Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۲؎  یعنی اس سے پہلے اگرچہ چوری و زنا کرچکا ہو اگرچہ اس خوف کے بعد زنا و چوری کر بیٹھے تب بھی دو جنتیوں کا مستحق ہے۔

۳؎  یعنی اے ابوالدرداء اگر تم سوال کرتے کرتے اپنی ناک بھی رگڑ دو تب بھی حکم یہی رہے گا کہ اﷲ سے ڈرنے والا دو جنتوں کا مستحق ہے خواہ اس سے قبل کتنے ہی بڑے گناہ کیوں نہ کرچکا ہو اور اگرچہ اس کے بعد بھی غلطی سے گناہ کر بیٹھے۔خوف الٰہی وہ صابن ہے جو دل کے سارے میل دھو ڈالتا ہے یا وہ سورج ہے جس کی کرنیں گندی سے گندی زمین کو خشک کردیتی ہیں حتی کہ اگر مؤمن کو مرتے وقت بھی خوفِ خدا نصیب ہوجائے اور اسی حال میں مرجائے تو ان شاءاﷲ وہ بھی اس آیت کے ماتحت داخل ہے۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ خائف سے مراد مؤمن ہے،مطلب یہ ہے کہ مؤمن کتنا ہی بڑا گنہگار کیوں نہ ہو مگر آخر کار دو جنتوں کا مستحق ہوگا،ایک اپنے ایمان کی جنت دوسرے رب کی عطا یا کافر کی میراث کی،معافی پا کر وہاں پہنچے یا سزا پاکر۔

2377 -[14]

وَعَنْ عَامِرٍ الرَّامِ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ يَعْنِي عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ عَلَيْهِ كِسَاءٌ وَفِي يَدِهِ شَيْءٌ قَدِ الْتَفَّ عَلَيْهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَرَرْتُ بَغِيضَةِ شَجَرٍ فَسَمِعْتُ فِيهَا أَصْوَاتَ فِرَاخِ طَائِرٍ فَأَخَذْتُهُنَّ فَوَضَعْتُهُنَّ فِي كِسَائِي فَجَاءَتْ أُمُّهُنَّ فَاسْتَدَارَتْ عَلَى رَأْسِي فَكَشَفْتُ لَهَا عَنْهُنَّ فَوَقَعَتْ عَلَيْهِنَّ فَلَفَفْتُهُنَّ بِكِسَائِي فَهُنَّ أُولَاءِ مَعِي قَالَ: «ضَعْهُنَّ» فَوَضَعْتُهُنَّ وَأَبَتْ أُمُّهُنَّ إِلَّا لُزُومَهُنَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أتعجبون لرحم أم الْفِرَاخ فراخها؟ فو الَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ: لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ أُمِّ الْفِرَاخ بِفِرَاخِهَا ارْجِعْ بِهِنَّ حَتَّى تَضَعَهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُنَّ وَأُمُّهُنَّ مَعَهُنَّ ". فَرَجَعَ بِهِنَّ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت عامر الرام سے۱؎ فرماتے ہیں کہ ہم ان کے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس حاضر تھے کہ ناگہاں ایک شخص آیا جس پر کمبل تھا اس کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جس پر کمبل لپیٹا تھا عرض کیا یارسول اﷲ میں ایک درخت کی جھاڑی پر گزرا تو میں نے اس جھاڑی میں چڑیا کے چوزوں کی آواز سنی ۲؎ میں نے انہیں پکڑ لیا اور اپنے کمبل میں رکھ لیا ۳؎ اتنے میں ان کی ماں آگئی وہ میرے سر پر چکر لگانے لگی میں نے اس کے سامنے وہ بچے کھول دیئے وہ ان پر گر پڑی ۴؎ میں نے ان سب کو اپنے کمبل میں لپیٹ لیا وہ سب یہ میرے ساتھ ہیں فرمایا انہیں رکھ دو ۵؎ میں نے رکھ دیا ان کی ماں انہیں چمٹی رہی ۶؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کیا تم ان چوزوں کی ماں کی اپنے بچوں سے اتنی مامتا پر تعجب کرتے ہو اس کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا اﷲ تعالٰی اپنے بندوں پر اس سے زیادہ مہربان ہے جتنی بچوں کی ماں چوزوں ۷؎ پر انہیں واپس لے جاؤ حتی کہ انہیں وہاں ہی رکھ آؤ جہاں سے پکڑا ہے اور ان کی ماں ان کے ساتھ رہی وہ انہیں واپس لے گیا ۸؎ (ابوداؤد)

۱؎ رام اصل میں رامی تھا،بمعنی تیرانداز چونکہ یہ فن تیر اندازی میں یکتا تھے اس لیے ان کا نام عام رام پڑ گیا۔

۲؎ غیضہ وہ جنگل ہے جہاں بہت گھنے درخت ہوں جسے اردو میں جھاڑی کہتے ہیں کبھی اس درخت کو کبھی غیضہ کہہ دیتے ہیں جس کی جڑ ایک ہوتنے اور شاخیں بہت ہوں اور گھنی ہوں جن سے دھوپ نہ چھن سکے۔یہاں دوسرے معنی ظاہر ہیں،یہ حضرت چرواہے تھے جو جانوروں کو چرانے کے لیے دوردور نکل جاتے ہیں ایسے واقعات ان کو زیادہ درپیش آتے ہیں فراخ جمع فرخ کی ہے فرخ چڑیا کا وہ بچہ ہے جو ابھی اڑ نہ سکے اور اس کی ماں اسے دانہ دے۔

 



Total Pages: 441

Go To