آپ رسول اﷲ ہیں۴؎ فرمایا ہاں بولی میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں کیا اﷲ تمام رحم والوں سے بڑھ کر رحیم نہیں ۵؎ فرمایا ہاں بولی کیا اﷲ اپنے بندوں پر ماں کے اپنے بچہ سے زیادہ مہربان نہیں ۶؎ فرمایا ہاں ۷؎ تو بولی کہ ماں تو اپنے بچہ کو آگ میں نہیں ڈالتی ۸؎ اس پر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے سرجھکالیا بہت روئے پھر سر مبارک اس کی طرف اٹھا کر فرمایا اﷲ تعالٰی اپنے بندوں میں صرف سرکش متکبر ہی کو عذاب دے گا جو اﷲ تعالٰی پر سرکشی کرے اور لا الہ الا اﷲ کہنے سے انکاری ہو ۹؎(ابن ماجہ)

 



Total Pages: 441

Go To